مضمون کے اہم نکات
رؤیت ہلال اور اختلاف مطالع
ہر سال ہلال عید اور ہلال رمضان کے موقع پر اختلاف مطالع کا مسئلہ چھڑ جاتا ہے لہذا اس سلسلہ میں مختصر عرض ہے:
رؤیت ہلال رمضان وعید:
کسی بھی عربی مہینے کا دخول صرف دو ہی طرح سے ثابت ہو سکتا ہے۔
اولاً : رویت ہلال ۔
ثانياً : ماہ رواں کا اکمال۔
مثلاً ماہ رمضان کا چاند نظر آ جائے تو اگلے دن روزہ ہوگا چاہے شعبان کے ابھی انتیس (29) دن ہی گزرے ہوں اور اگر انتیس (29) شعبان کو مطلع ابر آلود ہونے یا کسی بھی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو ماہ شعبان کی گنتی تیس (30) دن پوری کر کے اگلے دن کا روزہ ہوگا چاہے چاند نظر آئے یا نہ آئے۔ اسی طرح ہی اگر انتیس (29) رمضان کو چاند نظر نہ آئے یا ابر و بادل وغیرہ کی وجہ سے نظر نہ آئے تو رمضان کے تیس (30) دن کی گنتی پوری کی جائے گی اور اس سے اگلے دن بہر صورت عید کی جائے گی ہمیں رمضان کو شام خواہ چاند نظر آئے یا نہ آئے اور اگر انتیس (29) رمضان کی شام چاند نظر آ جائے تو اگلا دن یکم شوال عید الفطر کا دن ہوگا۔
اس اصول کی بنیاد صحیح بخاری و مسلم، نسائی اور مسند احمد میں وارد اس ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لا تصوموا حتى تروا الهلال ولا تفطروا حتى تروه، فإن غم عليكم فاقدروا له (وفي رواية) فأكملوا العدة ثلاثين
بحوالہ مشکوٰۃ 1 / 615 والفتح الرباني ترتيب وشرح مسند احمد الشیبانی 247/9
”اس وقت تک روزہ رکھنا شروع نہ کرو جب تک کہ ہلال رمضان نہ دیکھ لو اور اس وقت تک افطار (عید الفطر) نہ کرو جب تک کہ اسے (یعنی ہلال عید کو) دیکھ نہ لو اور اگر (بادلو باراں کی وجہ سے) وہ نظر نہ آئے تو اس کا حساب کر لو۔ (اور ایک دوسری روایت میں اس کی تشریح بھی آ گئی ہے کہ) ماہ رواں شعبان کی گنتی تیس (30) دن پوری کر لو۔“
رؤیت ہلال رمضان کی شہادت:
یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ رؤیت ہلال میں یہ شرط نہیں کہ ہر آدمی خود اپنی آنکھ سے ہی چاند دیکھے تو روزہ رکھے یا عید کرے بلکہ روزہ رکھنے کے لیے ایک عاقل و بالغ، نیک خصال و صدق مقال اور قوی النظر شخص شہادت دے دے کہ اس نے چاند دیکھا ہے تو اس کی شہادت پر روزہ رکھنا واجب ہو جائے گا جیسا کہ ابو داؤد، ابن حبان، مستدرک حاکم، دارمی اور بیہقی میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
تراءى الناس الهلال فأخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم إني رأيته فصام وأمر الناس بصيامه
المنتقى مع النيل : 187/4/2، مشكوة : 617/1 ، ارواء الغليل : 4 / 16 وصححه ، بلوغ الأماني : 9/ 267 .
لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے چاند دیکھا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔
یہ تو ایک معروف آدمی کی شہادت کا معاملہ ہے لیکن اگر کوئی شخص مستور الحال ہو، اس کے فسق و گنہگار کبائر یا عدم فسق کا علم نہ ہو تو ایک حدیث کی رو سے اس سے توحید ورسالت کی شہادت کا مطالبہ کرنے کے بعد اس کی شہادت قبول کی جا سکتی ہے جیسا کہ سنن اربعہ و دار قطنی، ابن حبان، بیہقی و مستدرک حاکم اور دارمی میں ایک متکلم فیہ حدیث ہے کہ ایک آدمی (اعرابی) نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ میں نے چاند دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اقرار توحید ورسالت کی شہادت طلب کی۔ اس نے اقرار کیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا:
يا بلال أذن فى الناس فليصوموا غدا
”اے بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل وہ روزہ رکھیں۔“
مشكوة : 12 / 616-617 – الارواء : 4 / 15 وضعفه بلوغ الأماني 267/9 – وصححه الحاكم في المستدرك 424/1 ووافقه الذهبي .
صرف ایک شاہد کی گواہی سے رمضان کا آغاز ثابت ہونا جمہور اہل علم کا مسلک ہے جن میں امام ابن المبارک والے مشہور قول کے مطابق امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور احناف بھی شامل ہیں۔
بلوغ الأماني شرح مسند احمد الشيباني : 268/9 ونيل الأوطار 187/4/2 .
رؤیت ہلال عید کی شہادت:
ہلال رمضان کی رویت جیسی صورت ہی ہلال عید کے بارے میں بھی ہے سوائے اس کے کہ ابتداء رمضان یا روزہ رکھنے کے لیے صرف ایک ہی مسلمان کی شہادت کافی ہوتی ہے مگر انتہائے رمضان یا عید کا چاند دیکھنے کے بارے میں دو گواہوں کی شہادت ضروری ہے جیسا کہ ابو داؤد و نسائی، دار قطنی اور مسند احمد میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ عہد نبوت میں ایک دفعہ انتیس (29) رمضان کی شام کو چاند نظر نہ آیا تو لوگوں نے صبح تیسواں (30) روزہ رکھا۔ دن کے وقت دو اعرابی آئے اور انہوں نے رات چاند دیکھ لینے کی شہادت دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم فرمایا کہ روزہ افطار کر لیں۔
الفتح الرباني ترتيب مسند احمد وشرحه 9 / 665 وقال اسناده حسن ثابت .
اسی حدیث اور ایسی ہی بعض دیگر احادیث (دیکھیے: الفتح وشرحه 264/9-270 و نیل الاوطار 4/2/) سے استدلال کیا جاتا ہے کہ عید کے چاند کے لیے دو آدمیوں کی شہادت ضروری ہے اور اس کے قائلین میں آئمہ اربعہ بھی شامل ہیں اور ان سب کا ایک دوسرا قول بھی ہے۔
بلوغ الأمانى 269/9 .
اگر چہ بعض اہل علم نے ہر دو کے لیے ہی ایک ایک شہادت اور بعض نے ہر دو کے لیے دو دو شہادتوں کو ضروری قرار دیا ہے۔ صرف ایک ہی شاہد عادل کی گواہی سے ہلال عید کا اثبات امام ابو ثور کا قول ہے جسے امام شوکانی نے ظاہر قرار دیا ہے۔
النيل 2/ 4 / 188
لیکن ان کے پاس کوئی صحیح و مرفوع حدیث پر مبنی دلیل نہیں ہے۔ صرف عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے مروی ایک اثر فاروقی ہے جو کہ مسند احمد و بزار میں ہے، اس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے بتایا کہ میں نے شوال کا چاند دیکھا ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
يا أيها الناس افطروا
اے لوگو! روزہ افطار کر لو۔
الفتح الرباني 266/9-267 .
لیکن ایک تو یہ اثر ہے مرفوع حدیث نہیں دوسرے یہ کہ یہ بھی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے بلکہ علامہ بیشمی نے مجمع الزوائد میں اسے نقل کر کے لکھا ہے:
اس کی سند میں ایک راوی عبد الاعلیٰ ثعلبی ہے جس کے بارے میں امام نسائی نے کہا ہے کہ وہ قوی نہیں ہے، تاہم اس کی حدیث لکھی جائے گی اور دیگر آئمہ فن نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
بحوالہ بلوغ الامانی 9/ 267 .
لہذا یہ تو قابل حجت نہ ہوا۔ اور امام شوکانی رحمہ اللہ علیہ نے ان کی تائید میں جو انداز استدلال اختیار فرمایا ہے اس کی تفصیل نیل الاوطار میں دیکھی جا سکتی ہے۔
النيل 187/4/2-188 .
اب رہے وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ رمضان وعید ہر دو کے اثبات ہلال کے لیے دو گواہ ضروری ان کا استدلال نسائی و دار قطنی اور مسند احمد میں حضرت عبد الرحمن بن زید بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سے ہے جس میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
فإن شهد شاهدان فصوموا وافطروا .
مسند احمد میں شاهدان کے بعد مسلمان بھی ہے اور دار قطنی میں ذوا عدل ہے۔
بحوالہ المنقى مع النيل /4/2 / 187 – 188 ، ارواء الغليل 16/4-17 وصححه، الفتح الرباني 264/9 – 265 .
اگر دو گواہ جو مسلمان ہوں اور عادل ہوں، وہ گواہی دے دیں کہ انہوں نے چاند دیکھا ہے تو ان کی گواہی پر روزہ رکھو اور افطار (عید) کرو۔
اس حدیث کی تائید ابو داؤد و دار قطنی کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں امیر مکہ حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
عهد إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ننسك للرؤية فإن لم نره وشهد شاهدا عدل نسكنا بشهاد تهما .
المنتقى : 2 / 4 / 189 وصححه الدارقطني .
ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا ہے کہ ہم رؤیتِ ہلال پر عمل کریں اور اگر چاند نہ دیکھ پائیں اور دو عادل شاہد گواہی دے دیں تو اس پر عمل کر لیں۔
ان احادیث میں رمضان وعید ہر دو کے اثبات کے لیے دو گواہ مذکور ہیں لیکن رمضان کے سلسلہ میں چونکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی روایات میں ہے کہ ایک ہی گواہ کی شہادت پر روزہ رکھا گیا تھا لہذا ان ہر دو مواقع کے مابین فرق واضح ہو گیا اور دو والی احادیث کے تو صرف مفہوم سے پتہ چلتا ہے کہ ایک کی شہادت سے روزہ نہیں رکھا جائے گا جبکہ ایک کی شہادت سے روزہ رکھنے والی احادیث کا منطوق (ظاہری الفاظ و مفہوم) بتاتا ہے کہ ایک کی شہادت اس موقع کے لیے کافی ہے اور مفہوم سے منطوق کی دلالت راجح ہوتی ہے لہذا اثبات رمضان کے لیے ایک ہی شہادت کافی ہے۔
بلوغ الاماني : 9 / 268 .
فیصلہ کن بات:
ان مختلف اقوال اور احادیث کے مابین جمع و تطبیق اس طرح کی جا سکتی ہے اور یہی فیصلہ کن بات بھی ہے کہ روزے کے لیے ایک اور عید کے لیے دو گواہوں والی بات ہی زیادہ قرین قیاس ہے کیونکہ روزہ ایک بوجھ یا مشقت محسوس ہوتا ہے، اس کی شہادت و گواہی دینے میں کسی شہبے کا احتمال نہیں ہوتا جبکہ عید کے چاند سے ایک خوشی ہوتی ہے اور ایک شخص کی شہادت میں شہبے کا احتمال ممکن ہے لہذا اس کے لیے دو آدمیوں کی گواہی کا حکم ہی مناسب ہے۔
فتاوى علماء حديث /193/6 مؤلف: مولانا على محمد سعيدي ، اطلاع ارباب الكمال مولانا عبدالعزيز نورستاني ص73. مكتبه ايوبيه، كراچي.
ایک نادر صورت:
اگر چاند نظر نہ آئے اور نہ ہی کوئی شہادت ہو تو تیس (30) کی تعداد پوری کر لینی چاہیے اور اگر کوئی ایسی شہادت ہو جو شرعاً معتبر نہ ہو تو ایسے موقع پر شہادت دینے والا خواہ واقع میں سچا ہی کیوں نہ ہو اسے اکیلے اپنی رؤیت پر عمل نہیں کرنا چاہیے بلکہ باقی لوگوں کے ساتھ رہے جس دن سب لوگ روزہ رکھیں وہ بھی رکھے اور جس دن سب لوگ عید کریں اسی دن وہ بھی عید کرے اور قربانی وعید الاضحی کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ ابو داؤد و ترمذی، ابن ماجہ و بیہقی اور دار قطنی میں حدیث ہے:
الصوم يوم تصومون والفطر يوم تفطرون والأضحى يوم تضحون.
الارواء : 11/4-14 وصححه مجموع فتاوي ابن تيميه : 25/ 114 – فتاويٰ علماء حديث 194/6 .
”روزے کا دن وہی ہے جس دن تم سب لوگ روزہ رکھو اور عید کا دن وہی ہے جس دن تم سب لوگ عید کرو اور عید الاضحی و قربانی کا دن وہی ہے جس دن تم سب قربانی کرو۔“
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اگر کبھی پہلا روزہ کسی وجہ سے نہ رکھا جا سکا ہو اور اٹھائیس روزے پورے ہونے پر ہلال عید نظر آ جائے جیسا کہ پچھلے سالوں میں ایک مرتبہ ان عرب ممالک (خلیجی ریاستوں اور سعودی عرب) میں ایسا ہو گیا تھا تو ایسے میں تمام مسلمانوں کے ساتھ مل کر عید کر لینی چاہیے بلا وجہ مسلمانوں کی عید کے دن انیسویں روزے کے لیے بضد نہیں ہونا چاہیے البتہ چونکہ یہ متفق علیہ بات ہے کہ کوئی عربی مہینہ انتیس دنوں سے کم نہیں ہو سکتا لہذا عید کے بعد سب کو ایک روزہ قضاء ضرور رکھ لینا چاہیے تا کہ تلافی مافات ہو جائے اور مسلمانوں کی عید کی اجتماعی خوشیوں میں شرکت بھی ہو جائے اور چاند چونکہ نظر آ گیا ہے لہذا صحیحین و سنن میں وارد حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
صوموا لرؤيته وافطروا لرؤيته.
الارواء : 3/4 – المنتقى : 189/4/2
پر بھی عمل ہو جائے گا۔
ملخصه في الفتاوى : 207/6 .
اس سلسلہ میں اس سال متعدد کبار علماء کے فتاویٰ صادر ہوئے تھے جن میں یہی بات بیان کی گئی تھی۔
دیکھئے: فتوى الشيخ ابن باز في فتاوی اسلامیه 2/ 132 طبع دارلقلم، بيروت .
دوسرے مقام کی رؤیت:
اگر ایک جگہ کے لوگ رمضان یا عید کا چاند دیکھنے کی کوشش کریں لیکن بادل و باراں یا گرد و غبار کی وجہ سے چاند نہ دیکھ سکیں اور کسی دوسرے مقام پر مطلع صاف ہونے کی وجہ سے چاند دیکھ لیا جائے اور وہاں سے ٹیلیفون، ٹیلیگرام (تار)، فیکس یا ای میل کے ذریعے خبر پہنچ جائے کہ چاند دیکھا گیا ہے تو ٹیلیفون کی شکل انتہائی واضح ہے کہ اس پر اعتبار کیا جائے گا کیونکہ خبر دینے والے کو پہچانا مشکل نہیں ہوتا۔ البتہ ٹیلیگرام وغیرہ کے بارے میں فقہاء کی رائے کافی مختلف یا تفصیل پر ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح ہم اپنے دنیوی امور میں خبر کو معتبر سمجھتے ہیں ایسے ہی اگر متعدد لوگوں کی طرف سے اتنے تار وغیرہ آ جائیں جو حد تواتر کو پہنچ جائیں اور خبر کا یقین ہو جائے تو وہ تار والی خبر بھی معتبر ہو گی۔ اور یہی معاملہ قریبی ریڈیو، ٹی وی کی خبر کا بھی ہے۔ کسی اسلامی ملک یا غیر مسلم ملک کے مسلمانوں کی کسی انجمن کی طرف سے بنائی گئی رؤیت ہلال کمیٹی چاند نظر آنے کا اعلان کر دے (جسے ان کے حوالے سے چاہے کوئی غیر مسلم اناؤنسر ہی کیوں نہ نشر کرے) اس ملک یا اس مقام کے ہمسایہ ممالک کے قریبی علاقوں میں رہنے والے عوام کے لیے شرعی حجت پوری ہو جاتی ہے۔ وہ ہلال رمضان ہو تو روزہ رکھ سکتے ہیں اور اگر ہلال شوال ہو تو عید کر سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں چاند کی خبر ہونے پر سنن اربعہ و دارمی والی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو أذن فى الناس فليصوموا غدا. (حوالہ جات گزر گئے ہیں) کے الفاظ سے روزے کا اعلان کرنے کا حکم دینا، سرکاری اعلان کی حیثیت سے قابل توجہ امر ہے۔
اختلاف مطالع کا اعتبار:
لیکن یہاں ایک اہم بات پیش نظر رہے کہ ریڈیو، ٹی وی، ٹیلیفون، ٹیلیگرام، فیکس، ای میل، فیس بک، ٹویٹر یا انٹرنیٹ کی خبر تو چند لمحات میں اطراف واکناف عالم میں پہنچ جاتی ہے تو کیا جہاں کہیں بھی چاند نظر آئے اور جہاں جہاں تک خبر پہنچ جائے، ان سب لوگوں پر روزہ رکھنا یا عید منانا واجب ہو جائے گا؟
یہ ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے جو ”اختلاف مطالع“ کے عنوان سے محدثین عظام اور فقہاء کرام میں عہد قدیم سے ہی معروف چلا آ رہا ہے اور اہل علم نے اس موضوع پر بڑی طول طویل بحثیں لکھی ہیں جن سے شروح حدیث اور کتب فقہ بھری پڑی ہیں اور انہوں نے اس مسئلہ کو نکھارنے کا حق ادا کر دیا ہے۔ ان تمام بحوث کا خلاصہ جسے ”عطر گل“ کہا جا سکتا ہے یہ ہے کہ:
پوری دنیا میں چاند کا مطلع یا وقت طلوع ایک نہیں ہو سکتا بلکہ بعض ممالک میں چاند شام کو نظر آ سکتا ہے جبکہ دوسرے دور کے ممالک میں اُسی دن چاند کا نظر نہ آنا آج ایک کھلی ہوئی حقیقت بن چکا ہے لہذا اختلاف مطالع کا اعتبار کیا جائے گا یعنی یہ ضروری نہیں کہ جس دن سعودی عرب اور قریبی خلیجی ریاستوں یا ممالک میں روزہ یا عید ہو اسی دن پاک و ہند اور دنیا کے دیگر دور افتادہ ملکوں میں بھی ہو اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ جس دن ایران و افغانستان میں روزہ یا عید ہو اُسی دن انڈیا اور بنگلہ دیش میں بھی ہو بلکہ ہر ملک کی اپنی اپنی رؤیت ہے اور وہاں کے رہنے والے لوگ اسی کے پابند ہیں۔ اس بات کو احناف نے بھی مانا ہے۔
دیکھئے: جدید فقہی مسائل مولانا خالد سیف اللہ رحمانی فاضل دیو بند ص 29 و مابعد ۔
مطالع میں اختلاف کے لیے مسافت:
یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ وہ دوری کتنی ہے کہ دو جگہوں یا ملکوں میں چاند کا مختلف دنوں میں نظر آنا ممکن ہے؟ اور اس دوری و مسافت پر واقع ممالک کی اپنی اپنی رؤیت شمار ہو گی؟ اس مسافت کے سلسلہ میں بھی فقہاء اور اہل علم نے متعدد آراء ظاہر کی ہیں بعض نے مجمل طور پر لکھا ہے کہ عراق و حجاز اور شام ایسے ممالک ہیں اور اتنی دوری پر واقع ہیں کہ وہاں کے لوگوں کے لیے ایک دوسرے کے ملک کی رؤیت کافی نہیں اور نہ ہی وہ دوسرے ملک کی رؤیت پر عید کرنے یا روزہ رکھنے کے پابند ہیں بلکہ ان تینوں ملکوں میں سے ہر ملک خود اپنی رؤیت پر انحصار کرے گا اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ علیہ کے ارشاد:
الكل أهل بلد رؤيتهم.
”ہر ملک کی اپنی اپنی رؤیت ہے۔“
المغني لابن قدامه : 813 طبع دوم 4 / 328 طبع جديده محققه .
کا یہی مطلب ہے کہ ایسے ملکوں کی اپنی اپنی رؤیت ہے۔
اس مجمل مسافت یا دوری کی مزید وضاحت اس امر سے بھی ہو جاتی ہے کہ علم ہیئت و جغرافیہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ غروب آفتاب کے وقت چاند اگر کسی ملک میں آٹھ درجے بلند ہے تو وہ غروب آفتاب کے بعد تیس (30) منٹ تک رہے گا۔ ایسا چاند اس مقام رویت سے مشرقی علاقہ میں پانچ سو ساٹھ (560) یا پانچ سو (500) میل تک ضرور موجود ہو گا تو گویا جہاں چاند نظر آ جائے وہاں سے مشرق کی جانب پانچ سو ساٹھ (560) یا کم از کم پانچ سو (500) میل تک طلوع ہلال کا اعتبار ہو گا۔ اس سے آگے نہیں اور مقام رؤیت سے مغربی جانب کے ممالک میں مطلقاً رؤیت ہلال کا اعتبار ہو گا۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ مشرق میں چاند نظر آ جائے تو مغرب میں اس کا طلوع ضروری ہے لیکن مغرب میں اس کے دیکھے جانے سے مشرق میں بھی اس کا دیکھا جانا ضروری نہیں۔
بحوالہ ہفت روزہ الاعتصام لاہور، شمارہ بابت 16 جنوری 1987ء نیز دیکھئے: رمضان المبارک کے فضائل و احکام شیخ الحدیث مولانا عبید اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ ( صاحب مرعاۃ) ص 8-12 طبع جامعہ سلفیہ بنارس ۔
علماء و فقہاء احناف کی نظر میں:
پاک و ہند کے معروف حنفی عالم و محقق مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ علیہ نے اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور مختلف فقہاء کی کتابوں سے اقتباسات بھی نقل کیے ہیں مثلاً وہ”مراقی الفلاح“ نامی کتاب سے اس کے مصنف کا اختلاف مطالع کے بارے میں نظریہ ان کے اپنے الفاظ سے یوں نقل کرتے ہیں:
وقيل يختلف ثبوته باختلاف المطالع واختاره صاحب التجريد، كما إذا زالت الشمس عند قوم وغربت عند غيرهم – فالشهر على الأولين لا المغرب لعدم إنعقاد السبب فى حقهم.
بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ اختلاف مطالع کی وجہ سے رویت ہلال کے ثبوت میں بھی اختلاف ہو سکتا ہے۔ تجرید القدوری کے مصنف نے اسی کو ترجیح دی ہے جیسا کہ جب کچھ لوگوں کے یہاں سورج سر سے ڈھل جائے اور دوسروں کے یہاں غروب ہو جائے تو پہلے لوگوں پر ظہر ہے نہ کہ مغرب، کیونکہ ان کے حق میں مغرب کا سبب متحقق نہیں ہوا ہے۔
”مراقی الفلاح“ کے حاشیہ پر علامہ طحطاوی لکھتے ہیں:
وهو الأشبه لأن انفصال الهلال من شعاع الشمس يختلف باختلاف الأقطار كما فى دخول الوقت وخروجه وهذا مثبت فى علم الأفلاك والهيئة وأقل ما اختلف المطالع مسيرة شهر كما فى الجواهر.
یہی رائے زیادہ صحیح ہے کیونکہ چاند کا سورج کی کرنوں سے الگ ہونا علاقوں کے بدلنے سے بدلتا رہتا ہے جیسا کہ اوقات (نماز) کی آمد ورفت میں اور یہ فلکیات و علم ہیئت کے مطابق ایک ثابت شدہ حقیقت ہے اور کم از کم جس مسافت سے اختلاف مطالع واقع ہوتا ہے وہ جواہر نامی کتاب کے مطابق ایک ماہ کی مسافت ہے۔
فتاویٰ تاتارخانیہ میں ہے:
أهل بلدة إذا رأوا الهلال هل يلزم فى حق كل بلدة اختلف فيه؟ فمنهم من قال: لا يلزم وفي القدوري إن كان بين البلدتين تفاوت لا يختلف به المطالع يلزمه.
ایک شہر والے جب چاند دیکھ لیں تو کیا تمام شہروں والوں کے حق میں رؤیت لازم ہو جائے گی؟ اس میں اختلاف ہے، بعض کی رائے ہے کہ لازم نہیں ہو گی اور قدوری میں ہے کہ اگر دو شہروں کے مابین ایسا تفاوت و دوری ہو کہ مطلع تبدیل نہ ہوتا ہو تو اس صورت میں رؤیت لازم ہو گی۔
صاحب ہدایہ اپنی ایک دوسری کتاب ”مختارات النوازل“ میں لکھتے ہیں:
أهل بلدة صاموا تسعة وعشرين يوما بالرؤية وأهل بلدة أخرى صاموا ثلاثين بالرؤية فعلى الأولين قضاء إذا لم يختلف المطالع بينهما، أما إذا اختلف لا يجب القضاء.
ایک شہر والوں نے رویت ہلال کے بعد 29 روزے رکھے اور دوسرے شہر والوں نے چاند کی بناء پر 30 روزے رکھے تو اگر ان دونوں شہروں میں مطلع کا اختلاف نہ ہو تو 29 روزے رکھنے والوں کو ایک دن کی قضاء کرنی چاہیے اور اگر دونوں شہروں کا مطلع جدا گانہ ہو تو قضاء کی ضرورت نہیں۔
معروف حنفی محدث علامہ زیلعی نے کنز الدقائق کی شرح ”تبیین الحقائق“ میں اختلاف مطالع کے موضوع پر تفصیلی بحث کی ہے اور اس سلسلہ میں فقہاء احناف کے مابین پایا جانے والا اختلاف نقل کرنے کے بعد خود جو فیصلہ کیا ہے وہ یہ ہے:
الأشبه أن يعتبر لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم وانفصال الهلال عن شعاع الشمس يختلف باختلاف المطالع كما فى دخول وقت الصلاة وخروجه يختلف باختلاف الأقطار.
”زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اختلاف مطالع معتبر ہے کیونکہ ہر قوم و جماعت اس کی مخاطب ہوتی ہے جو اس کو پیش ہو اور چاند کا سورج کی کرنوں سے الگ ہونا مطالع کے اختلاف سے مختلف ہوتا رہتا ہے جیسا کہ نمازوں کے ابتدائی اور انتہائی اوقات علاقوں کے مختلف ہونے کی بناء پر مختلف ہوتے رہتے ہیں۔“
اس موضوع پر مفصل گفتگو کرنے اور فقہاء کی کتابوں سے اقتباسات نقل کرنے کے بعد علامہ لکھنوی رحمہ اللہ علیہ نے جو جچا تلا فیصلہ صادر کیا ہے وہ انہی کے الفاظ میں یہ ہے:
اصح المذاهب عقلا و نقلا هميں است كه هر دو بلده كه فيما بينهما مسافتي باشد كه در آن اختلاف مطالع مي شود و تنديرش مسافت يك ماه است دريي صورت حكم رؤيت يك بلده به بلده ديگر نخواهد شد و در بلاد متقاربه كه مسافت كم از كم يك ماه داشته باشند حكم رؤيت يك بلده ديگر لازم خواهد شد.
مجموعة الفتاوى على هامش خلاصة الفتاوى 1/ 255-256 بحوالہ جديد فقهی مسائل ص: 81-83 نیز دیکھئے: اطلاع ارباب الکمال مولانا عبدالعزیز نورستانی ص 43 – 47 طبع مکتبه ایوبیه کراچی .
عقل و نقل ہر دو اعتبار سے سب سے صحیح مسلک یہی ہے کہ ایسے دو شہر جن میں اتنا فاصلہ ہو کہ ان کے مطالع بدل جائیں جس کا اندازہ ایک ماہ کی مسافت سے کیا جاتا ہے اس میں ایک شہر کی رؤیت دوسرے شہر کے لیے معتبر نہیں ہونی چاہیے اور قریبی شہروں میں جن کے مابین ایک ماہ سے کم کی مسافت ہو ان میں ایک شہر کی رؤیت دوسرے شہر کے لیے لازمی و ضروری ہو گی۔
جدید فقہی مسائل کے مؤلف مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (فاضل دیوبند) نے لکھا ہے کہ راقم الحروف کے خیال میں یہ رائے بہت معتدل، متوازن اور قرین عقل ہے۔ البتہ اختلاف مطالع کی حدیں متعین کرنے میں ایک ماہ کی مسافت کی قید کی بجائے جدید ماہرین فلکیات کے حساب اور ان کی رائے پر اعتماد کیا جانا زیادہ مناسب ہو گا۔
مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء لکھنو کا ایک اجلاس 3 اور 4 فروری 1967ء کو منعقد ہوا جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء اور نمائندہ شخصیتوں نے شرکت کی۔ اس میں مسئلہ "رؤیت ہلال” کے تمام پہلوؤں پر غور اور فیصلے کیے گئے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ بلاد قریبہ وہ شہر ہیں جن کی رؤیت میں عام طور پر ایک دن کا فرق نہیں پڑتا (یعنی ایک ہی شام چاند نظر آ جاتا ہے) اور فقہاء نے ایک ماہ کی مسافت جو پانچ چھ سو میل ہوتی ہے اتنی مسافت پر واقع شہروں کو بلاد بعیدہ قرار دیا ہے جن کی رؤیت الگ الگ سمجھی جائے گی کہ ایک جگہ چاند نظر آ سکتا ہے اور دوسری جگہ نہیں اور اس سے کم مسافت کے شہروں کو بلاد قریبہ قرار دیا گیا ہے جن میں سے ایک شہر کی رؤیت دوسرے شہر کے لیے کافی و معتبر ہو گی۔ اور یہ بھی طے کیا گیا کہ مجلس ایک ایسے چارٹ کی ضرورت سمجھتی ہے جس سے معلوم ہو جائے کہ مطلع (چاند طلوع ہونے یا اس کے نظر آنے کا مقام) کتنی مسافت پر بدلتا ہے اور کن کن ملکوں کا آپس میں مطلع ایک ہے اور پاک و ہند کے بیشتر حصوں اور بعض قریبی ملکوں مثلاً نیپال وغیرہ کا مطلع ایک ہے۔ علماء پاک و ہند کا عمل ہمیشہ اس پر رہا ہے اور غالباً تجربہ سے بھی یہی ثابت ہے۔ ان ملکوں کے شہروں میں اس قدر بعد مسافت نہیں ہے کہ مہینہ میں ایک دن کا فرق پڑتا ہو۔ البتہ مصر و حجاز جیسے ملکوں کا مطلع پاک و ہند سے دور ہونے کی وجہ سے الگ ہے لہذا ان میں پاک و ہند میں طلوع ماہتاب (طلوع ہلال) میں ایک دن کا فرق واقع ہو جاتا ہے لہذا ان ملکوں کی رؤیت پاک و ہند والوں کے لیے لازم نہیں ہے۔
مختصراً بحوالہ جدید فقہی مسائل ص 83 84 ۔
برصغیر کے معروف عالم مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجوانی نے لکھا ہے:
ہندوستان میں وارنگل، پسلی، گوری اور مدراس، ہمیسور کے مابین بھی یہی اختلاف ممکن ہے (جو مختلف ملکوں میں ہے) ہندوستان ایک ہی ملک ہے لیکن سطح کی بلندی اور پستی کا فرق واضح ہے۔ شملہ اور آبو کا افق اور کلکتہ و چیرالوکی کا افق اپنے پھیلاؤ میں ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ طول البلاد کا اتنا فرق ہے کہ مطلع ان سب مقامات کا ایک نہیں ہو سکتا۔
الاعتصام جلد 26، شماره 32 بحوالہ فتاوی علماء حدیث 164/6۔
شکست و ریخت :
اختلاف مطالع کے سلسلہ میں یہاں پر واضح کر دیں کہ احناف کے یہاں بھی اگر چہ اختلاف موجود ہے لیکن احناف کا مشہور مذہب یہی ہے کہ اختلاف مطالع کا اعتبار ہے اور یہی صحیح تر بات ہے کہ اعتبار کیا جائے حتی کہ مولانا عبد الحئی اور بعض دیگر حنفی اہل علم نے بھی اسے ہی صحیح قرار دیا ہے اور اس مسئلہ کے تعلق سے حنفی مذہب میں جو شکست و ریخت نظر آ رہی ہے وہ اس امر سے مزید واضح ہو جاتی ہے کہ جدید فقہی مسائل کے حنفی مؤلف نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ مطالع میں اختلاف پایا جاتا ہے اور یہ مسئلہ اب نظری نہیں رہا بلکہ یہ بات مشاہدہ اور تجربہ کی سطح پر ثابت ہو چکی ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں مطلع کا اختلاف پایا جاتا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے بعض مقامات ایسے ہیں جن کے درمیان بارہ بارہ گھنٹوں کا فرق ہے عین اس وقت جبکہ ایک جگہ دن اپنے شباب پر ہوتا ہے، دوسری جگہ رات اپنا آدھا سفر طے کر چکی ہوتی ہے۔ ٹھیک اس وقت جب کہ ایک جگہ ظہر ہوتی ہے دوسری جگہ مغرب کا وقت ہو چکا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ان حالات میں ان مقامات کا مطلع ایک ہو ہی نہیں سکتا۔ فرض کیجیے کہ جہاں مغرب کا وقت ہے اگر وہاں چاند نظر آئے تو کیا جہاں ظہر کا وقت ہے وہاں بھی چاند نظر آ جائے گا؟ یا اس کو مغرب کا وقت تسلیم کر لیا جائے گا؟
اور دوسرا مسئلہ جو اختلاف مطالع کے اعتبار یا عدم اعتبار سے تعلق رکھتا ہے اس کے بارے میں احناف کا مشہور مسلک ذکر کرنے اور شافعیہ وغیرہ کے مسلک کا تذکرہ کرنے کے بعد مولانا خالد سیف اللہ رحمانی لکھتے ہیں:
یہ بات بہت واضح ہے کہ نمازوں کے اوقات میں سبھی اختلاف مطالع کا اعتبار کرتے ہیں اگر ایک جگہ ظہر یا عشاء کا وقت ہو چکا ہو اور دوسری جگہ نہ ہوا ہو تو جہاں وقت نہ ہوا ہو وہاں کے لوگ محض اس بناء پر ظہر وعشاء کی نماز ادا نہیں کر سکتے کہ دوسری جگہ ان نمازوں کا وقت ہو چکا ہے۔ یا ایک جگہ اگر مہینہ کا اٹھائیسواں (28) ہی دن ہے اور دوسری جگہ انتیسواں (29)، جہاں چاند نظر آ گیا تو محض اس بناء پر کہ دوسری جگہ چاند نظر آ گیا ہے 28 ویں تاریخ ہی پر مہینہ ختم کر کے اگلے دن رمضان یا عید نہیں کی جائے گی۔ اس لیے یہ بات فطری اور انتہائی منطقی ہے کہ مطالع کا اختلاف اور اسی لحاظ سے رمضان وعید کا اختلاف تسلیم کرنا ہی پڑے گا۔
دیکھئے: جدید فقہی مسائل ص 79 80۔
بعض متجددین کی طرف سے جو ”وحدت امت“ کے لیے دنیا بھر میں ”وحدت عید“ کا شاخسانہ تیار کیا گیا ہے مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجوانی (شارح نسائی) شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی (امیر مرکزی جمعیت، پاکستان) مولانا عبد القدوس ہاشمی حنفی، مولانا مودودی، مولانا عبد الماجد دریا آبادی اور مولانا عزیز زبیدی نے الاعتصام لاہور، جسارت کراچی، فکر و نظر اسلام آباد، محدث لاہور اور تفسیر ماجدی میں اس کی سختی کے ساتھ تردید کی ہے۔
للتفصيل فتاوى علماء حدیث 6 / 164، 183 ، 198 ، 199 ، 200، 205 ، 206 اطلاع ارباب الكمال نورستانی ص 10 – 23 طبع مکتبه ایوبیه کراچی وفتوی شیخ ابن باز في فتاوی اسلامیه 136/2 طبع دار القلم بيروت .
رؤیتِ ہلال، وحدت امت اور اختلاف مطالع کے موضوع کی مزید تفصیلات کے لیے دیکھئے:
① المغنی 81/3-83 بتحقیق محمد خلیل ہراس طبع مصر
② نیل الاوطار 2 / 194/4 – 195 ، طبع بیروت
③ فتاویٰ ابن تیمیہ 25/ 103 – 114 ، طبع سعودی حکومت
④ فتاویٰ علماء حدیث 6 / 120 – 207، طبع خانيوال
⑤ الفتح الرباني وشرحه 270/9 – 272 ، طبع م
⑥ اطلاع ارباب الكمال على ثبوت رؤية الهلال ص 4-76، مؤلفه: مولانا عبدالعزیز نورستانی، طبع مکتبہ ایوبیہ ، کراچی پاکستان
⑦ جدید فقہی مسائل ، ص 67 ـ 74 ، طبع حیدرآباد ، انڈیا
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے:
کبھی یہ صورت بھی پیش آ سکتی ہے کہ ہمارے ان خلیجی یا دوسرے ممالک میں رہنے والوں میں سے کسی نے اپنی مقامی رؤیت کے حساب سے روزہ رکھنا شروع کیا اور عید الفطر سے چند دن قبل پاکستان یا انڈیا وغیرہ چلا گیا تا کہ اپنے عزیزوں کے ساتھ مل کر عید کی خوشیاں منا سکے جبکہ وہاں عموماً روزوں کا آغاز ایک دن بعد ہوتا ہے۔
اس کے برعکس یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے چند روزے اپنے ملک میں رکھنے کے بعد وہ یہاں عرب ممالک میں آ جائے جبکہ یہاں والوں نے اس سے ایک دن پہلے روزہ رکھا تھا۔ ان ہر دو صورتوں میں سے کبھی تو کسی کے دوسروں کے ساتھ رہنے سے صرف اٹھائیس (28) روزے ہی ہو پاتے ہیں اور کبھی اکتیس (31) بھی ہو سکتے ہیں جبکہ نہ یہ صحیح ہے اور نہ ہی وہ درست۔
پس چه باید کرد؟
مذکورہ دونوں صورتوں کے نتیجہ میں پیش آمدہ سوال کا جواب یہ ہے کہ: ”اگر کوئی شخص کسی جگہ مقامی رؤیت کے حساب سے روزہ رکھنا شروع کرتا ہے۔ پھر وہ کسی ایسے ملک کی طرف سفر کر جاتا ہے جہاں کے رہنے والوں نے ایک دن پہلے روزہ رکھنا شروع کیا تھا تو وہ شخص انہی کے ساتھ عید الفطر کر لے اور ان کے پہلے روزے کی جگہ اسے ایک دن کا روزہ قضاء کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔“
اگر وہ کسی ایسے ملک کی طرف سفر کر جاتا ہے جہاں کے لوگوں نے اس شخص سے ایک دن بعد میں روزہ رکھنا شروع کیا تھا تو اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں:
”اگر وہ کہیں کہ وہ اکیلا ہی (ایک روزہ پہلے رکھ چکنے کی وجہ سے) عید الفطر کر لے تو وہ ایسے ہی ہے جیسے اکیلا آدمی چاند دیکھ لیتا ہے تو وہ اکیلا ہی مشہور قول کے مطابق افطار (عید الفطر) نہیں کر سکتا اور اگر وہ ان کے ساتھ ہی روزے رکھتا رہے تو اس کے روزے (وہاں تیس ہونے کی شکل میں) اکتیس ہو جائیں گے۔“
لہذا اگر اہل بلد اپنے روزے مکمل کر کے عید کریں مگر اس کے تاخیر رؤیتِ ہلال اور تاخیر آغاز رمضان کی وجہ سے روزے پورے ہونے کی بجائے صرف اٹھائیس (28 )رہ جائیں تو بھی یہ ان مقامی لوگوں کے ساتھ عید کر لے اور بعد میں ایک روزہ قضاء کر لے کیونکہ رمضان کسی بھی صورت میں اٹھائیس (28) دنوں کا نہیں ہو سکتا۔
اگر تقدیم رویتِ ہلال اور تقدیم آغاز رمضان کی وجہ سے اس کے روزے تو تیس (30) ہو گئے مگر مقامی لوگ اپنی رؤیت کے حساب سے اگلے دن بھی روزہ رکھیں تو اس شخص کو اختیار ہے کہ یہ افطار کر لے (یعنی روزہ نہ رکھے) مگر (مقامی رؤیت کے حساب سے جاری) رمضان المبارک کے احترام کی خاطر سر عام کھانے پینے سے گریز کرے اور چاہے تو مقامی لوگوں کے ساتھ محض نفلی طور پر روزہ رکھ لے۔ اور نفلی اس لیے کہ رمضان المبارک کے دن بالا تفاق اکتیس (31) ہو ہی نہیں سکتے اور وہ اپنے تیس (30) روزے پورے کر چکا ہے اور یہ دوسری (نفلی روزہ رکھ لینے والی) صورت ہی بظاہر افضل ہے۔
التفصيل: المجموع شرح المهذب للامام نووي 392/6-393، طبع مصر مجموع فتاوي امام ابن تيميه : 106/26 وما بعد طبع سعودي حكومت .
علامہ ابن باز رحمہ اللہ علیہ اسی سلسلہ میں ایک استفتاء کا جواب دیتے ہوئے فتویٰ صادر فرمایا ہے جس میں اٹھائیس (28) روزے رہ جانے کی شکل میں تو وہ انتیسواں (29) روزہ رکھنا ضروری قرار دیتے ہیں کہ کوئی عربی مہینہ انتیس (29) دنوں سے کم ہوتا ہی نہیں البتہ دوسری شکل میں اگر اسے اکتیسواں (31) روزہ بھی رکھنا پڑے تو وہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
الصوم يوم تصومون والإفطار يوم تفطرون.
”روزہ اسی دن سے شروع ہے جس دن سے تم سب روزہ رکھو اور عید اسی دن ہے جس دن تم سب کی عید ہو۔“
اس حدیث کی روشنی میں اکتیسواں روزہ رکھنا بھی واجب قرار دیتے ہیں۔
بحوالہ فتاوی اسلامیه 2/ 133 ، طبع دار القلم بيروت الفتاوى لابن باز 1/ 117 – سلسلة كتاب الدعوة الرياض وماهنامه الفرقان – قبرص (سائپرس) وکویت جلد اول شماره 4 بابت ماه رمضان 1409 هـ اپريل 1989هـ .
اس فتویٰ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس صورت میں اکتیسواں روزہ بھی نفلی طور پر نہیں بلکہ وجوباً رکھنا ہوگا جبکہ یہ بات موصوف کے خود اپنے قول کہ کوئی عربی مہینہ انتیس دنوں سے کم ہوتا ہی نہیں کے مفہوم کے خلاف ہے کیونکہ جس طرح کوئی عربی مہینہ انتیس دنوں سے کم نہیں ہوتا اُسی طرح ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی عربی مہینہ تیس دنوں سے بالا تفاق زیادہ بھی نہیں ہوتا جیسا علامہ ابن رشد نے رمضان المبارک کے روزوں کی کم از کم تعداد 29 اور زیادہ سے زیادہ 30 پر اجماع امت نقل کیا ہے۔
بداية المجتهد 1 / 283 – 284 ، طبع مكتبة المعارف الرياض .
الہذا یہ صورت حال پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ روزہ رکھنا ہی افضل ہے وجوباً ہو یا نفلاً۔
زیر نظر کتاب برصغیر پاک و ہند کی معروف علمی شخصیت اور ہمارے فاضل دوست ابو کلیم فضیلۃ الشیخ مقصود الحسن صاحب فیضی (الغاط – القصیم ۔ سعودی عرب) کی تالیف لطیف ہے جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ وہ ایک عمدہ مقرر و خطیب ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب قلم و قرطاس ادیب بھی ہیں۔ اس کتاب کے وقار و اعتبار کے لیے یہی کیا کم ہے کہ اس میں انہوں نے زیر بحث موضوع پر سیر حاصل مکمل و مدلل اور جامع و مانع گفتگو کی ہے۔
فجزاه الله خيرا فى الدنيا والآخرة.
ہمارے احباب اسے معیاری انداز کے ساتھ شائع کر کے توحید پبلی کیشنز ، بنگلور کی طرف سے اپنے معزز قارئین تک پہنچانے کا شرف حاصل کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ وہ اسے مؤلف و مقدم اور ناشرین و معاونین کے میزانِ حسنات کا حصہ بنادے۔ آمين يا رب العالمين.
والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ابو عدنان محمد منیر قمر
مترجم المحكمة العامة (شرعى كورت) بالخبر
وداعيه ، متعاون ، مكاتب جاليات الخبر ، الراكه ، الدمام (سعودی عرب)