مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

موزوں اور جرابوں پر مسح کا شرعی حکم اور وضو کی مدت

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ ارکان اسلام

موزوں اور جرابوں پر مسح کا حکم اور مدتِ مسح کا بیان

سوال:

طہارت میں احتیاط کے پیشِ نظر ہر وضو کے لیے جرابیں اتارنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

  • ہر وضو کے وقت جرابیں یا موزے اتارنا سنت کے خلاف عمل ہے۔
  • ایسا کرنا ان روافض (گمراہ فرقوں) سے مشابہت رکھتا ہے جو موزوں پر مسح کو جائز نہیں سمجھتے۔

نبی کریم ﷺ کی واضح ہدایت:

جب حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے موزے اتارنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں روکتے ہوئے فرمایا:

«دَعْهُمَا فَاِنِّیْ اَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ»
(صحیح البخاري، الوضوء، باب اذا ادخل رجليه وهما طاهرتان، ح:۲۰۶ وصحیح مسلم، الطهارة، باب المسح علی الخفين، ح:۲۷۴، ۷۹)
"انہیں چھوڑ دیں کیونکہ میں نے انہیں پاک (وضو کی) حالت میں پہنا ہے۔”

اس کے بعد آپ ﷺ نے ان موزوں پر مسح فرمایا۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔