سوال:
منکر و نکیر کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب:
منکر و نکیر دو فرشتوں کے نام ہیں، جو قبر میں سوال و جواب کے وقت حاضر ہوتے ہیں، ان پر ایمان لانا ضروری ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
العبد إذا وضع فى قبره، وتولي وذهب أصحابه حتى إنه ليسمع قرع نعالهم، أتاه ملكان، فأقعداه، فيقولان له: ما كنت تقول فى هذا الرجل محمد صلى الله عليه وسلم؟ فيقول: أشهد أنه عبد الله ورسوله، فيقال: انظر إلى مقعدك من النار أبدلك الله به مقعدا من الجنة، قال النبى صلى الله عليه وسلم: فيراهما جميعا، وأما الكافر أو المنافق فيقول: لا أدري، كنت أقول ما يقول الناس، فيقال: لا دريت ولا تليت، ثم يضرب بمطرقة من حديد ضربة بين أذنيه، فيصيح صيحة يسمعها من يليه إلا الثقلين
جب بندے کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی چلے جاتے ہیں، وہ ان کے قدموں کی آواز سن رہا ہوتا ہے۔ اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں: تو اس شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کیا کہا کرتا تھا؟ وہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، کہا جائے گا: اپنا ٹھکانہ جہنم میں دیکھ لو، جس کے بدلے میں اللہ نے تمہیں جنت میں گھر دے دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دونوں گھروں کو دیکھ لے گا۔ جو کافر یا منافق ہوگا، وہ کہے گا کہ میں بھی وہی کہا کرتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔ کہا جائے گا، تو نے نہ جانا، نہ پڑھا، پھر لوہے کے ہتھوڑے سے اسے مارا جائے گا، وہ چیخ مارے گا، جس کو سوائے جن و انس کے سب سنیں گے۔
(صحيح البخاري: 1338، صحیح مسلم: 2870)
❀ حافظ بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا حديث متفق على صحته
اس حدیث کے صحیح ہونے پر اتفاق ہے۔
(شرح السنة: 415/5)
❀ علامہ ابن ہبیرہ رحمہ اللہ (560ھ) فرماتے ہیں:
في هذا الحديث دليل على وجوب الإيمان بمنكر ونكير، وأنهما ينزلان إلى كل عبد فى قبره، وهو أول بلوى الآخرة
اس حدیث میں دلیل ہے کہ منکر و نکیر پر ایمان لانا واجب ہے، نیز دلیل ہے کہ یہ دونوں فرشتے ہر انسان کے پاس قبر میں حاضر ہوتے ہیں، یہ آخرت کی پہلی آزمائش ہے۔
(الإفصاح عن معاني الصحاح: 194/5)
امام احمد رحمہ اللہ سے عذاب قبر اور منکر و نکیر کے بارے میں سوال ہوا، تو فرمایا:
نؤمن بهذا كله، ومن أنكر واحدة من هذه، فهو جهمي
ہم ان سب پر ایمان رکھتے ہیں، جس نے اس میں سے کسی چیز کا بھی انکار کیا، وہ جہمی ہے۔
(مسائل ابن هانئ: 1879)