مقلد کو سلام کا حکم قرآن و سنت کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ : قرآن و حدیث کی روشنی میں احکام و مسائل، جلد 01، صفحہ 531

سوال

اہل کتاب کو تو سلام سے منع کیا گیا ہے، اب ایک مقلد کو سلام کیا جا سکتا ہے چونکہ تقلید شخصی شرک ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کتاب و سنت کے منافی قول و رائے کو ماننا تقلید کہلاتا ہے۔ یہ عمل کرنے والا شخص اگر اپنے آپ کو ایمان والا ظاہر کرتا ہے، تو اس کا حکم اہل کتاب کے حکم جیسا ہے، بشرطیکہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد وہ کسی کو نبی یا رسول نہ مانتا ہو۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿اِتَّخَذُوْآ اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اﷲِ﴾
(التوبة: 31، پ 10)

’’انہوں نے اپنے علماء اور پیروں کو اللہ کے علاوہ معبود بنا رکھا ہے‘‘

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب