اسلام کا احسان اور مولوی کی ذمہ داریاں
مضمون کے اہم نکات
بعض لوگ مسلمان ہونے کے باوجود یہ تاثر دیتے ہیں کہ انہوں نے مولوی پر بڑا احسان کیا ہے کہ وہ مسلمان ہو گئے ہیں، اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ مولوی ہمیشہ ان کی ایمان کو برقرار رکھنے کے لیے کوشش کرتا رہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مولوی ان کی ایمانی قوت کو بڑھانے کے لیے مختلف ترکیبیں استعمال کرے۔ جب ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جائے تو ان کا انداز ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی بچہ بہانہ تلاش کر رہا ہو کہ اسکول نہ جانا پڑے۔
قرآنی ہدایت اور نفسیات
قرآن پاک ان کی نفسیات کو واضح کرتا ہے: "یمنون علیک ان اسلموا” (یہ لوگ اسلام لانے کا احسان جتاتے ہیں)، اور نبی کریمﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ "قل لا تمنوا علی اسلامکم” (انہیں کہہ دیجیے کہ اپنے اسلام کا احسان نہ دھرو)۔
عوام کی خوشامد کی توقعات
یہ افراد اس بات کے بھی عادی ہیں کہ مولوی ان کی خوشامد کرے اور انہیں عزت و تکریم کے الفاظ میں مخاطب کرے۔ ورنہ ان کا ردعمل ہوتا ہے کہ "مولویوں نے آج کل ایمان خراب کر دیا ہے”۔ ان کے نزدیک ایمان مولوی کے ہاتھ میں ایک ایسی شے بن جاتی ہے جیسے چوسنی جو ہمیشہ ان کے منہ میں ہو۔ اگر ان کا ایمان خراب ہو تو وہ مولوی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں تاکہ قیامت کے دن اس پر الزام عائد کر سکیں۔
دینی تعلیمات پر نکتہ چینی
یہ لوگ چاہتے ہیں کہ مولوی نہ صرف ان کی طرف سے دینی تعلیمات کا مطالعہ کرے بلکہ جب انہیں دین کی کوئی بات بتائی جائے تو وہ اس پر بھی نکتہ چینی کریں۔ اسی طرح بعض لوگ مولوی کو اس حد تک کم درجہ سمجھتے ہیں کہ اسے آسانی سے تنقید کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔
عوامی مسائل اور مولوی
بعض اوقات مولوی حضرات کا کام عوام کی نفسیاتی تنقید کا نشانہ بننا بھی بن جاتا ہے۔ لوگ مسجد میں آ کر اپنی پریشانیاں مولوی پر اتارتے ہیں، اور پھر اسے ان کے ایمان اور دین داری کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں۔
والدین کی تربیت کی ناکامی اور مولوی
مولوی حضرات پر عوام کے مسائل کا بوجھ بھی ڈال دیا جاتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کی تربیت کی ناکامی کا ذمہ دار بھی مولوی کو قرار دیتے ہیں، حالانکہ بچے والدین کے زیر سایہ زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ مولوی پر یہ ذمہ داری ڈالنا کہ وہ ان کی اولاد کو مکمل طور پر سدھار دے، غیر منطقی ہے۔
عوامی تنقید کا نشانہ بننا
بعض اوقات مولوی حضرات کو عوام کے طنز و طعن کا نشانہ بھی بننا پڑتا ہے، جیسے کسی عالم نے واقعہ سنایا کہ ایک مسجد میں ایک مقتدی ہمیشہ مولوی میں نقص نکالنے کی کوشش کرتا تھا۔ تاہم، اس عالم نے اس مقتدی کے نکتہ چینیوں کا حکمت سے جواب دیا اور یوں اس مسجد کی اس شخص سے جان چھوٹ گئی۔
خلاصہ
➊ بعض لوگ اسلام لانے کا احسان جتاتے ہیں اور مولوی سے ہمیشہ خوشامد کی توقع رکھتے ہیں۔
➋ عوام دین کی تعلیمات کو سمجھنے کے بجائے مولوی پر تنقید اور طنز کے ذریعے اپنی کمزوریوں کا الزام عائد کرتے ہیں۔
➌ والدین اپنی اولاد کی تربیت کی ناکامی کا بوجھ مولوی حضرات پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ تربیت والدین کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔
➍ بعض لوگ مولوی کو عوامی خدمتگار کی حیثیت سے کم سمجھتے ہیں اور اس پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔