موت ایک اٹل حقیقت ہے: قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی

ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

یہ مضمون انسانی زندگی کی ایک اٹل اور ناقابلِ انکار حقیقت موت کے گرد گھومتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ موت سے کسی کو مفر نہیں، نہ انبیاء علیہم السلام، نہ اولیاء، نہ بادشاہ اور نہ فقیر۔ قرآنِ مجید کی آیات، رسول اللہ ﷺ کی احادیث اور سلف صالحین کے اقوال کی روشنی میں یہ بات تفصیل سے بیان کی گئی ہے کہ موت کا وقت مقرر ہے، اس سے فرار ممکن نہیں، اور کامیاب وہی ہے جو موت سے پہلے اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور آخرت کی تیاری میں گزارے۔ اس حصے میں موت کی حقیقت، اس کا وقت، اور اس سے غفلت کے نقصانات پر گفتگو کی جائے گی۔

موت ایک اٹل حقیقت

برادرانِ اسلام! موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی کو چھٹکارا نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا وہ فیصلہ ہے جس کے سامنے سب عاجز ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے:

اَلْمَوْتُ قَدْحٌ کُلُّ نَفْسٍ شَارِبُہُ
وَالْقَبْرُ بَابٌ کُلُّ نَفْسٍ دَاخِلُہُ

یعنی موت ایک ایسا پیالہ ہے جسے ہر جان نے پینا ہے، اور قبر ایک ایسا دروازہ ہے جس میں ہر شخص نے داخل ہونا ہے۔

موت ہر ایک پر آتی ہے:
❀ مرد و عورت
❀ نیک و بد
❀ امیر و غریب
❀ طاقتور و کمزور

اور جس پر موت آتی ہے وہ خود بھی اس سے نہیں بچ سکتا اور نہ اس کے قریبی رشتہ دار۔

قرآنِ مجید کی روشنی میں موت

﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّن قَبْلِکَ الْخُلْدَ ۖ اَفَإِن مِّتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ ۝ كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾
(الأنبیاء 21:34-35)
ترجمہ
“اور ہم نے آپ سے پہلے کسی انسان کو بھی ہمیشہ کی زندگی نہیں دی، تو اگر آپ وفات پا جائیں تو کیا یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے؟ ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔”

اس آیت میں اللہ تعالیٰ واضح فرما رہے ہیں کہ اگر افضل البشر حضرت محمد ﷺ بھی ہمیشہ دنیا میں نہیں رہ سکتے تو کوئی اور کیسے رہ سکتا ہے۔

اسی مفہوم کو شاعر نے یوں بیان کیا:

لَوْ كَانَ فِي الدُّنْيَا بَقَاءٌ لَمَا مَاتَ خَيْرُ الْمُرْسَلِينَ مُحَمَّدُ ﷺ

یعنی اگر دنیا میں کسی کے لیے ہمیشہ رہنا ممکن ہوتا تو سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ باقی رہتے۔

موت سے فرار ناممکن ہے

﴿قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلَاقِيكُمْ﴾
(الجمعۃ 62:8)
ترجمہ
“کہہ دیجئے! جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تمہیں آ کر رہے گی۔”

انسان جتنا بھی بھاگ لے، موت اس تک پہنچ کر رہے گی۔

موت کا وقت مقرر ہے

﴿وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا﴾
(المنافقون 63:11)
ترجمہ
“اور جب کسی کا مقررہ وقت آ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ہرگز مہلت نہیں دیتا۔”

نہ موت ایک لمحہ پہلے آتی ہے اور نہ ایک لمحہ دیر سے۔

موت کہاں اور کب آئے گی؟ کسی کو علم نہیں

﴿وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ﴾
(لقمان 31:34)
ترجمہ
“کوئی جان نہیں جانتی کہ وہ کل کیا کمائے گی، اور نہ یہ جانتی ہے کہ کس زمین میں مرے گی۔”

گھر میں یا سفر میں؟
جوانی میں یا بڑھاپے میں؟
اپنے وطن میں یا پردیس میں؟
یہ سب اللہ ہی جانتا ہے۔

موت سے پہلے کی تیاری

﴿وَأَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ﴾
(المنافقون 63:10)
ترجمہ
“اور اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے، اس میں سے خرچ کر لو جو ہم نے تمہیں دیا ہے، ورنہ وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے تھوڑی مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیک لوگوں میں شامل ہو جاتا۔”

موت کے وقت ندامت اور خواہش کسی کام نہیں آتی، اس لیے نیکی اور توبہ موت سے پہلے ضروری ہے۔

موت کی یاد اور اس کی اہمیت

برادرانِ اسلام! موت کو ہر وقت یاد رکھنا مومن کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ جو شخص موت کو یاد رکھتا ہے وہ دنیا کی غفلت، عیش پرستی اور گناہوں سے بچ جاتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے ان رشتہ داروں، دوستوں اور جاننے والوں کے بارے میں غور کرے جو کل تک اس کے ساتھ تھے اور آج قبروں میں سو رہے ہیں۔

حیرت اس شخص پر ہے جو:
❀ کئی جنازے اپنے کندھوں پر اٹھا چکا ہو
❀ کئی مردوں کو اپنے ہاتھوں دفن کر چکا ہو
❀ قبرستان کے مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہو
❀ اچانک موت کی خبریں بارہا سن چکا ہو

اور اس کے باوجود اپنی موت سے غافل رہے۔

موت کو یاد کرنے والوں کی اقسام (امام ابن قدامہؒ)

امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے موت کی یاد کے اعتبار سے لوگوں کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے:

➊ پہلی قسم:
وہ لوگ جو دنیا کی محبت میں اس قدر منہمک ہیں کہ موت کو یاد ہی نہیں کرتے، اور اگر کبھی یاد آ بھی جائے تو اسے ناپسند کرتے ہیں۔ یہ سب سے بدتر حالت ہے۔

➋ دوسری قسم:
وہ لوگ جو موت کو کثرت سے یاد کرتے ہیں، اس یاد سے ان کے دل میں اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے، وہ توبہ کرتے ہیں اور نیکی کی طرف مائل رہتے ہیں۔ وہ موت کو پسند کرتے ہیں، سوائے اس کے کہ مزید نیک اعمال کی خواہش ہو۔

➌ تیسری قسم:
وہ لوگ جو ہر وقت موت کو یاد رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے مشتاق رہتے ہیں تاکہ دنیا کی مشقتوں سے نجات پا کر نعمتوں والے گھر میں پہنچ جائیں۔ یہ سب سے افضل لوگ ہیں۔

موت کو یاد کرنے کی فضیلت (احادیث)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ الْمَوْتَ ))
(شعب الإیمان، صحیح ابن حبان، صحیح الجامع للألبانی:1211)
ترجمہ
“لذتوں کو ختم کر دینے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔”

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا وَأَحْسَنُهُمْ لِمَا بَعْدَهُ اسْتِعْدَادًا ))
(سنن ابن ماجہ:4259، وصححہ الألبانی)
ترجمہ
“مومنوں میں سب سے زیادہ عقلمند وہ ہے جو موت کو سب سے زیادہ یاد کرے اور موت کے بعد کے لیے سب سے زیادہ تیاری کرے۔”

موت کی یاد کے فوائد (قولِ دقاقؒ)

دقاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

❀ جو موت کو یاد رکھتا ہے:
➊ جلد توبہ کی توفیق پاتا ہے
➋ قناعت نصیب ہوتی ہے
➌ عبادت میں لذت محسوس کرتا ہے

❀ اور جو موت کو بھول جاتا ہے:
➊ توبہ سے محروم رہتا ہے
➋ حرص و لالچ میں مبتلا ہو جاتا ہے
➌ عبادت میں سستی محسوس کرتا ہے

قبرستان کی زیارت اور موت کی یاد

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی والدہ کی قبر پر گئے، خود بھی روئے اور صحابہ کو بھی رلایا، پھر فرمایا:

(( فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ ))
(صحیح مسلم:976)
ترجمہ
“تم قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہیں۔”

اس لیے انسان کو چاہیے کہ کبھی کبھار قبرستان جائے، عبرت حاصل کرے اور اپنی آخرت کی فکر کرے۔

پتھر دلوں کا علاج

اگر کسی کا دل سخت ہو چکا ہو تو اس کا علاج یہ ہے:

➊ گناہوں کو فوراً چھوڑ دے اور دینی مجالس میں شریک ہو
➋ موت کو کثرت سے یاد کرے
➌ نزع کی حالت میں مبتلا لوگوں کے پاس بیٹھے
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ ))
(مسند احمد، صحیح ابن حبان)
ترجمہ
“سننا، دیکھنے کے برابر نہیں ہوتا۔”

یعنی آنکھوں سے دیکھ کر انسان زیادہ عبرت حاصل کرتا ہے۔

موت سے غفلت کے اسباب

موت سے غفلت کے دو بڑے اسباب ہیں:

➊ دنیا کی محبت
➋ جہالت

دنیا کی محبت

انسان دنیا کی خواہشات میں اس قدر الجھ جاتا ہے کہ اسے یہ یاد ہی نہیں رہتا کہ ایک دن اسے یہ سب چھوڑنا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( حُبُّ الدُّنْيَا وَطُولُ الْأَمَلِ ))
(صحیح البخاری:6420)
ترجمہ
“بوڑھے انسان کے دل میں بھی دو چیزیں جوان رہتی ہیں: دنیا کی محبت اور لمبی امیدیں۔”

جہالت اور موت سے غفلت

موت سے غفلت کا دوسرا بڑا سبب جہالت ہے۔ بہت سے لوگ اپنی جوانی اور تندرستی سے دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ موت صرف بڑھاپے یا بیماری میں آتی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

اگر کوئی شخص اپنے ارد گرد نظر دوڑائے تو اسے اندازہ ہوگا کہ:
❀ کتنے لوگ بڑھاپے تک پہنچنے سے پہلے وفات پا جاتے ہیں
❀ کتنے صحت مند لوگ اچانک موت کا شکار ہو جاتے ہیں

نہ جوانی موت سے بچا سکتی ہے اور نہ تندرستی۔

انسان اور اس کی امیدیں (حدیثِ نبوی)

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مربع لکیر کھینچی، پھر درمیان میں ایک لکیر کھینچی جو باہر کی طرف نکل رہی تھی، اور اس کے اطراف چھوٹی چھوٹی لکیریں بنائیں، پھر فرمایا:

(( هَذَا الْإِنْسَانُ، وَهَذَا أَجَلُهُ مُحِيطٌ بِهِ، وَهَذَا أَمَلُهُ، وَهَذِهِ الْأَعْرَاضُ ))
(صحیح البخاری:6417)
ترجمہ
“یہ (درمیانی لکیر) انسان ہے، یہ (مربع) اس کی موت ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، یہ باہر نکلتی لکیر اس کی امیدیں ہیں، اور یہ چھوٹی لکیریں مختلف پریشانیاں ہیں۔ اگر ایک سے بچ جائے تو دوسری اسے آ پکڑتی ہے۔”

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ موت انسان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے، مگر وہ امیدوں میں گم رہتا ہے۔

دنیا میں مسافر بن کر رہنے کی تلقین

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ ))
(صحیح البخاری:6416)
ترجمہ
“دنیا میں اس طرح رہو جیسے تم اجنبی ہو یا راہ چلتے مسافر۔”

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:

“جب شام ہو جائے تو صبح کا انتظار نہ کرو، اور جب صبح ہو جائے تو شام کا انتظار نہ کرو، اپنی صحت سے بیماری کے لیے اور زندگی سے موت کے لیے تیاری کر لو۔”

موت کی سختیاں (قرآنی آیات)

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر موت کی سختیوں کا ذکر فرمایا ہے:
﴿وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ﴾
(ق 50:19)
ترجمہ: “موت کی سختی حق کے ساتھ آ پہنچی۔”

﴿وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ﴾
(الأنعام 6:93)
ترجمہ: “کاش تم دیکھو جب ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے۔”

﴿فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ﴾
(الواقعۃ 56:83)
ترجمہ: “جب جان حلق تک پہنچ جائے گی۔”

﴿كَلَّا إِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ﴾
(القیامۃ 75:26)
ترجمہ: “ہرگز نہیں، جب جان ہنسلیوں تک پہنچ جائے گی۔”

رسول اللہ ﷺ کی وفات اور موت کی شدت

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ وفات کے وقت فرما رہے تھے:

(( لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ إِنَّ لِلْمَوْتِ لَسَكَرَاتٍ ))
(صحیح البخاری:4449)
ترجمہ
“اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بے شک موت کی سختیاں ہوتی ہیں۔”

اگر رسول اللہ ﷺ، جو افضل البشر تھے، موت کی سختی محسوس کر رہے تھے تو عام انسان کیسے اس سے بچ سکتا ہے؟

صحابہ اور صالحین کے احساساتِ موت

❀ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ موت کے وقت روئے اور فرمایا:
“مجھے نہیں معلوم کس گناہ پر پکڑ ہو جائے۔”

❀ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
“میں دنیا چھوڑنے کے غم میں نہیں رو رہا بلکہ طویل سفر اور کم زادِ راہ کی وجہ سے رو رہا ہوں۔”

❀ حضرت عطاء السلمی رحمہ اللہ موت کے قریب بے ہوش ہو گئے اور قبر و قیامت کا تصور کر کے رونے لگے۔

یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ صالحین موت کو سنجیدگی سے لیتے تھے۔

غفلت سے بیداری کی دعوت

عزیزانِ گرامی! اب وقت آ چکا ہے کہ انسان غفلت کی نیند سے بیدار ہو جائے۔ موت کا کڑوا گھونٹ پینے سے پہلے، سانسوں کے رک جانے سے پہلے اور قبر کے سفر کے آغاز سے پہلے اپنے انجام پر غور کرے۔ جب انبیاء و رسل علیہم السلام، اولیاء اور متقین کو موت نے نہیں چھوڑا تو ہم کون ہوتے ہیں جو اس سے غافل رہیں؟
﴿قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ ۝ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ﴾
(صٓ 38:67-68)
ترجمہ
“کہہ دیجئے! یہ ایک بہت بڑی خبر ہے، جس سے تم اعراض کر رہے ہو۔”

صحابہؓ کے اقوال: عبرت اور نصیحت

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا قول

انہوں نے فرمایا:
“مجھے تین چیزوں نے ہنسایا اور تین نے رلایا:
➊ دنیا کو طلب کرنے والا جبکہ موت اسے طلب کر رہی ہے
➋ غافل انسان جبکہ اللہ اور فرشتے اس سے غافل نہیں
➌ ہنستا ہوا انسان جسے معلوم نہیں کہ اللہ اس سے راضی ہے یا ناراض

اور رلانے والی باتیں:
➊ رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ کی جدائی
➋ موت کی سختیوں میں مبتلا انسان کا خوف
➌ قیامت کے دن اللہ کے سامنے کھڑا ہونا”

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا قول

انہوں نے فرمایا:
“دو دن اور دو راتیں ایسی ہیں جن جیسی کوئی نہیں:
➊ وہ دن جب فرشتہ اللہ کی رضا یا ناراضی کا پیغام لے کر آتا ہے
➋ وہ دن جب نامۂ اعمال دیا جائے گا
اور دو راتیں:
➊ قبر کی پہلی رات
➋ وہ رات جس کے بعد قیامت قائم ہو گی”

نیک اور بد کی موت میں فرق

اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے کہ نیک اور بد، فرمانبردار اور نافرمان کی زندگی اور موت ایک جیسی نہیں ہو سکتی۔
﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ نَجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ﴾
(الجاثیۃ 45:21)
ترجمہ
“کیا برے کام کرنے والوں نے یہ گمان کر لیا ہے کہ ہم انہیں ایمان والوں اور نیک عمل کرنے والوں جیسا کر دیں گے، کہ ان کا جینا اور مرنا برابر ہو جائے؟ یہ بہت برا فیصلہ ہے۔”

مومن کی موت کی خوشخبری

﴿يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ۝ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً ۝ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ۝ وَادْخُلِي جَنَّتِي﴾
(الفجر 89:27-30)
ترجمہ
“اے اطمینان والی روح! اپنے رب کی طرف لوٹ چل، اس حال میں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔ میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں چلی جا۔”

یہ خوشخبری مومن کو موت کے وقت دی جاتی ہے۔

نافرمان اور کافر کی موت

﴿وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُوا أَيْدِيهِمْ﴾
(الأنعام 6:93)
ترجمہ
“کاش تم دیکھو جب ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے (اور کہیں گے): اپنی جانیں نکالو۔”
﴿فَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ﴾
(محمد 47:27)
ترجمہ
“پھر ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور ان کے چہروں اور پیٹھوں پر ماریں گے۔”

فرماں بردار اور نافرمان کی موت (سورۃ النحل)

نافرمانوں کی موت

﴿اَلَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ﴾
(النحل 16:28-29)
ترجمہ
“وہ لوگ جن کی جانیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہوتے ہیں… ان سے کہا جاتا ہے: جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ۔”

نیک لوگوں کی موت

﴿اَلَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ طَيِّبِينَ يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ﴾
(النحل 16:32)
ترجمہ
“وہ لوگ جن کی جانیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ پاک ہوتے ہیں، فرشتے کہتے ہیں: تم پر سلامتی ہو، جنت میں داخل ہو جاؤ۔”

نیک اور بد کی موت کی کیفیت (احادیث کی روشنی میں)

قرآنِ مجید کی آیات کے بعد احادیثِ نبویہ نیک اور بد کی موت کے فرق کو مزید وضاحت سے بیان کرتی ہیں۔

نیک اور بد روح کی کیفیت

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“جب نیک بندے کی موت کا وقت آتا ہے تو فرشتے اس کے پاس حاضر ہوتے ہیں اور کہتے ہیں: اے پاک روح! پاک جسم سے نکل، تو قابلِ تعریف حالت میں نکل اور اللہ کی رضا اور جنت کی خوشخبری پا۔”
اور اگر مرنے والا بد ہو تو فرشتہ کہتا ہے:
“اے ناپاک روح! ناپاک جسم سے نکل، تو قابلِ مذمت حالت میں نکل اور جہنم اور عذاب کی خبر سن لے۔”
سنن ابن ماجہ:4262، وصححہ الألبانی
نیک مومن کو موت کے وقت راحت، خوشبو، عزت اور اللہ کی رضا کی خوشخبری دی جاتی ہے، جبکہ بدکار اور نافرمان کو ذلت، سختی اور عذاب کی وعید سنائی جاتی ہے۔

اللہ کی ملاقات کو پسند یا ناپسند کرنا

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ))
صحیح البخاری:6507، صحیح مسلم:2684
ترجمہ
“جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اور جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ہم سب تو موت کو ناپسند کرتے ہیں؟
تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“یہ مراد نہیں، بلکہ مومن کو موت کے وقت اللہ کی رضا اور جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے، اس لیے وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے، جبکہ کافر کو عذاب کی خبر دی جاتی ہے، اس لیے وہ اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔”

موت کی مکمل کیفیت: حدیثِ براء بن عازبؓ

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی مشہور حدیث موت، روح کے نکلنے، اور قبر کے آغاز کی کیفیت کو تفصیل سے بیان کرتی ہے۔

مومن کی موت

❀ سفید چہروں والے فرشتے جنت کے کفن اور خوشبو لے کر نازل ہوتے ہیں
❀ ملک الموت کہتا ہے: “اے پاک روح! اللہ کی مغفرت اور رضا کی طرف نکل”
❀ روح آسانی سے نکلتی ہے جیسے مشکیزے سے پانی
❀ آسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں
❀ نام علیین میں لکھا جاتا ہے

کافر اور فاجر کی موت

❀ سیاہ چہروں اور سخت دل فرشتے آتے ہیں
❀ جہنم کا ٹاٹ لایا جاتا ہے
❀ روح سختی سے کھینچی جاتی ہے
❀ آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں
❀ نام سجین میں لکھا جاتا ہے

یہ حدیث سنن ابی داود، مسند احمد، الحاکم، الطیالسی وغیرہ میں مروی ہے اور صحیح الجامع للألبانی:1676 کے مطابق صحیح ہے۔

توبہ کا دروازہ کھلا ہے

﴿أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ﴾
(فاطر 35:37)
ترجمہ
“کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہ دی تھی کہ نصیحت حاصل کرنے والا نصیحت حاصل کر لیتا، اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آ چکا تھا؟”

عمر، نصیحت اور آخری مہلت

کچھ مفسرین کے نزدیک “نذیر” سے مراد:
❀ قرآن مجید
❀ رسول اللہ ﷺ
❀ یا چالیس سال کی عمر اور بڑھاپے کی علامات
﴿حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً﴾
(الأحقاف 46:15)
ترجمہ
“یہاں تک کہ جب وہ پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا: اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کروں۔”

ساٹھ سال کی عمر اور حجت کا خاتمہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَى امْرِئٍ أَخَّرَ أَجَلَهُ حَتَّى بَلَّغَهُ سِتِّينَ سَنَةً ))
صحیح البخاری:6419
ترجمہ
“اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا جسے ساٹھ سال کی عمر تک مہلت دی گئی۔”

حسنِ خاتمہ اور سوء خاتمہ کا معاملہ

عزیزانِ گرامی! یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اعمال کا دار و مدار خاتمہ پر ہے۔ کوئی شخص بظاہر ساری زندگی نیک اعمال کرتا رہے، لیکن اگر خاتمہ خراب ہو گیا تو ساری محنت ضائع ہو سکتی ہے، اور کوئی شخص زندگی بھر گناہوں میں مبتلا رہے مگر سچی توبہ اور ایمان پر اس کا خاتمہ ہو جائے تو وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَنَ الطَّوِيلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ عَمَلُهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَنَ الطَّوِيلَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ يُخْتَمُ لَهُ عَمَلُهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ))
صحیح مسلم:2651
ترجمہ
“بے شک ایک آدمی لمبے عرصے تک اہلِ جنت والے اعمال کرتا رہتا ہے، پھر اس کا خاتمہ اہلِ جہنم کے عمل پر ہو جاتا ہے۔ اور ایک آدمی لمبے عرصے تک اہلِ جہنم والے اعمال کرتا رہتا ہے، پھر اس کا خاتمہ اہلِ جنت کے عمل پر ہو جاتا ہے۔”

اعمال کا اعتبار خاتمے پر ہے

حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ ))
صحیح البخاری:6607
ترجمہ
“اعمال کا اعتبار ان کے خاتمے پر ہے۔”

اسی لیے مومن کو نہ اپنے عمل پر غرور ہونا چاہیے اور نہ ہی اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا چاہیے۔

جس حال میں موت آئے، اسی پر اٹھایا جائے گا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( مَنْ مَاتَ عَلَى شَيْءٍ بُعِثَ عَلَيْهِ ))
حاکم، صحیح علی شرط مسلم، صحیح الجامع للألبانی:6543
ترجمہ
“جس حالت پر انسان مرتا ہے، اسی حالت پر قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔”

آخری کلمات اور جنت کی ضمانت

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( مَنْ كَانَ آخِرَ كَلَامِهِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ ))
سنن ابی داود:3116، وصححہ الألبانی
ترجمہ
“جس شخص کی آخری بات لا إلہ إلا اللہ ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔”

ایک اور عظیم بشارت

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( مَنْ قَالَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ، خُتِمَ لَهُ بِهَا، دَخَلَ الْجَنَّةَ ))
مسند احمد:23324، صحیح الترغیب والترہیب:985
ترجمہ
“جس شخص نے اللہ کی رضا کے لیے لا إلہ إلا اللہ کہا اور اسی پر اس کا خاتمہ ہوا، وہ جنت میں داخل ہوگا۔”

نبی ﷺ کی کثرت سے کی جانے والی دعا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا فرمایا کرتے تھے:

(( يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى طَاعَتِكَ ))
ترجمہ
“اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنی اطاعت پر ثابت رکھ۔”

جب آپ ﷺ سے پوچھا گیا تو فرمایا:

“بندوں کے دل رحمٰن کی انگلیوں کے درمیان ہیں، وہ جس کا دل چاہے پھیر دیتا ہے۔”
مسند احمد، حدیث صحیح لغیرہ

خوفِ آخرت اور کامیابی

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(( مَنْ خَافَ أَدْلَجَ، وَمَنْ أَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ ))
سنن الترمذی:2450، وصححہ الألبانی
ترجمہ
“جو ڈرتا ہے وہ چل پڑتا ہے، اور جو چل پڑتا ہے وہ منزل پا لیتا ہے۔ خبردار! اللہ کا سودا مہنگا ہے، اور اللہ کا سودا جنت ہے۔”

نتیجہ

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ موت کو یاد رکھے، قبر اور آخرت کی تیاری کرے، اللہ تعالیٰ سے حسنِ خاتمہ کی دعا مانگتا رہے اور ہر لمحہ اس کوشش میں رہے کہ اگر ابھی موت آ جائے تو وہ اللہ سے راضی حالت میں اس سے ملاقات کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان، تقویٰ اور حسنِ خاتمہ نصیب فرمائے، اور نیک لوگوں کی موت عطا کرے۔ آمین۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے