منفرد شخص جہری قرآت کر سکتا ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

منفرد شخص جہری قرآت کر سکتا ہے؟

جواب:

کر سکتا ہے۔
❀ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”نبی کریم صلى الله عليه وسلم ایک رات باہر تشریف لائے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ آہستہ آواز سے قرآت کر رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزر ہوا تو وہ اونچی آواز سے تلاوت کر رہے تھے۔ جب وہ دونوں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ابوبکر! میں آپ کے پاس سے گزرا، آپ آہستہ آواز سے نماز پڑھ رہے تھے۔ عرض کیا: اللہ کے رسول! جس ذات سے سرگوشی کر رہا تھا، اسے میں نے اپنی بات سنا دی ہے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میرا آپ کے پاس سے گزر ہوا، آپ بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے۔ عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے سوئے ہوؤں کو جگا رہا تھا اور شیطان کو بھگا رہا تھا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ابو بکر! آپ اپنی آواز قدرے بلند کیجیے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آپ اپنی آواز کو تھوڑا سا پست کیجیے۔“
(سنن أبي داود: 1329، سنن الترمذي: 447، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1161) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (733) نے ”صحیح “کہا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (1/310) نے مسلم کی شرط پر ”صحیح “قرار دیا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
❀ سنن ابی داؤد کی ایک روایت (1330، وسنده حسن) میں ہے: ”آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: بلال! میں نے آپ کو کچھ آیات ایک سورت سے اور کچھ دوسری سورت سے پڑھتے سنا ہے۔ عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کا سارا کلام ہی طیب و نفیس ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ایک حصے کو دوسرے کے ساتھ ملاتا ہے۔ اس پر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جی درست۔“
❀ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”مسجد میں اعتکاف کے دوران نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا، وہ بلند آواز سے تلاوت کر رہے تھے، آپ صلى الله عليه وسلم نے خیمے کا پردہ ہٹا کر فرمایا: آپ اپنے رب سے مناجات کر رہے ہیں، ایک دوسرے کو تکلیف مت پہنچائیں، قرآت میں یا نماز میں ایک دوسرے سے آواز بلند نہ کریں۔“
(مصنف عبد الرزاق: 4216، مسند الإمام أحمد: 94/3، سنن أبي داود: 1332، فضائل القرآن للنسائي: 117، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2116) نے ”صحیح “قرار دیا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (311/1) نے اسے بخاری و مسلم کی شرط پر ”صحیح “کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے