مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

منگنی کی تقریب میں تحائف دینے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال:

کیا حکم ہے اس مجلس کا جس کو بعض لوگ ”منگنی کا تحفہ دینے کی محفل“ کا نام دے کر منعقد کرتے ہیں جس میں خاطب (منگنی کرنے والے لڑکے) اور مخطوبہ (جس لڑکی سے منگنی کی جا رہی ہے) کی ملاقات ہوتی ہے اور پیغام نکاح دینے والا لڑکا لڑکی کو منگنی کا ہار یا کنگن پہناتا ہے جو اس نے لڑکی کے لیے تیار کروا رکھا ہوتا ہے، اور یہ سب کچھ اس عقد سے پہلے ہوتا ہے جس عقد کے بعد ان کا آپس میں ملنا جائز ہو جاتا ہے؟

جواب:

یہ بات تو معلوم و مشہور ہے کہ مخطوبہ عقد نکاح مکمل ہونے سے پہلے اجنبی عورت ہی ہوتی ہے اور اس کے لیے خاطب کے ساتھ میل ملاقات رکھنا جائز نہیں ہے۔ سائل نے جس محفل منگنی کا ذکر کیا ہے سو وہ محفل حرام ہے اس کا منعقد کرنا جائز نہیں ہے۔ بلکہ اس سے گریز کرتے ہوئے بچنا چاہیے۔ لیکن جب مرد اور عورت کے درمیان عقد نکاح مکمل ہو جائے تو اب ہر لحاظ سے وہ اس کی بیوی ہے، اب وہ تمام کام کر سکتا ہے جس کاسائل نے ذکر کیا ہے، یعنی اس کے پاس جا سکتا ہے اس کو زیور ات وغیرہ پہنانا چاہے پہنا سکتا ہے، اور اس سے خلوت و تنہائی بھی اختیار کر سکتا ہے۔
[فتاوي علماء البلد الحرام ص: 631]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔