مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

موطا امام مالک سے رفع یدین کے 3 مقامات کی وضاحت

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاوی علمیہ، جلد 1، کتاب الصلاة، صفحہ 354
مضمون کے اہم نکات

مسئلہ رفع یدین اور موطا امام مالک – وضاحت

سوال

رفع یدین اور موطا امام مالک کے حوالے سے سوال

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

موطا امام مالک میں رفع یدین سے متعلق احادیث کا جائزہ

سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کی روایت

یہ وضاحت ضروری ہے کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کی روایت موطا امام مالک میں موجود نہیں ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت

البتہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول رفع یدین کی روایت موطا امام مالک میں موجود ہے۔ وہ روایت حسبِ ذیل ہے:

مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم، كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ، رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ. وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، رَفَعَهُمَا كَذلِكَ أَيْضاً. وَقَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَكَانَ لاَ يَفْعَلُ ذلِكَ فِي السُّجُودِ
(موطا امام مالک، ص 13، حدیث : 59، روایت: عبدالرحمن بن قاسم)

رفع یدین کے تین مقامات کی تصریح

اس روایت میں تین واضح مقامات پر رفع یدین کا ذکر ہے:

◈ نماز کے آغاز میں
◈ رکوع سے پہلے
◈ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد

یہ تینوں مقامات موطا امام مالک کی مذکورہ روایت سے ثابت ہیں۔

امام بخاری اور امام مالک کی روایت کا موازنہ

روایت کی سند اور متن

امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی یہی روایت نقل فرمائی ہے اور اس کی سند اور متن موطا امام مالک کے مطابق بالکل ایک جیسا ہے۔

مدینہ کے امام (امام مالک) اور بخارا کے امام (امام بخاری) کی روایت میں کوئی اختلاف نہیں۔

شہادت: دسمبر 2001

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔