سوال:
امام کے پیچھے سورت فاتحہ پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب:
منفرد، امام اور مقتدی کو ہر نماز میں سورت فاتحہ پڑھنا ضروری ہے، خواہ وہ نماز سری ہو یا جہری، اس کے بغیر نماز نہیں۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿فاقرؤا ما تيسر من القرآن﴾
(المُزَّمِّل: 20)
”جتنا قرآن میسر ہو، اس کی قرآت کرو۔“
❀ علامہ قاسم بن قطلوبغا رحمہ اللہ (879ھ) کہتے ہیں:
يوجب بعمومه القراءة على المقتدي.
”یہ آیت اپنے عموم کے ساتھ مقتدی پر قرآت واجب کرتی ہے۔“
(خلاصة الأفكار شرح مختصر المنار: 197)
❀ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب.
”جو شخص سورت فاتحہ نہ پڑھے، اس کی کوئی نماز نہیں۔“
(صحيح البخاري: 756، صحیح مسلم: 394)
❀ اس حدیث پر امیر المومنین فی الحدیث، سید الفقہا امام بخاری رحمہ اللہ (256ھ) نے ان الفاظ میں باب قائم کیا ہے:
باب وجوب القراءة للإمام والمأموم فى الصلوات كلها، فى الحضر والسفر، وما يجهر فيها وما يخافت.
” اس بات کا بیان کہ امام ہو یا مقتدی، سفر میں ہو یا حضر میں، تمام نمازوں میں، خواہ وہ جہری ہوں، یا سری، (سورت فاتحہ کی) قرآت واجب ہے۔“
❀ علامہ کرمانی حنفی رحمہ اللہ (786ھ) فرماتے ہیں:
فيه دليل على أن قراءة الفاتحة واجبة على الإمام والمأموم والمنفرد فى الصلوات كلها فهو صريح فى دلالته على جميع أجزاء الترجمة.
”یہ حدیث دلیل ہے کہ امام، مقتدی اور منفرد پر تمام نمازوں میں سورت فاتحہ پڑھنا واجب ہے، یہ حدیث (امام بخاری رحمہ اللہ کے قائم کردہ) باب کے تمام اجزاء پر صریح دلالت کرتی ہے۔“
(الكواكب الدراري: 124/5)
ثابت ہوا کہ یہ حدیث اپنے عموم کے ساتھ امام، مقتدی اور منفرد سب کو شامل ہے، اس پر طرہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو نقل کرنے والے صحابی سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ خود امام کے پیچھے سورت فاتحہ پڑھنے کے قائل وفاعل تھے۔
❀ محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
صليت صلاة وإلى جنبي عبادة بن الصامت قال: فقرأ بفاتحة الكتاب، قال: فقلت له: يا أبا الوليد، ألم أسمعك تقرأ بفاتحة الكتاب؟ قال: أجل؛ إنه لا صلاة إلا بها.
” میں کسی نماز میں تھا، میرے ساتھ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کھڑے تھے۔ آپ نے (امام کے پیچھے) سورت فاتحہ پڑھی۔ (نماز کے بعد) میں نے پوچھا: اے ابو الولید (عبادہ رضی اللہ عنہ کی کنیت)! کیا میں نے آپ کو سورت فاتحہ پڑھتے نہیں سنا؟ فرمایا: جی ہاں، کیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 375/1، أحكام القرآن للطحاوي: 509، وسنده صحيح)
صحابہ کرام اپنی احادیث کے معانی ومفاہیم کو سب سے بہتر جانتے تھے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب.
”جو شخص سورت فاتحہ نہ پڑھے، اس کی کوئی نماز نہیں۔“
(كتاب القراءة للبيهقي: 100، وسنده حسن)
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى صلاة لم يقرأ فيها بأم القرآن فهي خداج ثلاثا غير تمام، فقيل لأبي هريرة: إنا نكون وراء الإمام؟ فقال: اقرأ بها فى نفسك.
”جس نے سورت فاتحہ کے بغیر نماز پڑھی، وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، مکمل نہیں ہے۔ تو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں؟ فرمایا: سورت فاتحہ آہستہ سے پڑھیں۔“
(مؤطأ الإمام مالك: 84/1، صحیح مسلم: 395)
یہ حدیث محدثین کے ہاں بالاتفاق ”صحیح “ہے۔ اسے امام ترمذی رحمہ اللہ (2953) نے حسن، امام ابو زرعہ (ترمذی، تحت الحدیث: 2953)، امام ابوعوانه (1673)، امام ابن خزیمہ (502) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (1784) نے ”صحیح “قرار دیا ہے۔
اس کا راوی علاء بن عبد الرحمن جمہور ائمہ حدیث کے نزدیک ”ثقہ “ہے۔
❀ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هو ثقة عند أهل الحديث.
” یہ (جمہور) محدثین کے ہاں ثقہ ہے۔“
(سنن الترمذي، تحت الحديث: 52)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قد أخرج له مسلم من حديث المشاهير دون الشاذ.
” امام مسلم رحمہ اللہ نے اس کی شاذ روایات کو چھوڑ کر معروف نقل کی ہیں۔“
(تهذيب التهذيب: 187/4)
معلوم ہوا کہ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس کی روایات کی تنقیح کر کے اس کی صحیح و معروف روایات ذکر کر دیں۔ لہذا مذکورہ روایت بالکل صحیح ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى صلاة لا يقرأ فيها بأم القرآن فهي خداج.
” جس نے سورت فاتحہ کے بغیر نماز پڑھی، وہ نماز ناقص (نامکمل اور باطل) ہے۔“
(مسند الإمام أحمد: 275/6، وسنده حسن)
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كل صلاة لا يقرأ فيها بفاتحة الكتاب فهي خداج.
”ہر وہ نماز، جس میں سورت فاتحہ کی قرآت نہ کی جائے، وہ ناقص (نامکمل اور باطل) ہے۔“
(سنن ابن ماجه: 841، القراءة خلف الإمام للبخاري: 15)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا صلاة إلا بقراءة.
” (فاتحہ کی) قرآت کے بغیر کوئی نماز نہیں۔“
(صحیح مسلم: 396)
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اقرءوا.
”(نماز میں سورت فاتحہ کی) قرآت کریں۔“
(سنن أبي داود: 821، وسنده حسن)
ان احادیث میں سورت فاتحہ کی قرآت کا حکم عام ہے، منفرد یا امام کی تخصیص پر کوئی دلیل نہیں۔
❀ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بعض الصلوات التى يجهر فيها بالقراءة، قال: فالتبست عليه القراءة فلما انصرف قال: هل تقرأون معي؟ قالوا: نعم، قال: لا تفعلوا إلا بأم القرآن؛ فإنه لا صلاة لمن لم يقرأ بها.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہری نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآت بوجھل ہوگئی، نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا آپ میرے ساتھ قرآت کرتے ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، فرمایا: ایسا نہ کیا کریں، البتہ سورت فاتحہ پڑھا کریں، کیونکہ اس شخص کی نماز نہیں، جو سورت فاتحہ کی قرآت نہیں کرتا۔
(كتاب القراءة للبيهقي: 121، وسنده حسن)
❀ امام دار قطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا إسناد حسن ورجاله ثقات كلهم.
”یہ سند حسن ہے، اس کے سارے کے سارے راوی ثقہ ہیں۔“
(سنن الدارقطني، تحت الرقم: 1220)
❀ حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا إسناد صحيح ورواته ثقات.
” یہ سند صحیح ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں۔“
(كتاب القراءة للبيهقي، تحت الرقم: 121)
❀ ایک روایت کے الفاظ ہیں:
صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بعض الصلوات التى يجهر فيها بالقراءة فقال: لا يقرأن أحد منكم إذا جهرت بالقراءة إلا بأم القرآن.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہری نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نماز میں میں اونچی قرآت کر رہا ہوں، اس میں آپ سوائے سورت فاتحہ کے کوئی قرآت مت کریں۔“
(سنن النسائي: 920، وسنده حسن)
❀ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الغداة فثقلت عليه القراءة فلما انصرف قال: إني أراكم تقرؤون وراء إمامكم، قال: قلنا: أجل والله يا رسول الله هذا قال: فلا تفعلوا إلا بأم القرآن، فإنه لا صلاة لمن لم يقرأ بها.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، تو آپ پر قرآت گراں ہوگئی، جب سلام پھیرا، تو فرمایا: مجھے لگتا ہے کہ آپ اپنے امام کے پیچھے قرآت کرتے ہیں۔ ہم نے عرض کیا: جی ہاں! اللہ کے رسول!، ہم جلدی جلدی پڑھتے ہیں، فرمایا: ام القرآن (سورت فاتحہ) کے علاوہ کچھ نہ پڑھا کریں، کیونکہ جو اسے نہیں پڑھتا، اس کی نماز نہیں ہوتی۔“
(مسند أحمد: 322/5، سنن أبي داود: 823، سنن الترمذي: 311، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن الجارود رحمہ اللہ (321)، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1581) امام ابن حبان رحمہ اللہ (1848) اور امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الکبری: 166/2) نے ”صحیح “کہا ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام دار قطنی رحمہ اللہ (سنن: 319/1) نے سند کو ”حسن “کہا ہے۔
❀ حافظ خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إسناده جيد لا مطعن فيه.
”یہ سند جید ہے، اس میں کوئی کلام نہیں۔“
(معالم السنن: 205/1)
❀ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”جید “کہا ہے۔
(البدر المنير: 547/3)
محمد بن اسحاق بن یسار اکثر نقاد ائمہ کے نزدیک حسن الحدیث ہیں۔
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ألأكثرون وثقوه.
”اکثر ائمہ نے ان کی توثیق کی ہے۔“
(المجموع: 190/9)
❀ حافظ ابو العباس دغولی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إمام فى المغازي صدوق فى الرواية.
” آپ امام مغازی تھے، روایت میں سچے تھے۔“
(القراءة خلف الإمام للبيهقي، ص 59، وسنده صحيح)
❀ حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا قول أئمتنا فى محمد بن إسحاق.
” محمد بن اسحاق کے بارے میں ہمارے ائمہ کی یہی رائے ہے۔“
(القراءة خلف الإمام، ص 59)
❀ علامہ زیلعی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الأكثر على توثيقه.
” اکثر ائمہ ان کی توثیق کرتے ہیں۔“
(نصب الراية: 7/4)
❀ علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
موثق عند الجمهور.
” جمہور کے نزدیک موثق ہے۔“
(شرح أبي داود: 286/2)
❀ نیز فرماتے ہیں:
إن ابن إسحاق من الثقات الكبار عند الجمهور.
”بلا شبہ جمہور کے نزدیک محمد بن اسحاق کبار ثقات میں سے تھے۔“
(شرح أبي داود: 212/4)
محمد بن اسحاق نے مسند احمد، صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان میں سماع کی تصریح کی ہے، نیز علاء بن حارث نے ان کی متابعت بھی کی ہے۔
(كتاب القراءة للبيهقي: 115، وسنده حسن)
❀ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لعلكم تقرؤون والإمام يقرأ، قالها ثلاثا، قالوا: إنا لنفعل ذاك، قال: فلا تفعلوا إلا أن يقرأ أحدكم بفاتحة الكتاب.
”جب امام قرآت کرتا ہے، تو کیا آپ بھی ساتھ قرآت کرتے ہیں؟ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ پوچھی، تو صحابہ نے عرض کیا: ہم ایسا کرتے ہیں۔ فرمایا: ایسا مت کیا کریں، البتہ آپ سورت فاتحہ کی قرآت کرلیا کریں۔“
(مسند الإمام أحمد: 81/5، القراءة خلف الإمام للبخاري: 37)
❀ حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا إسناد صحيح.
”یہ سند صحیح ہے۔“
(معرفة السنن والآثار: 54/2)
❀ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اس حدیث سے حجت پکڑی ہے۔
(كتاب القراءة للبيهقي، ص 76)
❀ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ”محفوظ “کہا ہے۔
(صحیح ابن حبان: 1849)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔
(التلخيص الحبير: 566/1)
❀ حافظ بوصیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا إسناد جيد.
” یہ سند عمدہ ہے۔“
(اتحاف الخيرة المهرة: 342/2)
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أحدكم إذا قام فى صلاته فإنه يناجي ربه.
” جب آپ میں سے کوئی نماز میں کھڑا ہو، تو وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے۔“
(صحيح البخاري: 405، صحیح مسلم: 551)
❀ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
في هذا الخبر بيان واضح بأن على المأموم قراءة فاتحة الكتاب فى صلاته، إذ المصطفى صلى الله عليه وسلم أخبر أن المصلي يناجي ربه، والمناجاة لا تكون إلا بنطق الخطاب دون التسبيح والتكبير والسكوت.
” اس حدیث میں واضح بیان ہے کہ مقتدی کے لیے نماز میں سورت فاتحہ پڑھنا ضروری ہے، کیونکہ مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ نمازی اپنے رب سے مناجات کرتا ہے، مناجات تو مخاطب کر کے ہی کی جاتی ہے (مراد تلاوت ہے۔) نہ کہ تسبیح، تکبیر اور سکوت سے۔“
(صحیح ابن حبان، تحت الحديث: 1783)
❀ نیز فرماتے ہیں:
الأمر بقراءة فاتحة الكتاب فى الصلاة أمر فرض، قامت الدلالة من أحبار أخر على صحة فرضيته، ذكرناها فى غير موضع من كتبنا والأمر بقراءة ما تيسر غير فرض، دل الإجماع على ذلك.
”نماز میں سورت فاتحہ کی قرآت کا حکم فرض ہے، دیگر کئی احادیث میں اس کی فرضیت ثابت ہے، جنہیں ہم نے اپنی کتابوں میں کئی جگہ ذکر کیا ہے، جبکہ فاتحہ کے علاوہ قرآت کا حکم فرض نہیں ہے، اجماع اس پر دلیل ہے۔“
(صحیح ابن حبان، تحت الحديث: 1790)
امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
سألت سفيان الثوري قلت: الرجل إذا قام إلى الصلاة، أى شيء ينوي بقراءته وصلاته؟ قال: ينوي أنه يناجي ربه.
”میں نے سفیان ثوری رحمہ اللہ سے پوچھا: جب آدمی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے، تو وہ قرآت اور نماز کی کیا نیت کرے؟ فرمایا: نیت کرے کہ وہ اپنے رب سے مناجات کرنے لگا ہے۔“
(تعظيم قدر الصلاة: 159، وسنده صحيح)
فاہدہ :
❀ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب.
”جو شخص سورت فاتحہ نہ پڑھے، اس کی کوئی نماز نہیں۔“
(صحيح البخاري: 756، صحیح مسلم: 394)
یہ حدیث دلیل ہے کہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ یہی اس روایت کا درست مفہوم اور معنی ہے۔
بعض کہتے ہیں کہ یہاں ”لا“ نفی جنس کے لیے نہیں، بلکہ نفی کمال کے لیے ہے۔ مطلب کہ نماز ہو جاتی ہے، البتہ کامل نہیں ہوتی، بطور دلیل یہ حدیث پیش کرتے ہیں۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا صلاة بحضرة الطعام.
” کھانا حاضر ہو، تو نماز نہیں۔“
(صحیح مسلم: 560)
یہاں ”لا“ نفی جنس مراد لینے میں اجماع مانع ہے، کیونکہ تمام فقہا مجتہدین کا اجماع ہے کہ کھانے حاضر ہو، تو نماز پڑھی جاسکتی ہے، البتہ جماعت ترک کرنے میں رخصت ہے۔
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
يمنع من ذلك إجماع، لا يعرف خلافه عن مجتهد كبير محقق.
” یہاں نماز کے عدم صحت مراد لینے میں اجماع مانع ہے، اس کی مخالفت کسی بڑے محقق مجتہد سے معلوم نہیں۔“
(كتاب الأحكام الكبير: 444/2)
نیز سورت فاتحہ والی حدیث میں نفی کمال مراد لینے پر یہ روایت بھی پیش کی جاتی ہے:
لا صلاة لجار المسجد إلا فى المسجد.
”مسجد کے پڑوسی کی نماز صرف مسجد میں ہی ہوتی ہے۔“
(سنن الدارقطني: 1553)
یہ روایت ضعیف ہے۔ اس طرح یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے موقوفا بھی آتی ہے، وہ بھی ضعیف ہے۔ سعید بن حیان کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع معلوم نہیں ہو سکا۔
حدیث عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ جو نماز میں سورت فاتحہ کی قرآت نہ کرے، اس کی نماز نہیں۔ اس معنی کی تائید کئی صحیح احادیث سے ہوتی ہے ۔
❀ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی ہی ایک روایت کے الفاظ ہیں:
لا تجزئ صلاة لا يقرأ الرجل فيها بفاتحة الكتاب.
” وہ نماز کفایت نہیں کرتی، جس میں سورت فاتحہ کی قرآت نہ کی جائے۔“
(سنن الدارقطني: 1225، وسنده صحيح)
❀ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”صحیح“ کہا ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تجزى صلاة لا يقرأ فيها بفاتحة الكتاب.
” وہ نماز کفایت نہیں کرتی، جس میں سورت فاتحہ کی قرآت نہ کی جائے۔“
(صحیح ابن خزيمة: 490، صحيح ابن حبان: 1789، وسنده صحيح)
حدیث میں لا تجزى صلاة کے الفاظ سے ثابت ہوا کہ حدیث عبادہ میں مذکورہ لا نفی جنس کا ہے، نہ کہ نفی کمال کا۔