موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونا: قیامت، حساب، اور صور کے مناظر قرآن و حدیث سے

فونٹ سائز:
ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

سب سے پہلی بنیادی بات یہ ہے کہ ہر انسان کو موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے۔ یہ عقیدہ صرف ایک نظری بات نہیں بلکہ قرآنِ کریم کا قطعی فیصلہ ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا أَن لَّن یُبْعَثُوا قُلْ بَلَی وَرَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ﴾
التغابن 64:7

ترجمہ:
“کافروں کا خیال یہ ہے کہ انہیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔ کہہ دیجئے کہ کیوں نہیں، اللہ کی قسم! تمہیں ضرور بالضرور اٹھایا جائے گا۔ پھر جو کچھ تم نے کیا ہے اس کی تمہیں خبر دی جائے گی، اور یہ کام اللہ پر انتہائی آسان ہے۔”

یہ آیت اس حقیقت پر مہر لگا دیتی ہے کہ انکار کرنے والوں کا گمان باطل ہے، اور قیامت میں ہر عمل کی خبر اور حساب ضرور ہوگا۔

قربِ قیامت: وہ دن بہت قریب ہے

دوسری اہم بات یہ ہے کہ جس دن اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے وہ دن بہت قریب ہے، اگرچہ لوگ اسے دور سمجھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿تَعْرُجُ الْمَلَائِکَۃُ وَالرُّوحُ إِلَیْْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہُ خَمْسِیْنَ أَلْفَ سَنَۃٍ ۝ فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلاً ۝ إِنَّہُمْ یَرَوْنَہُ بَعِیْدًا ۝ وَنَرَاہُ قَرِیْبًا﴾
المعارج 70:4-7

ترجمہ:
“جس کی طرف فرشتے اور روح چڑھ کر جاتے ہیں، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہے۔ پس آپ اچھی طرح صبر کریں۔ بے شک یہ اس کو دور سمجھ رہے ہیں اور ہم اسے قریب ہی دیکھتے ہیں۔”

قیامت کی ہولناکی اور طویل عرصہ کا ذکر انسان کو جھنجھوڑ دیتا ہے کہ یہ دن آسان نہیں، اور جسے ہم دور سمجھ رہے ہیں اللہ کے نزدیک وہ قریب ہے۔

اسی مضمون کو رسول اللہ ﷺ نے نہایت بلیغ انداز میں سمجھایا:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
(( بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ وَضَمَّ السَّبَّابَۃَ وَالْوُسْطیٰ ))
صحیح مسلم: 2949

ترجمہ:
“میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں جیسے یہ دو انگلیاں ہیں۔” (آپ ﷺ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر اشارہ فرمایا)

اس حدیث کا ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں، آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا، بلکہ اس کے بعد قیامت ہی ہے، جیسے شہادت کی انگلی کے بعد درمیان والی انگلی ہی ہوتی ہے اور ان کے درمیان کوئی تیسری انگلی نہیں۔

قیامت کب آئے گی؟ یہ علم صرف اللہ کے پاس ہے

بعض لوگ قیامت کے وقت کے بارے میں بار بار سوال کرتے ہیں، مگر قرآن و سنت کا فیصلہ یہ ہے کہ اس کا علم اللہ کے سوا کسی کے پاس نہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿یَسْأَلُونَکَ عَنِ السَّاعَۃِ أَیَّانَ مُرْسَاہَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُہَا عِندَ رَبِّیْ لاَ یُجَلِّیْہَا لِوَقْتِہَا إِلاَّ ہُوَ ثَقُلَتْ فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ لاَ تَأْتِیْکُمْ إِلاَّ بَغْتَۃً یَسْأَلُونَکَ کَأَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْہَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُہَا عِندَ اللّٰہِ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُونَ﴾
الأعراف 7:187

ترجمہ:
“یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہے۔ اسے اس کے وقت پر صرف وہی ظاہر کرے گا۔ وہ آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا۔ وہ تم پر اچانک آ پڑے گی۔ وہ آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کر چکے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔”

اسی مضمون کو ایک اور مقام پر یوں فرمایا:

﴿یَسْأَلُونَکَ عَنِ السَّاعَۃِ أَیَّانَ مُرْسَاہَا ۝ فِیْمَ أَنتَ مِن ذِکْرَاہَا ۝ إِلَی رَبِّکَ مُنتَہَاہَا ۝ إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرُ مَن یَخْشَاہَا ۝ کَأَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَہَا لَمْ یَلْبَثُوا إِلَّا عَشِیَّۃً أَوْ ضُحَاہَا﴾
النازعات 79:42-46

ترجمہ:
“وہ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے وقوع پذیر ہونے کا وقت کون سا ہے؟ اس کے بیان کرنے سے آپ کا کیا تعلق ہے؟ اس کے علم کی انتہا تو آپ کے رب کی جانب ہے۔ آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں ان لوگوں کو جو اس سے ڈرتے ہیں۔ جس روز یہ اسے دیکھ لیں گے تو انہیں ایسے لگے گا کہ جیسے وہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول حصہ ہی (دنیا میں) رہے ہیں۔”

اور حدیثِ جبریل میں نبی کریم ﷺ نے قیامت کے وقت کے بارے میں دو ٹوک جواب دیا:

(( مَا الْمَسْؤُوْلُ عَنْہَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ))
صحیح البخاری: 50، صحیح مسلم: 8

ترجمہ:
“جس سے اس کے متعلق سوال کیا جا رہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔”

یعنی قیامت کے وقت کی تعیین نہ نبی ﷺ کو دی گئی، نہ فرشتے کو؛ یہ علم اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے۔

علاماتِ قیامت — چھوٹی اور بڑی نشانیاں، اور حدیثِ جبریل کی تفصیل

قیامت کے قائم ہونے کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، لیکن رحمتِ نبوی ﷺ کا تقاضا یہ تھا کہ امت کو غفلت سے جگانے اور توبہ و اصلاح کی طرف متوجہ کرنے کیلئے قیامت کی متعدد نشانیاں بیان فرما دیں۔ ان نشانیوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ انسان محض معلومات اکٹھی کرے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ وہ اچانک آنے والی گھڑی سے پہلے اپنے رب کی طرف لوٹ آئے، ایمان و عمل کی فکر کرے اور آخرت کی تیاری کرے۔

علاماتِ قیامت کی تقسیم: چھوٹی اور بڑی

علماء نے قیامت کی نشانیوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے:

① علاماتِ صغریٰ (چھوٹی نشانیاں)

یہ وہ نشانیاں ہیں جو بڑی نشانیوں سے پہلے ظاہر ہوتی ہیں اور عمومی طور پر زمانے میں بتدریج بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ مثلاً:
❀ علم کا اٹھ جانا
❀ جہالت کا پھیل جانا اور جاہلوں کا بڑے بڑے عہدوں تک پہنچ جانا
❀ آلاتِ موسیقی کا بکثرت رواج پانا
❀ سرِعام اور بکثرت شراب نوشی
❀ لمبی لمبی عمارتیں بنانا
❀ مساجد کے نقش و نگار میں مبالغہ
❀ بچوں کا حکومت کرنا
❀ امت کے آخری لوگوں کا پہلے لوگوں پر لعنت بھیجنا
❀ قتل و غارت گری کا عام ہونا وغیرہ

② علاماتِ کبریٰ (بڑی نشانیاں)

یہ وہ نشانیاں ہیں جو قیامت سے کچھ عرصہ پہلے یکے بعد دیگرے ظاہر ہوں گی۔ مثلاً:
❀ دجال کا آنا
❀ امام مہدی کا ظہور
❀ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور دجال کو قتل کرنا
❀ یاجوج ماجوج کا ظاہر ہونا
❀ دابۃ الأرض (زمین کے مخصوص جانور) کا نکلنا
❀ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا وغیرہ

حدیثِ جبریل: قیامت کی نشانیاں

حدیثِ جبریل میں جب حضرت جبریل علیہ السلام نے قیامت کے وقت کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

(( مَا الْمَسْؤُوْلُ عَنْہَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ))

ترجمہ:
“جس سے اس کے متعلق سوال کیا جا رہا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔”
(صحیح البخاری:50، صحیح مسلم:8)

پھر جب حضرت جبریل علیہ السلام نے عرض کیا: “مجھے اس کی نشانیوں کے بارے میں بتائیں” تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( أَنْ تَلِدَ الْأمَۃُ رَبَّتَہَا،وَأَنْ تَرَی الْحُفَاۃَ الْعُرَاۃَ الْعَالَۃَ رِعَائَ الشَّائِ یَتَطَاوَلُوْنَ فِی الْبُنْیَانِ ))

ترجمہ:
“یہ کہ ایک لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے۔ اور تو یہ دیکھے کہ ننگے پاؤں چلنے والے، ننگے جسموں والے، فقراء اور بکریوں کے چرواہے تعمیر میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔”

ایک روایت میں ہے:

(( إِذَا وَلَدَتِ الْأمَۃُ رَبَّہَا فَذَاکَ مِنْ أَشْرَاطِہَا،وَإِذَا کَانَتِ الْعُرَاۃُ الْحُفَاۃُ رُؤُسَ النَّاسِ فَذَاکَ مِنْ أَشْرَاطِہَا ))
صحیح البخاری:50، صحیح مسلم:8 و 9

ترجمہ:
“جب ایک لونڈی اپنے آقا کو جنم دے تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہوگی۔ اور جب ننگے جسموں والے، ننگے پاؤں چلنے والے لوگوں کے سردار بن جائیں گے تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہوگی۔”

“لونڈی اپنے آقا/مالکہ کو جنم دے گی” — اس کے مختلف اقوال

اس جملے کے متعلق اہلِ علم نے کئی توجیہات بیان کی ہیں، جن میں چند یہ ہیں:

➊ وکیع رحمہ اللہ کا قول:
لونڈی کے اپنی مالکہ یا اپنے آقا کو جنم دینے سے مراد یہ ہے کہ عجمی عربوں کو جنم دیں۔

➋ ایک قول یہ ہے کہ:
لونڈیوں کے مالک اپنی لونڈیوں کو بیچیں گے، پھر ممکن ہے خود انہی کی اولاد انہیں خرید لے اور انہیں معلوم نہ ہو کہ یہ ان کی مائیں ہیں۔ یوں اولاد ان کی آقا بن جائے گی، گویا انہوں نے اپنے آقا کو جنم دیا۔

➌ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد عقوقِ والدین ہے:
یعنی بیٹا اپنی ماں سے ایسا سلوک کرے گا جیسا ایک آقا اپنی لونڈی سے کرتا ہے۔

➍ موجودہ دور کے حوالے سے یہ بات بھی بیان کی گئی کہ:
بعض کفار اپنی نوکرانیوں کے ذریعے ٹیسٹ ٹیوب بے بی حاصل کرتے ہیں، یہ (تلد الأمۃ ربتہا) کا حقیقی معنی ہے۔

➎ ایک توجیہ یہ بھی بیان کی گئی کہ:
ایک مسلمان عورت کو حمل کی حالت میں قیدی بنایا جائے گا یا بچے سمیت قید کیا جائے گا، پھر ماں بیٹے کو جدا کر دیا جائے گا، پھر وہ بچہ جوان ہو کر لاعلمی میں اپنی ماں سے شادی کر لے (جیسا کہ اندلس میں ہوا)۔

یہ بات نبی کریم ﷺ کے فرمان کے بھی موافق بتائی گئی ہے:

(( إِذَا وَلَدَتِ الْأمَۃُ بَعْلَہَا ))
صحیح مسلم:9

ترجمہ:
“جب ایک لونڈی اپنے خاوند کو جنم دے گی۔”

مزید علاماتِ قیامت — فتنوں کا ظہور، قتل و غارت، علم کا اٹھ جانا، اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا

قیامت کی چھوٹی نشانیوں میں سے بہت سی نشانیاں ایسی ہیں جن کا ذکر رسول اللہ ﷺ نے تفصیل کے ساتھ فرمایا ہے تاکہ امت ان حالات کو دیکھ کر غفلت میں مبتلا نہ ہو بلکہ توبہ، اصلاح اور رجوع الی اللہ کی فکر کرے۔ ان علامات میں فتنوں کا پھیل جانا، قتل و غارت کا عام ہونا، علم کا اٹھ جانا اور دنیا کی محبت کا حد سے بڑھ جانا خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں۔

قیامت سے پہلے بڑے فتنوں اور عمومی بگاڑ کا ذکر

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

(( لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِیْمَتَانِ تَکُونُ بَیْنَہُمَا مَقْتَلَۃٌ عَظِیْمَۃٌ دَعْوَتُہُمَا وَاحِدَۃٌ،وَحَتّٰی یُبْعَثَ دَجَّالُونَ کَذَّابُونَ قَرِیْبٌ مِنْ ثَلَاثِیْنَ کُلُّہُمْ یَزْعَمُ أَنَّہُ رَسُولُ اللّٰہِ،وَحَتّٰی یُقْبَضَ الْعِلْمُ،وَتَکْثُرَ الزَّلَازِلُ،وَیَتَقَارَبَ الزَّمَانُ،وَتَظْہَرَ الْفِتَنُ،وَیَکْثُرَ الْہَرَجُ وَہُوَ الْقَتْلُ،وَحَتّٰی یَکْثُرَ فِیْکُمُ الْمَالُ فَیَفِیْضَ حَتّٰی یُہِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ یَّقْبَلُ صَدَقَتَہُ وَحَتّٰی یَعْرِضَہُ فَیَقُولُ الَّذِیْ یَعْرِضُہُ عَلَیْہِ:لاَ أَرَبَ لِیْ بِہٖ،وَحَتَّی یَتَطَاوَلَ النَّاسُ فِی الْبُنْیَانِ،وَحَتّٰی یَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَیَقُولُ:یَا لَیْتَنِی مَکَانَہُ،وَحَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَّغْرِبِہَا… ))
صحیح البخاری:7121، صحیح مسلم

ترجمہ:
“قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دو بڑی جماعتیں آپس میں قتال کریں گی اور ان کے درمیان بہت بڑی جنگ ہوگی حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہوگا، اور یہاں تک کہ قریب تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے، جن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، اور یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا، زلزلے بکثرت ہوں گے، وقت قریب ہو جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے، قتل عام ہو جائے گا، مال بہت زیادہ ہو جائے گا یہاں تک کہ صاحبِ مال صدقہ دینے والا تلاش کرتا پھرے گا مگر کوئی لینے والا نہ ہوگا، لوگ عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے، اور ایک آدمی دوسرے کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا: کاش! میں اس کی جگہ ہوتا، اور یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہوگا…”

پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے، لیکن اس وقت ایمان فائدہ نہ دے گا۔

سورج کے مغرب سے طلوع ہونے پر ایمان کا فائدہ نہ ہونا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿لاَ یَنْفَعُ نَفْسًا إِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِیْ إِیْمَانِہَا خَیْرًا﴾
الأنعام 6:158

ترجمہ:
“اس وقت کسی ایسے شخص کا ایمان اس کے کام نہ آئے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو۔”

قیامت کی اچانک آمد

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت اتنی اچانک آئے گی کہ لوگ اپنے روزمرہ کاموں میں مشغول ہوں گے مگر انہیں پورا کرنے کی مہلت نہ ملے گی:

(( قِیَامَۃُ السَّاعَۃِ… ))

“دو آدمی کپڑا کھول کر خرید و فروخت کر رہے ہوں گے مگر نہ سودا مکمل ہوگا، نہ کپڑا لپیٹا جائے گا… ایک شخص دودھ دوہ چکا ہوگا مگر پی نہ سکے گا… ایک شخص لقمہ منہ کی طرف اٹھا چکا ہوگا مگر کھا نہ سکے گا۔”
صحیح البخاری:7121

سرزمینِ حجاز سے آگ کا نکلنا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ تُضِیْئُ أَعْنَاقَ الْإِبِلِ بِبُصْرٰی ))
صحیح البخاری:7118، صحیح مسلم:2902

ترجمہ:
“قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ سرزمینِ حجاز سے ایک آگ نکلے گی جو بصریٰ (شام کا شہر) میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی۔”

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حدیث کی شرح میں نقل کیا ہے کہ یہ آگ 654ھ میں مدینہ منورہ کے مشرق میں ظاہر ہوئی تھی اور اسے مکہ مکرمہ اور بصریٰ تک سے دیکھا گیا۔
فتح الباری، کتاب الفتن: 13/98

علماء کی وفات اور علم کا اٹھ جانا

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

(( إِنَّ اللّٰہَ لَا یَنْزِعُ الْعِلْمَ… ))
صحیح البخاری:100، 7307؛ صحیح مسلم:2673

ترجمہ:
“اللہ تعالیٰ علم کو ایک دم نہیں چھینے گا بلکہ علماء کو ان کے علم سمیت اٹھا لے گا، یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہ رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گے۔ وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔”

یہ علامت آج کے دور میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے کہ کتاب و سنت کے حامل علماء کم ہوتے جا رہے ہیں اور جاہل لوگ دین کے نام پر رہنمائی کے منصب پر فائز ہیں۔

امانتداری کا خاتمہ، بدکاری و شراب نوشی، عورتوں کی کثرت اور یہود و نصاریٰ کی پیروی

قیامت کی چھوٹی نشانیوں میں سے چند نہایت سنگین اور فکر انگیز نشانیاں وہ ہیں جو انسان کے اخلاق، معاشرت اور دینی اقدار کو براہِ راست متاثر کرتی ہیں۔ ان میں امانت کا اٹھ جانا، بدکاری و شراب نوشی کا عام ہونا، عورتوں کی کثرت اور مسلمانوں کا یہود و نصاریٰ کے طور طریقوں کی پیروی اختیار کرنا شامل ہے۔

امانتداری کا خاتمہ

حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں دو حدیثیں سنائیں، جن میں سے ایک واقع ہو چکی ہے اور دوسری کے وقوع کا میں انتظار کر رہا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

(( إِنَّ الْأَمَانَۃَ نَزَلَتْ فِی جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ، ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ، فَعَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّۃِ ))

ترجمہ:
“امانت لوگوں کے دلوں کی گہرائی میں اتاری گئی، پھر قرآن نازل ہوا تو لوگوں نے قرآن سے بھی سیکھا اور سنت سے بھی۔”

پھر آپ ﷺ نے امانت کے اٹھ جانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

“ایک آدمی سوئے گا تو اس کے دل سے امانت نکال لی جائے گی اور اس کا نشان ہلکے سے داغ کی طرح رہ جائے گا، پھر وہ دوبارہ سوئے گا تو باقی امانت بھی نکال لی جائے گی، یہاں تک کہ اس کا نشان ایک آبلے کی طرح رہ جائے گا… پھر لوگ آپس میں لین دین کریں گے مگر کوئی امانتدار نہ ہوگا… یہاں تک کہ کہا جائے گا فلاں قبیلے میں ایک امانتدار آدمی ہے، اور کسی شخص کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ بڑا عقلمند اور مضبوط ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔”
صحیح البخاری:6497، صحیح مسلم:143

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب وہ بلاخوف ہر شخص سے لین دین کر لیتے تھے، مگر آج صرف چند گنے چنے افراد سے ہی معاملہ کیا جا سکتا ہے۔

بدکاری اور شراب نوشی کا عام ہونا

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَۃِ أَنْ یَّقِلَّ الْعِلْمُ، وَیَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَیَظْهَرَ الزِّنَا، وَیُشْرَبَ الْخَمْرُ، وَتَكْثُرَ النِّسَاءُ، وَیَقِلَّ الرِّجَالُ ))
صحیح البخاری:81، صحیح مسلم:2671

ترجمہ:
“قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ علم کم ہو جائے گا، جہالت ظاہر ہو جائے گی، زنا عام ہو جائے گا، شراب نوشی کی جائے گی، عورتیں زیادہ اور مرد کم ہو جائیں گے، یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا ایک ہی نگران ہوگا۔”

عورتوں کی کثرت

حضرت ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( لَیَأْتِیَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ … وَیُرَى الرَّجُلُ الْوَاحِدُ یَتْبَعُهُ أَرْبَعُونَ امْرَأَةً ))
صحیح البخاری:1414، صحیح مسلم:1012

ترجمہ:
“لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ ایک آدمی سونے کا صدقہ لے کر پھرے گا مگر کوئی لینے والا نہ ہوگا، اور عورتوں کی کثرت اور مردوں کی قلت کی وجہ سے چالیس عورتیں ایک ہی مرد کے تابع ہوں گی۔”

یہ کیفیت اس لیے ہوگی کہ مرد جنگوں میں قتل ہو جائیں گے اور عورتیں بیوہ ہو جائیں گی۔

یہود و نصاریٰ کی پیروی

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ… ))
صحیح البخاری:3456، صحیح مسلم:2669

ترجمہ:
“تم ضرور پہلی امتوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے، بالشت بہ بالشت اور ہاتھ بہ ہاتھ، یہاں تک کہ اگر وہ سانڈے کے بل میں داخل ہوں گے تو تم بھی داخل ہو جاؤ گے۔”

صحابہ نے عرض کیا: کیا یہود و نصاریٰ؟
آپ ﷺ نے فرمایا: “پھر اور کون؟”

یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف بعد کے اہلِ علم نے بھی اشارہ کیا کہ مسلمانوں میں غیر مسلم تہذیبوں کی نقالی عام ہو جائے گی۔

علم پر عمل نہ ہونا

حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“یہ اس وقت ہوگا جب علم اٹھا لیا جائے گا۔”
میں نے عرض کیا: علم کیسے اٹھے گا جبکہ ہم قرآن پڑھتے اور پڑھاتے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
“یہود و نصاریٰ تورات و انجیل پڑھتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں کرتے۔”
سنن ابن ماجہ:4048 (صححہ الألبانی)

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
“قرآن کا حفظ حروف یاد کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کی حدود پر عمل کرنے کا نام ہے۔”

اسلام کا مٹ جانا، قرآن کا اٹھایا جانا، اور علاماتِ کبریٰ (دجال، امام مہدی، نزولِ عیسیٰ علیہ السلام)

قیامت کے قریب ایک نہایت اندوہناک مرحلہ وہ ہوگا جب زمین سے اسلام کی عملی صورت مٹتی چلی جائے گی، قرآن اٹھا لیا جائے گا اور لوگ محض نام کے مسلمان رہ جائیں گے۔ اس کے بعد قیامت کی بڑی اور فیصلہ کن نشانیاں ظاہر ہوں گی جنہیں علاماتِ کبریٰ کہا جاتا ہے۔

اسلام کا مٹ جانا اور قرآن کا اٹھایا جانا

حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( یَدْرُسُ الْإِسْلَامُ كَمَا یَدْرُسُ وَشْیُ الثَّوْبِ، حَتّٰی لَا یُدْرٰی مَا صَلَاةٌ وَلَا صِیَامٌ وَلَا نُسُكٌ وَلَا صَدَقَةٌ، وَلَیُسْرَى عَلَى كِتَابِ اللّٰهِ فِی لَیْلَةٍ فَلَا یَبْقٰى فِی الْأَرْضِ مِنْهُ آیَةٌ… ))
سنن ابن ماجہ:4049، وصححہ الألبانی فی الصحیحۃ:87

ترجمہ:
“اسلام اس طرح مٹ جائے گا جیسے کپڑے کا نقش مٹ جاتا ہے، یہاں تک کہ یہ بھی معلوم نہ رہے گا کہ نماز کیا ہے، روزہ کیا ہے، قربانی کیا ہے اور صدقہ کیا ہے۔ اور ایک رات ایسی آئے گی کہ کتاب اللہ (قرآن) کو اٹھا لیا جائے گا، یہاں تک کہ زمین پر اس کی ایک آیت بھی باقی نہ رہے گی۔”

حدیث میں آگے آتا ہے کہ اس وقت بوڑھے لوگ کہیں گے:
“ہم نے اپنے باپ دادا کو لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہتے سنا تھا، ہم بھی وہی کہتے ہیں۔”

حضرت صلہ رحمہ اللہ نے پوچھا:
“جب وہ نماز، روزہ اور صدقہ نہیں جانتے ہوں گے تو محض کلمہ انہیں کیا فائدہ دے گا؟”
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ فرمایا:
“یہ کلمہ انہیں جہنم سے نجات دلائے گا۔”

علاماتِ کبریٰ

01. دجال کا ظہور

علاماتِ کبریٰ میں سب سے خطرناک فتنہ دجال کا ہے، جس سے نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو سختی سے خبردار فرمایا۔

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( اَلدَّجَّالُ أَعْوَرُ الْعَیْنِ الْیُسْرَى، جُفَالُ الشَّعَرِ، مَعَهُ جَنَّةٌ وَنَارٌ، فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ ))
صحیح مسلم:2934

ترجمہ:
“دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی، اس کے بال گھنے ہوں گے، اس کے ساتھ جنت اور جہنم ہوگی، مگر اس کی جہنم دراصل جنت ہوگی اور اس کی جنت دراصل جہنم ہوگی۔”

ایک اور حدیث میں فرمایا:

(( مَا بَیْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِیَامِ السَّاعَةِ خَلْقٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ ))
صحیح مسلم:2946

ترجمہ:
“آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک دجال سے بڑا فتنہ کوئی نہیں۔”

دجال مکہ اور مدینہ کے سوا تمام شہروں میں جائے گا:

(( لَیْسَ مِنْ بَلَدٍ إِلَّا سَیَطَؤُهُ الدَّجَّالُ إِلَّا مَكَّةَ وَالْمَدِینَةَ ))
صحیح البخاری:1881، صحیح مسلم:2943

ترجمہ:
“دجال ہر شہر میں داخل ہوگا سوائے مکہ اور مدینہ کے۔”

دجال کے فتنے سے بچاؤ کیلئے نبی ﷺ نے فرمایا:

(( مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آیَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْكَهْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ ))
صحیح مسلم:809

ترجمہ:
“جو شخص سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کرے گا، اسے دجال کے فتنے سے بچا لیا جائے گا۔”

02. ظہورِ امام مہدی

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

(( لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتّٰى یَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَیْتِی یُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِی ))
سنن الترمذی:2230، وصححہ الألبانی

ترجمہ:
“قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میرے اہلِ بیت میں سے ایک شخص عرب پر حکومت کرے گا، جس کا نام میرے نام جیسا ہوگا۔”

ایک اور روایت میں ہے کہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی۔
سنن ابی داود:8242 (وصححہ الألبانی)

03. نزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

اہلِ سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور قیامت کے قریب دوبارہ نازل ہوں گے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( وَاللّٰهِ لَیَنْزِلَنَّ ابْنُ مَرْیَمَ حَكَمًا عَدْلًا، فَلَیَكْسِرَنَّ الصَّلِیبَ، وَلَیَقْتُلَنَّ الْخِنْزِیرَ، وَلَیَضَعَنَّ الْجِزْیَةَ… ))
صحیح مسلم:155

ترجمہ:
“اللہ کی قسم! ابن مریم ضرور نازل ہوں گے، وہ عادل حاکم ہوں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، اور مال اتنا زیادہ ہوگا کہ کوئی لینے والا نہ ہوگا۔”

اور فرمایا:

(( كَیْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ فِیكُمُ ابْنُ مَرْیَمَ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ ))
صحیح البخاری:3449، صحیح مسلم:155

ترجمہ:
“تمہارا کیا حال ہوگا جب ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا؟”

یاجوج ماجوج، دابۃُ الأرض، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور کن لوگوں پر قیامت قائم ہو گی

قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے چند نشانیاں ایسی ہیں جو ظہور پذیر ہونے کے بعد توبہ کے دروازے بند کر دیں گی اور دنیا کا نظام اپنے اختتام کی طرف تیزی سے بڑھنے لگے گا۔ ان نشانیوں میں یاجوج ماجوج کا نکلنا، زمین کے جانور (دابۃُ الأرض) کا ظاہر ہونا اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا شامل ہیں۔

04. یاجوج ماجوج کا نکلنا

یاجوج ماجوج کا نکلنا قیامت کی نہایت ہولناک علامات میں سے ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿حَتّٰی إِذَا فُتِحَتْ یَأْجُوْجُ وَمَأْجُوْجُ وَہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ﴾
الأنبیاء 21:96

ترجمہ:
“یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کھول دیے جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔”

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

“یاجوج ماجوج ہر روز (دیوار میں) کھدائی کرتے ہیں، یہاں تک کہ جب سورج کی شعاعیں دیکھنے کے قریب ہوتے ہیں تو ان کا سردار کہتا ہے: واپس لوٹ جاؤ، کل کھدائی کرو گے۔ پھر اللہ تعالیٰ دیوار کو پہلی حالت میں لوٹا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ ان کے نکلنے کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ کہیں گے: کل اِنْ شَاءَ اللّٰہُ کھدائی کریں گے، اور اگلے دن دیوار کو اسی حالت میں پائیں گے، چنانچہ نکل آئیں گے، پانی پی جائیں گے اور زمین میں فساد پھیلائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کرے گا جو سب کو ہلاک کر دے گا۔”
سنن الترمذی:3153، سنن ابن ماجہ:4080، وصححہ الألبانی فی الصحیحۃ:1735

حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی حدیث میں صراحت ہے کہ یاجوج ماجوج کا خروج حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں ہوگا۔
صحیح مسلم:2937

05. دابۃُ الأرض (زمین کے جانور) کا نکلنا

قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی زمین کے ایک خاص جانور کا ظاہر ہونا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ أَخْرَجْنَا لَہُمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْأَرْضِ تُکَلِّمُہُمْ أَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِآیَاتِنَا لاَ یُوْقِنُوْنَ﴾
النمل 27:82

ترجمہ:
“اور جب ان پر عذاب کا وعدہ پورا ہو جائے گا تو ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بات کرے گا، کیونکہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے۔”

حضرت ابن عمر اور حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہ جانور مکہ میں جبلِ صفا سے نکلے گا، مومن کے چہرے کو روشن اور کافر کے چہرے کو سیاہ کر دے گا، اور ان کے درمیان امتیاز کر دے گا۔
(تفسیر القرطبی، تفسیر ابن کثیر)

06. سورج کا مغرب سے طلوع ہونا

یہ وہ نشانی ہے جس کے بعد توبہ قبول نہیں ہوگی۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا إِیْمَانُہَا… طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَّغْرِبِہَا، وَالدَّجَّالُ، وَدَابَّۃُ الْأَرْضِ ))
صحیح مسلم:158

ترجمہ:
“تین چیزیں جب ظاہر ہوں گی تو اس وقت کسی شخص کا ایمان فائدہ نہ دے گا اگر وہ پہلے ایمان نہ لایا ہو: سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال اور زمین کا جانور۔”

اسی طرح توبہ کے دروازے کے بند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

(( إِنَّ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَۃِ… لَا یُغْلَقُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِہٖ ))
سنن الترمذی:3535، وصححہ الألبانی

ترجمہ:
“مغرب کی جانب توبہ کا ایک دروازہ کھلا ہوا ہے جو سورج کے مغرب سے طلوع ہونے تک بند نہیں ہوگا۔”

قیامت کن لوگوں پر قائم ہوگی؟

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی لَا یُقَالَ فِی الْأَرْضِ: اللّٰہُ اللّٰہُ ))
صحیح مسلم:148

ترجمہ:
“قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی باقی نہ رہے۔”

یعنی اللہ تعالیٰ مومنوں کی روحیں قبض کر لے گا، اور صرف بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے۔

حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

(( وَیَبْقٰی شِرَارُ النَّاسِ… فَعَلَیْہِمْ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ ))
صحیح مسلم:2937

ترجمہ:
“صرف بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے، جو گدھوں کی طرح علانیہ بدکاری کریں گے، انہی پر قیامت قائم ہوگی۔”

صور پھونکا جانا، کائنات کا خاتمہ، دوبارہ زندہ کیا جانا اور قیامت کے ہولناک مناظر

اب ہم اس مرحلے کا بیان کرتے ہیں جب قیامت عملاً قائم ہو گی، کائنات کا نظام درہم برہم کر دیا جائے گا، صور پھونکا جائے گا، تمام مخلوق بے ہوش ہو جائے گی اور پھر دوبارہ زندہ کی جائے گی۔ یہ وہ مناظر ہیں جنہیں قرآن و حدیث نے نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے تاکہ انسان اس دن کی تیاری کر سکے۔

صور کا پھونکا جانا اور کائنات کا بے ہوش ہو جانا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللّٰہُ ثُمَّ نُفِخَ فِیہِ أُخْرَى فَإِذَا ہُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُونَ﴾
الزمر 39:68

ترجمہ:
“اور صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے۔ پھر دوسری مرتبہ صور پھونکا جائے گا تو وہ سب اچانک کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔”

(إِلَّا مَنْ شَاءَ اللّٰہُ) سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ہستیاں بے ہوش ہونے سے مستثنیٰ ہوں گی، مگر وہ کون ہوں گی؟ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی میں تکرار ہو گئی۔ مسلمان نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی، اور یہودی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ معاملہ رسول اللہ ﷺ تک پہنچا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

(( لَا تُخَیِّرُونِی عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ یُصْعَقُونَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ یُفِیقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ بِجَانِبِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِی أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِی أَمْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللّٰہُ ))
صحیح البخاری:6517، صحیح مسلم:2373

ترجمہ:
“تم مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو، کیونکہ قیامت کے دن سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے، اور میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا، تو موسیٰ علیہ السلام کو عرش کا کنارہ پکڑے ہوئے دیکھوں گا۔ مجھے معلوم نہیں کہ وہ پہلے بے ہوش ہوئے پھر مجھ سے پہلے ہوش میں آئے یا وہ ان میں سے تھے جنہیں اللہ نے بے ہوشی سے مستثنیٰ رکھا۔”

زمین، پہاڑ اور آسمان کا ٹوٹ پھوٹ جانا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿فَإِذَا نُفِخَ فِی الصُّورِ نَفْخَةٌ وَّاحِدَةٌ ۝ وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَّاحِدَةٌ ۝ فَیَوْمَئِذٍ وَّقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ۝ وَانشَقَّتِ السَّمَاءُ فَهِیَ یَوْمَئِذٍ وَّاهِیَةٌ ۝ وَالْمَلَكُ عَلَى أَرْجَائِهَا وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمَانِیَةٌ﴾
الحاقۃ 69:13–17

ترجمہ:
“جب صور میں ایک ہی پھونک ماری جائے گی، اور زمین اور پہاڑ اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے، تو اس دن ہونے والی چیز واقع ہو جائے گی۔ آسمان پھٹ جائے گا اور وہ اس دن کمزور ہو چکا ہوگا، اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے، اور اس دن تیرے رب کا عرش آٹھ فرشتے اٹھائے ہوں گے۔”

صور دو مرتبہ پھونکا جائے گا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ أَرْبَعُونَ ))
صحیح البخاری:4814، صحیح مسلم:2955

ترجمہ:
“دونوں صوروں کے درمیان چالیس کا فاصلہ ہوگا۔”

جب صحابہ نے پوچھا: چالیس دن؟ چالیس ماہ؟ یا چالیس سال؟ تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہر مرتبہ فرمایا: “میں انکار کرتا ہوں”، یعنی اس کی تعیین نہیں کی۔

اسی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا، جس سے لوگ قبروں سے اس طرح اگیں گے جیسے سبزہ اگتا ہے، اور انسانی جسم میں صرف ریڑھ کی ہڈی کا سرا باقی رہے گا جس سے دوبارہ تخلیق کی جائے گی۔

قیامت سے پہلے شدید زلزلہ

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿یَا أَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیمٌ ۝ یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیدٌ﴾
الحج 22:1–2

ترجمہ:
“اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے۔ جس دن تم اسے دیکھو گے، ہر دودھ پلانے والی اپنے بچے کو بھول جائے گی، ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی، اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہوگا۔”

دوبارہ صور پھونکا جانا اور قبروں سے اٹھ کھڑا ہونا

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَإِذَا ہُمْ مِّنَ الْأَجْدَاثِ إِلٰی رَبِّهِمْ یَنْسِلُونَ﴾
یٰس 36:51

ترجمہ:
“اور صور پھونکا جائے گا تو اچانک سب لوگ اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑنے لگیں گے۔”

یہ دوسری مرتبہ صور پھونکا جانا ہوگا جس کے بعد تمام مردے زندہ کر دیے جائیں گے۔

کفار کہیں گے:

﴿قَالُوا یَا وَیْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا﴾
یٰس 36:52

ترجمہ:
“کہیں گے: ہائے ہماری بربادی! ہمیں ہماری خوابگاہوں سے کس نے اٹھا دیا؟”

زمین کا زلزلہ اور اعمال کا ظاہر ہونا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا ۝ وَأَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا ۝ وَقَالَ الْإِنسَانُ مَا لَهَا ۝ یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا ۝ بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَىٰ لَهَا ۝ یَوْمَئِذٍ یَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّیُرَوْا أَعْمَالَهُمْ ۝ فَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَرَهُ ۝ وَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَرَهُ﴾
الزلزال 99:1–8

ترجمہ:
“جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا دی جائے گی، اور زمین اپنے بوجھ باہر نکال پھینکے گی، اور انسان کہے گا اسے کیا ہو گیا ہے؟ اس دن زمین اپنی خبریں بیان کرے گی کیونکہ تیرے رب نے اسے حکم دیا ہوگا۔ اس دن لوگ الگ الگ ہو کر نکلیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھا دیے جائیں۔ پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔”

ظالموں کی آنکھیں پتھرا جانا

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیهِ الْأَبْصَارُ ۝ مُهْطِعِینَ مُقْنِعِی رُءُوسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ إِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَوَاءٌ﴾
ابراہیم 14:42–43

ترجمہ:
“آپ اللہ کو ظالموں کے اعمال سے غافل نہ سمجھیں، وہ تو انہیں اس دن کیلئے مہلت دے رہا ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، وہ سر اٹھائے دوڑ رہے ہوں گے، ان کی پلکیں نہ جھپکیں گی اور ان کے دل خالی ہو چکے ہوں گے۔”

قیامت کا منظر سورۃ التکویر، الانفطار اور الانشقاق کی روشنی میں

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص قیامت کے دن کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہے، وہ سورۃ التکویر، الانفطار اور الانشقاق پڑھے۔”
(سنن الترمذی، مسند احمد، الصحیحۃ للألبانی:1081)

سورۃ التکویر

﴿إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ﴾ — جب سورج لپیٹ دیا جائے گا
﴿وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ﴾ — جب ستارے بے نور ہو جائیں گے
﴿وَإِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ﴾ — جب پہاڑ چلائے جائیں گے
﴿عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ﴾ — ہر جان جان لے گی جو وہ لے کر آئی ہوگی
(التکویر 81:1–14)

سورۃ الانفطار

﴿إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَتْ﴾ — جب آسمان پھٹ جائے گا
﴿وَإِذَا الْقُبُورُ بُعْثِرَتْ﴾ — جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی
﴿عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ﴾

“ہر جان جان لے گی جو کچھ اس نے آگے بھیجا تھا اور جو کچھ پیچھے چھوڑا تھا۔”

(الانفطار 82:1–5)

سورۃ الانشقاق

﴿یَا أَیُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِیهِ﴾
“اے انسان! تو محنت کرتا ہوا اپنے رب کی طرف جا رہا ہے اور اس سے ملاقات کرنے والا ہے”
(الانشقاق 84:6)

نتیجہ

نتیجہ یہ ہے کہ عقلمند وہی ہے جو آنے والے دن کی تیاری کرے۔ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اصل زندگی آخرت کی ہے۔ جو شخص ایمان، تقویٰ اور اطاعت کے ساتھ اللہ سے ملے گا وہ کامیاب ہوگا، اور جو غفلت میں مبتلا رہا وہ خسارے میں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قیامت کی ہولناکیوں سے محفوظ رکھے، حسنِ خاتمہ عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے۔ آمین۔