مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته موزوں اور جرابوں وغیرہ پر مسح کرنے کا حکم کیا ہے؟
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته! الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ہمارا دین ایک آسان دین ہے، یہ سختی اور مشقت والا دین نہیں۔ شریعتِ اسلامیہ کے احکام انسان کے حالات کے مطابق ہیں، جو مصلحت کے زیادہ قریب اور مشقت سے زیادہ دور ہیں۔ انہی آسانیوں میں سے بعض احکام وضو سے بھی متعلق ہیں۔
◈ اگر کسی مسلمان نے وضو کے اعضاء پر ایسی کوئی چیز پہن رکھی ہو یا باندھی ہو جس کی اسے واقعی ضرورت ہو، اور اسے اتارنے میں دشواری ہو، مثلاً:
✔ پاؤں کی حفاظت کے لیے موزے یا جرابیں
✔ سر کی حفاظت کے لیے پگڑی
✔ کسی زخم کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے پٹی
تو ایسی حالت میں شارعِ علیہ السلام نے اسے اس چیز کو اتار کر عضو کو دھونے کی تکلیف نہیں دی، بلکہ اس پر مسح کرنے کی اجازت دی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے تخفیف، آسانی اور مشقت سے بچاؤ ہے۔
موزوں اور جرابوں پر مسح کا ثبوت
اگر کوئی مسلمان، چاہے وہ مقیم ہو یا مسافر، موزے یا جرابیں پہنے ہوئے ہو تو ان کو اتار کر پاؤں دھونے کے بجائے ان پر مسح کرنا بالکل صحیح ہے، اور یہ مرفوع احادیث سے ثابت ہے، جو کثرتِ طرق کی بنا پر درجۂ تواتر تک پہنچتی ہیں۔
◈ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"مُجھے ستر (70) کے قریب صحابۂ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے یہ خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر مسح کیا کرتے تھے۔”
[الاوسط لابن المنذر 1/430]
◈ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
"موزوں پر مسح سے متعلق احادیث بہت سے صحابۂ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے منقول ہیں۔”
[شرح مسلم للنووی 3/210]
◈ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"موزوں پر مسح کے بارے میں میرے دل میں ذرا برابر بھی شک نہیں، میرے علم کے مطابق اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے چالیس احادیث مروی ہیں۔”
[المغنی والشرح الکبیر 1/316]
◈ امام عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے:
"موزوں پر مسح کے جواز میں صحابۂ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں تھا۔”
[الاوسط لابن المنذر 1/434، فتح الباری 1/305]
◈ امام ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر ائمہ نے موزوں پر مسح کے جواز پر امت کے علماء کا اجماع نقل کیا ہے۔
[الاوسط لابن المنذر 1/434]
◈ اس مسئلے پر اہلِ سنت والجماعت کا مکمل اتفاق ہے، سوائے اہلِ بدعت کی ایک قلیل جماعت کے جو اس کے جواز کی قائل نہیں۔
موزوں پر مسح کی شرعی حیثیت
موزوں پر مسح کا حکم "رخصت” کا ہے، اور بہتر یہی ہے کہ موزے اتار کر پاؤں دھونے کے بجائے ان پر مسح کیا جائے، کیونکہ:
✔ اس میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصت کو قبول کرنا ہے
✔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا اور پیروی ہے
✔ اور بدعتی گروہوں (منکرینِ مسح) کی مخالفت ہے، جو مطلوب ہے
◈ جن اعضاء پر موزے، جرابیں، پگڑی یا پٹی بندھی ہو، ان پر مسح کرنا دھونے کے حکم میں شمار ہوتا ہے۔
◈ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکلف سے کام نہیں لیتے تھے، بلکہ جیسی حالت ہوتی اسی کے مطابق عمل فرما لیتے تھے:
❀ اگر موزے یا جرابیں پہنی ہوتیں تو ان پر مسح فرماتے
❀ اور اگر نہ ہوتیں تو پاؤں دھو لیتے
◈ صرف مسح کرنے کے لیے خاص طور پر موزے یا جرابیں پہننا درست نہیں۔
[اس کی کوئی دلیل نہیں لہٰذا ایسا کرنے میں حرج نہیں]
مسح کی مدت کا حکم
◈ اگر کوئی شخص:
✔ مقیم ہو
✔ یا ایسا مسافر ہو جس کے سفر میں نماز قصر جائز نہ ہو
تو اس کے لیے مسح کی مدت ایک دن اور ایک رات ہے۔
◈ اور اگر وہ ایسا مسافر ہو جس کے سفر میں نماز قصر جائز ہو، تو اس کے لیے مسح کی مدت تین دن اور تین راتیں ہے۔
اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن اور ان کی راتیں مقرر فرمائیں، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات۔”
[صحیح مسلم، الطہارۃ، باب التوقیت فی المسح علی الخفین، حدیث: 276؛ مسند احمد 1/96 واللفظ لہ]
مدتِ مسح کی ابتداء
◈ چاہے آدمی مقیم ہو یا مسافر، دونوں صورتوں میں مسح کی مدت اس وقت سے شروع ہوگی جب:
✔ موزے یا جرابیں پہننے کے بعد حدث (وضو ٹوٹنا) واقع ہو
کیونکہ:
❀ حدث ہی وضو کو واجب کرتا ہے
❀ اور مسح کا جواز بھی حالتِ حدث سے ہی شروع ہوتا ہے
لہٰذا مدتِ مسح کا آغاز اسی وقت سے مانا جائے گا جس وقت مسح کا جواز شروع ہوا۔
◈ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ مدتِ مسح اس وقت شروع ہوتی ہے جب حدث کے بعد پہلی مرتبہ مسح کیا جائے۔
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب