مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

موزوں پر مسح کا حکم کیا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

موزوں پر مسح کا حکم کیا ہے؟

جواب:

موزوں پر مسح کرنا جائز اور مشروع ہے۔ اس پر احادیث متواترہ اور اجماع امت دلیل ہیں۔
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852 ھ) فرماتے ہیں:
’’حفاظ حدیث کی ایک بڑی جماعت نے صراحت کی ہے کہ موزوں پر مسح کے بارے میں احادیث متواتر ہے۔‘‘
(فتح الباري: 306/1)
❀ امام ابو جعفر قتيبہ بن سعید رحمہ اللہ (240 ھ) فرماتے ہیں:
’’یہ ائمہ اسلام اور اہل سنت کا اتفاقی و اجماعی عقیدہ ہے کہ موزوں پر مسح کرنا جائز ہے۔‘‘
(شعار أصحاب الحديث للحاكم الكبير، ص 30، وسندہ صحیح)
❀ علامہ ابن بطال رحمہ اللہ (449 ھ) فرماتے ہیں:
’’موزوں پر مسح کے جواز پر اہل علم کا اتفاق ہے۔‘‘
(شرح صحيح البخاري: 304/1)
❀ علامہ ابن قطان فاسی رحمہ اللہ (628 ھ) فرماتے ہیں:
’’موزوں پر مسح کا انکار صرف بدعتی کرتا ہے، جو مسلمانوں کی جماعت سے خارج ہے۔ اس مسئلہ میں حجاز و عراق کے فقہا اور محدثین کے مابین کوئی اختلاف نہیں۔ اہل علم کا جم غفیر اس کے جواز کا قائل ہے، جس کا غلطی اور جھوٹ پر جمع ہونا ناممکن ہے۔ وہ جمہور صحابہ، تابعین اور فقہائے مسلمین ہیں۔ موزوں پر مسح کے جواز پر اہل علم کا اتفاق ہے۔‘‘
(الإقناع في مسائل الإجماع: 88/1)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔