مقدمہ کتاب تلاش حق از ارشاد اللہ مان اور مؤلف کی آپ بیتی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

مقدمہ کتاب تلاش حق

مؤلف کی آپ بیتی

میرے پیارے قارئین کرام!

السلام عليكم و رحمة الله و بركاته

[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَ لَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ]،[وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا ۪ وَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ کُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِہٖۤ اِخۡوَانًا ۚ وَ کُنۡتُمۡ عَلٰی شَفَا حُفۡرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَکُمۡ مِّنۡہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ].

[اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم نہ مرنا مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو]،[اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ میں نہ پڑو اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب کہ تم آپس میں دشمن تھے پھر تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی پھر تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے پھر تم کو اس نے نجات دی۔ اس طرح اللہ تمھیں اپنی نشانیاں یاد دلاتا ہے، تاکہ تم ہدایت پاؤ]۔ [آل عمران:103/102]

کچھ شک نہیں کہ بھی میں بھی اپنی گمراہی کے ہاتھوں آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑا تھا کہ اس حال میں میرے رب نے مجھ پر احسان کیا ، اور مجھے جہنم کا ایندھن بنے سے بچا لیا اور میرا رخ ہدایت کی جانب موڑ دیا۔ فلله الحمد

میری داستان حیات کچھ اس طرح ہے کہ میں ضلع شیخو پورہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں 1938ء میں پیدا ہوا۔ میٹرک 1954ء میں ہائی سکول واربرٹن سے اور ایف ایس سی 1956ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے کی ۔ 1961ء میں ضلع کونسل شیخو پورہ میں ملازم ہو گیا۔ یہ 1962ء کی بات ہے، جب شرقپور شہر میں میاں شیر محمد صاحب کا عرس تھا، اس موقع پر شرقپور کے کچھ احباب نے شرقپور آنے کی دعوت دی، میں نے دعوت قبول کر لی کہ چلو اس بہانے میاں شیر محمد صاحب کا عرس بھی دیکھیں گے۔ جب میں اور میرے احباب عرس میں پہنچے تو بڑا عجیب منظر دیکھا۔ سٹیج لگ چکا تھا، میں کے قریب علماء شیخ پر براجمان تھے سٹیج سیکرٹری پیکر پر یکے بعد دیگرے علماء کے نام پکار رہا تھا، ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ باری باری علماء مائیک پر آتے، تقریر فرماتے اور واپس اپنی نشست پر بیٹھ جاتے ۔ ایک مولوی صاحب کہ نام جن کا مولوی نوری قصوری تھا، مائیک پر تشریف لائے، انھوں نے تقریر شروع کی اور تقریر کے دوران ایک واقعہ سنایا، جو کچھ یوں تھا:

جنید بغدادی بغداد کے رہنے والے تھے۔ اس شہر کے ساتھ دریائے دجلہ بہتا ہے۔ جنید بغدادی جائے نماز لے کر دریا کے کنارے تشریف لائے اور دریا کے کنارے پر جائے نماز بچھا کر دو رکعت نفل نماز پڑھی۔ اس کے بعد جائے نماز کو اٹھا کر دریا میں بہتے پانی پر رکھ دیا اور ساکن جائے نماز پر دو نفل نماز ادا کی، پھر جائے نماز کو دریا کے دوسرے کنارے چلنے کا حکم دیا ، دوسرے کنارے پہنچ کر پھر جائے نماز بچھا دی، دو نفل نماز ادا کی پھر جائے نماز اٹھا کر انھوں نے دریا کے اندر بہتے پانی پر رکھ دی اور خود اس کے اوپر بیٹھ گئے اور جائے نماز کو واپس شہر کی طرف مسلسل چلتی رہی ۔ ابھی تھوڑی ہی دور دریا کے اندر جائے نماز گئی تھی کہ قریبی جنگل سے ایک آدمی نکلا، اس نے کہا: مجھے بھی بغداد شہر جانا ہے۔ جنید بغدادی نے جائے نماز کو حکم دیا کہ واپس کنارے پر لگ جاؤ، چنانچہ اس آدمی کو بھی جائے نماز پر بٹھا لیا۔ جنید بغدادی نے اسے حکم دیا کہ تم یا جنید! یا جنید! کہتے رہو اور میں یا الله یا اللہ! کہوں گا، وہ سامنے بغداد شہر ہے، ہم ابھی پہنچ جائیں گے۔ اس آدمی نے یا جنید! یا جنید؟ کہنا شروع کیا اور جنید بغدادی یا اللہ! یا الله کہتے رہے اور جائے نماز دریا کے اندر بہتے پانی پر بعد او شہر کی طرف چلنے لگی۔ جب آدھا سفر طے ہو گیا تو شیطان نے اس آدمی کے کان میں پھونکا کہ تم شرک کر رہے ہو کہ تم غیر اللہ کو پکار رہے ہو، جیسا که شیطان ان کے کان میں پھونکا کرتا ہے۔ اس آدمی نے سوچا بات تو ٹھیک ہے، چنانچہ اس نے یا جنید! کی بجائے یا اللہ! یا اللہ کہنا شروع کر دیا۔ یہ کہنا تھا کہ وہ پانی میں ڈوبنے لگا، جب جنید نے یہ صورت حال دیکھی تو اس کو بالوں سے پکڑ کر جائے نماز پر بٹھایا اور فرمایا تمھارے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا کہ تم جنید تک تو ابھی پہنچے نہیں اور اللہ کو لگے ہو پکارنے!

مولوی نوری قصوری کی اس بات نے میرے تن بدن میں آگ لگا دی۔ حالانکہ مجھے نہیں پتا تھا کہ بریلوی کیسے ہوتے ہیں؟

دیو بندی کیا ہیں؟ اہل حدیث کون ہیں؟ اور یہ کہ شیعہ کیا چیز ہیں؟ کیونکہ میں نے میٹرک اور ایف ایس سی میں صرف اسلامیات پڑھی تھی، اس کے علاوہ میرا مذہبی مطالعہ نہ تھا۔

میرے نزدیک مولوی نوری قصوری کی بات اللہ کے حضور بہت بڑی گستاخی تھی، چنانچہ میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ لوگ گمراہ ہیں اور مجھے تحقیق کرنی چاہیے کہ اصل دین کیا ہے؟ پھر 1962ء سے لے کر 2005ء تک میں نے مسلسل یہ تحقیق کی کہ اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ نے ہمیں جو دین دیا ہے، وہ کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ میں نے احمد رضا خاں صاحب کا مکمل ترجمہ قرآن اور تفسیر مراد آبادی پڑھی، دیوبند مکتبہ فکر کا ترجمہ و تفسیر پڑھی، اہل حدیث کا ترجمہ و تفسیر پڑھی، سعودیہ سے چھپنے والے قرآن کا اردو ترجمہ و تفسیر پڑھی، بخاری، مسلم اور مشکوة شریف کا ترجمہ پڑھا، حنفی فقہ کی کتابیں یعنی هدایه، در مختار، کنز، قدوری، شرح وقايه ، فتاوی عالمگیری، مالا بد منه اور بہشتی زیور وغیرہ پڑھیں ۔ شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کی کتاب غنیہ الطالبين كا مطالعہ كيا، حقيقة الفقہ اور دیگر بے شمار کتا ہیں پڑھیں، تاکہ حقیقی دین کا پتا چل سکے۔ علاوہ ازیں آج کے تمام متنازعہ مسائل پر بریلوی، دیو بندی اور اہل حدیث علماء سے قرآن مجید و صحیح حدیث کی روشنی میں بار بار تبادلہ خیال کیا، کیونکہ اگر انسان حقیقی دین کا علم حاصل کیے بغیر کوئی عقیدہ رکھے گا اور عمل کرے گا تو جب قیامت کے دن ایسا انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو گا تو اللہ تعالی فرمائے گا تیرا عقیدہ ہی ٹھیک نہ تھا، لہذا تیرے سارے اعمال رائیگاں ہیں اور تو جہنم کا مستحق:

[وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ]

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور جھٹلایا وہی دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ [البقرة:39]

چنانچہ اب تینتالیس (43) سالہ تحقیق کا نچوڑ میں نے اس کتاب میں لکھ دیا ہے، میری طویل تحقیق کا خلاصہ یہ ہے:

① اصل آفاقی اور عالمگیر دین اسلام کا قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں علم حاصل کیجیے کیونکہ یہ دونوں وحی جلی اور وحی خفی ہیں۔ اور ان میں دین مکمل ہو چکا ہے۔

② تکمیل توحید کا خالص عقیدہ و عمل اختیار کریں، ہر عمل اسوہ رسولﷺ کے مطابق کریں، بدعت سے قطعی اجتناب کریں۔

③ دین اسلام، کسی بھی مسلک، فقہ الرائے اور فرقہ کی نفی کرتا ہے، امت کو محض کسی مسلک، فرقے اور فقہ الرائے کی طرف دعوت دینے کی بجائے اسلام کے آفاقی اور عالمگیر پیغام کی طرف دعوت دیں، کیونکہ اگر آپ نے اسلام آباد سے مکہ و مدینہ جانا ہے اور آپ جدہ کی پرواز میں سوار ہونے کی بجائے اسلام آباد سے جکارتہ کی پرواز میں سوار ہو جائیں تو آپ کا یہ امید رکھنا کہ میں جدہ یا مکہ و مدینہ کی جاؤں گا محض خام خیالی اور نا ممکن بات ہے۔

④ رسول عربیﷺ کا عقیدہ، اطاعت، سنت اور طریقہ اختیار کریں، تاکہ آپ کو قیامت کے دن رسول عربیﷺ کے تابع فرمان کے طور پر پکارا جائے، ورنہ تباہی ہے، کیونکہ اللہ کے نزدیک جو مقام امام الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہﷺ کو حاصل ہے وہ اور کسی ہستی کو حاصل نہیں اور کو قیامت کے دن ہر انسان کو اس ہستی کے نام پر پکارا جائے گا، جس کی اس نے اس دنیا میں فرماں برداری کی ہوگی۔ اگر اس دن آپ کو رسول اللہﷺ کے تابع فرمان کے طور پر پکارا گیا تو آپ کامیاب ہیں، ورنہ نا کام ۔ دیکھیے: (تفسیر مراد آبادی بنی اسرائیل:71، ف 159)

⑤ اس کتاب میں جو کتابیں حوالہ کے لیے درج کی گئی ہیں مثلا قرآن مجید، کتب احادیث اور دیگر کتب، ان کی لائبریری بنائیں تاکہ آپ دین کا مکمل علم حاصل کر سکیں۔ اگر ایک آدمی یہ لائبریری نہیں بنا سکتا تو مل کر بنائیں، روزانہ صبح و شام تھوڑا تھوڑا وقت دین کے مطالعہ کے لیے وقف کریں، اس طریقہ سے دو تین سال میں آپ کی لائبریری بھی بن جائے گی اور صحیح دین کا علم بھی حاصل ہو جائے گا۔مبشر احمد ربانی صاحب کی تین جلدی کتاب آپ کے مسائل اور ان کا حل بھی ضرور پڑھیں۔

کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ صرف وہ دلائل دیے جائیں جو قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت ہوں۔ موضوع اور ضعیف احادیث سے مکمل اجتناب کیا گیا ہے۔ دوست و احباب اور علمائے کرام سے گزارش ہے کہ وہ حق کی تلاش مطالعہ کے بعد عوام کے فائدہ کی خاطر بے تکلف ہو کر مجھے اس میں پائی جانے والی ہر نقص و کمی سے آگاہ فرمائیں، راقم خلوص دل سے اپنی غلطیوں کو قبول کر کے مشکور ہوگا اور اگلی طبع میں ان شاء اللہ تعالی ضرور ان کی اصلاح کر دے گا۔ والسلام عليكم و رحمة الله و بركاته

ایک دردمند دل کی پکار

اے میرے پاک وطن کے فرزندو!

آؤ پاکستان بچائیں

پاک سرزمین میں بسنے والے میرے بیٹو! بیٹیو! جوانو اور بوڑھو !

السلام عليكم ورحمة الله و بركاته

یہ پاک وطن، یہ پاک سر زمین ….. یہ عالم اسلام کی امیدوں کا محور و مرکز وطن یہ اسلام کا قلعہ جسے دنیا Fort of Islam کی حیثیت سے جانتی اور پہچانتی ہے۔ ہم نے اسے قائد محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں لاکھوں جانوں کی قربانیاں دے کر حاصل کیا ہے۔ دشمنان اسلام خاص طور پر یہودی، صلیبی اور مکار ہندو کی شروع دن سے یہ سازش ہے کہ وہ خفیہ طور پر ہم میں فرقہ بندی اور مذہبی گروہی نفرتوں کو پروان چڑھا کر ہماری وحدت و اخوت کو پارہ پارہ کر دے. ہماری یکجہتی و یگانگت پر ضرب کاری لگا کر ہم میں انتشار و افتراق، بعد و دوری اور محبت کی جگہ نفرتیں و باہمی دشمنیاں بپا کر دیں۔ ہمارے قومی اتحاد کو ختم کر کے کافروں کے لیے سوہان روح بنے ہوئے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کر دیں … یوں ہمارا نام و نشان تک دنیا کے نقشے سے حرف غلط کی طرح مٹا دیں۔

اس مذموم مقصد کے لیے خفیہ فنڈ مختص ہو چکے ہیں، منصوبے بن چکے ہیں… کٹھ پتلی مہرے کلیدی عہدوں پر مقرر ہو کر اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہماری ہلاکت و تباہی کے لیے ان کا تیار کردہ مہلک ترین ہتھیار فرقہ واریت کا بم ہے۔ یعنی مسلمانوں کے مختلف طبقوں اور مکتبہ ہائے فکر کے حامل لوگوں کو آپس میں ہی دست دگر یباں کرا کر لڑا دیا جائے۔ کافروں کو عملاً کچھ نہ کرنا پڑے اور ایک مسلمان خود دوسرے کو مارے، دوسرا تیسرے کو، یوں یہ سلسلہ چل نکلے، اور کافروں کے خلاف ہر محاذ اور میدان میں سیسہ پلائی دیوار بن کر لڑنے والے مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو قتل کریں۔ کافروں کی جان چھوٹ جائے اور ان کا دشمن بھی خود بخودختم ہو جائے۔ یہ ہے پاکستان و اسلام کے خلاف دشمنوں کی منصوبہ بندیاں اور سازشیں …..

آئیے! ہم عہد کریں کہ ہم نے دشمن کے اس ہتھیار کا شکار نہیں ہونا اور نہ ہی اپنی یگانگت واخوت کو پارہ پارہ کر کے اپنی قوت و طاقت کو برباد کرنا ہے، بلکہ ہم نے پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو کر قائد محمد علی جناح کی بے مثال قیادت میں حاصل کیے گئے مسلمانوں کے ملک اس ایٹمی پاکستان کو نہ صرف بچانا ہے بلکہ اسے مزید مضبوط و توانا بنانا ہے۔ ان شاء اللہ

امت مسلمہ کے جوانو اور میرے پیارے بیٹو!

میں آپ کا ہمدرد و دعا گو بزرگ ارشاد اللہ مان آپ سے مخاطب ہوں …..!

میں اب عمر کے اس حصہ میں پہنچ چکا ہوں کہ جس میں انسان بہت کمزور و ناتواں ہو جاتا ہے، اور اپنی آخرت کی فکر کرتا ہے۔ میں اب ہر وقت آپ کے لیے دعائے خیر ہی کر سکتا ہوں۔ میرے لیے کوئی بریلوی ہو، شیعہ ہو، دیوبندی ہو، یا اہل حدیث ہو، سب بیٹوں کی طرح ہیں۔ جیسے ایک باپ کو اپنے مختلف طبیعتوں اور ذہنیتوں کے مالک بیٹوں سے پیار ہوتا ہے، کیونکہ وہ اس کا خون جو ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح آپ سب مجھے بہت پیارے ہیں، میری آنکھ کے تارے ہیں۔ میں کبھی یہ نہیں چاہتا کہ میرا کوئی بیٹا یا بیٹی مرنے کے بعد جہنم کا ایندھن بنے اور مرنے سے پہلے باہمی انتشار و افتراق اور نفرت و کدورت کا باعث بنے۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ وہ دنیا میں بھی کامیاب و کامران ہو اور آخرت میں بھی جنتوں کا باسی ہے، ان شاء اللہ۔ اس مقصد کے حصول کے لیے میں نے اپنے پاک وطن کے تمام مختلف سوچ رکھنے والے بیٹوں کو اتحاد کی مضبوط رسی میں پرونے کے لیے یہ کتاب لکھی ہے۔ میرا مقصد ان کو ایک ایسے ہمہ گیر نکتے پر جمع کرنا ہے کہ جس پر جمع ہو کر وہ کسی دشمن کی لگائی آگ کا شکار نہ ہو سکیں۔ وہ وحدت و یگانگت کا پلیٹ فارم تمام مسلمانوں کے لیے قرآن کریم کا پلیٹ فارم ہے اور پھر حدیث رسولﷺ کا۔ میں نے ایک غیر جانبدار جج اور منصف کی حیثیت سے تمام اختلافات کو ختم کرنے کے لیے قرآن کریم اور پھر حدیث مبارکہ سے رہنمائی فراہم کر دی ہے، تاکہ فرقہ بندی ختم کر کے ہم اللہ کے قرآن اور رسول اللہﷺ کے فرمان پر جمع ہو جائیں۔ یوں فرقہ بندی کے سلسلے ختم ہوں اور ہم طاقتور و مضبوط قوم بن کر پاکستان پر حملہ آور صلیبیوں، یہودیوں اور ہندوؤں کی سازشوں کا مقابلہ کر سکیں۔

میں نے ایک غیر جانبدار اور دیانتدار جج کا کردار ادا کیا ہے۔ آپ کو علم ہے جج کی حیثیت معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی سی ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک میں امن و چین سکون و راحت آرام اور تحفظ کا دار و مدار عدل و انصاف پر ہوتا ہے۔ اگر جج عدل و انصاف کا دامن چھوڑ دے تو معاشرے تباہی و بدامنی اور عدم تحفظ کا شکار ہو کر تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ یوں ایک جج معاشرے میں باہمی محبتوں اور تحفظ وسکون کا ضامن و علمبردار ہوتا ہے۔ میں نے بھی لوگوں کو انصاف مہیا کرنے اور وحدت میں پرونے کے لیے اپنی بساعت اور طاقت کے مطابق کردار ادا کیا ہے۔ لوگوں کے باہمی اختلاف کا جائزہ قرآن کی روشنی میں لیا ہے کہ جس پر کسی کو اعتراض نہیں، اسی طرح حدیث رسولﷺ مقبول پر۔ یوں میں نے ان کے لیے ایک شافی و کافی حل تجویز کر دیا ہے۔فلله الحمد

پیارے ہو نہار بیٹو! میری زندگی کی تحقیق و جستجو کا نچوڑ اس کتاب میں آ گیا ہے۔ جو اب آپ کے ہاتھوں میں ہے، اسے غیر جانبدار ہو کر خالی ذہن سے اور کسی قسم کے گروہی تعصب سے بالاتر ہو کر پڑھیں۔ قرآن اور صاحب قرآن کی فراہم کردہ کسوٹی پر پرکھیں اور ہر طرح کی فرقہ بندیاں چھوڑ کر قرآن کا دامن تھام لیں۔ یوں ہم دنیا میں بھی سرخرو اور آخرت میں بھی کامیاب و کامران ٹھہریں گے۔

اے میری پاکیزہ مومنات بیٹیو اور بہنو …

میں آپ سے گزارش کروں گا کہ اپنے بچوں کی تربیت قرآن حکیم کی روشنی میں کریں۔ ان کو مختصر حدیث کے ساتھ تفسیر بھی پڑھائیں بھی، تاکہ ان کی تربیت کی بنیاد قرآن ہو اور وہ کل کلاں کسی دین یا وطن دشمن سازش و پراپیگنڈے کا شکار ہو کر باہم دست و گریباں نہ ہوں، وہ عدم استحکام و اتحاد کا شکار ہو کر پاکستان کی کمزوری کا باعث کی کمزوری کا باعث نہ بنیں۔ یوں دشمنان اسلام کی سازشیں ناکام ہوں اور پاکستان دنیا کے نقشے پر رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے ان شاء اللہ اور آپ کے تربیت یافتہ ہ بچے کل جوان ہو کر مستقبل کے معمار بن کر نفرتوں کے نہیں بلکہ محبتوں کے پیامبر بنیں۔

آئے فرقہ بندی کی زنجیروں میں جکڑی اس امت کو نکالنے کے لیے میرے ہم رکاب بن جائیں، تاکہ پاک وطن کے قیام کا مقصد پورا ہو سکے۔ وہ مقصد جو ہمارے قائد محمد علی جناح کی قیادت میں ساری قوم نے یک زباں ہو کر علی الاعلان ساری دنیا کے سامنے یوں واضح کیا کہ:

پاکستان کا مطلب کیا: لا اله الا الله

پھر خون کی ندیوں میں تیرتے ہوئے …. لاکھوں جانوں کی صورت میں قربانیاں دیتے ہوئے شہادتوں کے تمغے اپنے سینوں پر سجاتے ہوئے اپنے عزیز و اقارب اور پیارے قربان کراتے ہوئے، یہ وطن، پیارا وطن امت مسلمہ کی امیدوں کا محور یہ چمن.. پاکستان قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ آج ایک بار پھر ہم نے قربانیاں دے کر اسے فرقہ پرستی کے چنگل سے نکال کر، مضبوط و توانا اور نا قابل تسخیر بنانا ہے، اور اس کی نشاۃ ثانیہ کرنی ہے۔ ان شاء اللہ اس مقصد کے حصول کے لیے قرآن ہمارا راہبر و راہنما ہے۔ اس بابرکت آخری الہامی کتاب قرآن کو ہی میں نے اپنی اس کتاب میں راہبر بنایا ہے۔ آپ بھی اسے اپنا راہبر مان کر با ہم ایک نکتہ پر اکٹھے ہو جائیں اور وطن عزیز پاکستان بچائیں اور دنیا کی راہبری و قیادت و سیادت کے قابل بن جائیں۔ کیونکہ امام کا ئنات، محبوب کائنات محسن انسانیت ہمارے پیارے نبی سیدنا محمد مصطفیﷺ نے فرمایا ہے کہ جو قومیں قرآن کو اپنا راہبر و راہنما بناتی ہیں، اسے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں سر بلند (دنیا والوں کا راہبر و قائد) بنا دیتا ہے۔ اور جو قومیں قرآن کو پس پشت ڈال دیتی ہیں اور اس کو عملی طور پر اپنی زندگی سے نکال دیتی ہیں، اس پر عمل نہیں کرتیں، اللہ کریم ان کو اس جرم کی پاداش میں دنیا میں ہی ذلیل و رسوا اور خائب و خاسر کر کے رکھ دیتا ہے، آقائے دو جہان نےفرمایا:

إن الله يرفع بهذا الكتاب أقواما ويضع به آخرين

بیشک اللہ تعالیٰ اس کتاب (قرآن) کے ذریعہ ہی قوموں کو دنیا میں سر بلند اور رفعت و عظمت بخشتا ہے اور اس کتاب کے ذریعہ (اس کو چھوڑ دینے کی بنا پر) ہی قوموں کو ذلت و پستی کے اندھیروں میں گرا دیتا ہے۔

آئیے پیارے دوستو! امت محمد کے غم خوارو…!

آگے بڑھیں اور اسلام پاکستان کے دشمنوں کے دانت کھٹے کرنے کے لیے اس قرآن کو اپنا راہنما بنا کر اپنے خود ساختہ مختلف مسلک، فرقے، گروہ، فرقہ بندیاں، اختلافات، جنگ و جدال، رسہ کشیاں، باہمی نفرتیں، کدورتیں ختم کر دیں اور پرچم توحید تھام کر پوری دنیا پر چھا جائیں اسلام کو دنیا پر غالب کر دیں تا کہ اللہ مالک الملک کا کلمہ دنیا پر بلند ہو۔

میرے بیٹو، بیٹیو اور بھائیو و بزرگو دوستو! میرے لیے دعا کریں کہ اللہ میری اس کاوش کو قبول فرمائے اور دنیا میں اس کے قرآنی پیغام کو عام کرنے کے لیے گزاری گئی میری تمام زندگی کی بے لوث کاوشوں اور کوششوں کو قبول فرمائے اور جنتیں میرا اور آپ کا مقدر کر دے۔ آمین یا رب العالمین ؟

خادم کتاب و سنت

انجینئر ارشاد الله مان

محله مسلم گنج، نزو سٹیڈیم پارک، شیخو پوره

مقدمه از ابوالحسن مبشر احمد ربانی عفا اللہ عنہ

یہ کتاب آپ کے لیے مینارۂ نور ہے

[الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين]

اللہ تبارک و تعالٰی کا احسان عظیم اور امتنان جزیل ہے کہ اس نے ہمیں رسول اللہﷺ کی امت میں سے بنایا اور خالص دین عطا کیا، جو وحی الہی پر مبنی ہے اور کتاب وسنت میں مکمل طور پر محفوظ و موجود ہے۔ ہمارے عقائد و اعمال کا اثبات اللہ کے قرآن اور نبی محمدﷺ کی حدیث وسنت سے ہوتا ہے۔ یہ دو چیزیں اصل الاصول ہیں اور ہماری نجات کا ذریعہ، کامیابی و کامرانی کا وسیلہ اور فوز و فلاح کا زینہ ہیں۔ سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے بیت اللہ کی دیواریں بلند کرتے ہوئے دعا مانگی:

[رَبَّنَا وَ اجۡعَلۡنَا مُسۡلِمَیۡنِ لَکَ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّۃً مُّسۡلِمَۃً لَّکَ ۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَ تُبۡ عَلَیۡنَا ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ]

اے ہمارے رب! اور ہمیں اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے رکھا اور ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی نہایت تو بہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔[البقرۃ:128]

سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جس رسول کے لیے دعا مانگی وہ ہمارے رسول سیدنا محمدﷺ ہیں، ان کی بعثت کے مقاصد میں کتاب و حکمت کی تعلیم ہے۔ اس کے متعلق مزید ملاحظہ ہو:[البقرہ:151]،[آل عمران:163]،[الجمعۃ:2] اللہ تعالی نے کتاب و حکمت ہی کا نزول فرمایا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے:

[وَّ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ الۡکِتٰبِ وَ الۡحِکۡمَۃِ یَعِظُکُمۡ بِہٖ]

اور یاد کرو تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو اور جو اس نے تم پر کتاب و حکمت میں سے نازل فرمایا، وہ اس کے ذریعے تمھیں نصیحت کرتا ہے۔[البقرة:231]

ایک اور مقام پر فرمایا:

[وَ اَنۡزَلَ اللّٰہُ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ]

اور اللہ تعالی نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی ۔[النساء:113]

اور یہی دو چیزیں نبیﷺ کی بیویوں کے گھروں میں پڑھی جاتی تھیں، ارشاد باری تعالی ہے:

[وَ اذۡکُرۡنَ مَا یُتۡلٰی فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَ الۡحِکۡمَۃِ]

اور تم یاد کرو ! جو تمھارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت میں سے پڑھا جاتا ہے۔ [الأحزاب:34]

ان آیات میں کتاب کے ساتھ حکمت کا جو تذکرہ آیا ہے اس سے مراد سنت ہے اور تقریبا یہ بات تمام مفسرین نے نقل کی ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

(ففرض الله على الناس اتباع وحيه وسنن رسوله).

اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر اپنی وحی اور اپنے رسولﷺ کی سنن کی اتباع فرض کی ہے۔[الرسالة:ص76،رقم 244]

پھر مذکورہ بالا آیات ذکر کر کے لکھتے ہیں:

[فذكر الله الكتاب وهو القرآن وذكر الحكمة فسمعت من أرضى من أهل العلم بالقرآن يقول الحكمة سنة رسول الله وهذا يشبه ما قال والله أعلم]،[لأن القرآن ذكر وأتبعته الحكمة وذكر الله منه على خلقه بتعليمهم الكتاب والحكمة فلم يجز الله والله أعلم أن يقال الحكمة ها هنا إلا سنة رسول الله]،[وذلك أنها مقرونة مع كتاب الله وأن الله افترض طاعة رسوله وحتم على الناس اتباع أمره فلا يجوز أن يقال لقوله فرض إلا لكتاب الله ثم سنة رسوله]

چنانچہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک تو کتاب کا ذکر کیا ہے،جو قرآن مجید ہے اور حکمت کا ذکر کیا ہے۔ اور قرآن کا علم رکھنے والوں میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ شخص کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا ہے، کہ حکمت رسول اللہﷺ کی سنت ہے۔ اور یہ تفسیر فرمودۂ الہی سے زیادہ مشابہ ہے۔ واللہ اعلم! کیونکہ قرآن مجید کے ذکر کے بعد حکمت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور اللہ تعالی کتاب و حکمت کی تعلیم کے ذریعے اپنی مخلوق پر اپنا احسان بیان فرما رہا ہے، لہذا یہاں سنت رسولﷺ کے سوا کسی چیز کو حکمت کہنا جائز نہیں، واللہ اعلم! اور یہ اس لیے کہ (حکمت) کتاب اللہ کے ساتھ متصل مذکور ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی اطاعت فرض کی ہے۔  اور آپ کے حکم کی پیروی کو لازم کیا ہے، پس کسی قول کو کتاب اللہ پھر سنت رسولﷺ کے علاوہ فرض نہیں کیا جاسکتا۔لہذا ہمارے اوپر اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی غیر مشروط طور پر اطاعت و فرماں برداری فرض ہے۔[الرسالة:ص78،رقم:252تا255]

اور اللہ کی فرماں برداری کا مطلب و معنی اس کے قرآن کو ماننا اور رسول اللہﷺ کی فرماں برداری کا معنی آپ کی سنت و حدیث کو ماننا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کسی کی غیر مشروط اطاعت ہمارے اوپر لازم نہیں ہے۔ جب کوئی شخص قرآن و حدیث سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور اللہ و رسول کے علاوہ کسی کی اطاعت کو اپنے اوپر فرض قرار دے لیتا ہے، تو پھر گمراہی کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اور امت مسلمہ کی تباہی و تو بربادی کاباعث بن جاتا ہے، جن لوگوں نے اللہ کے علاوہ کسی کو اپنا مقتدا و مطاع بنا لیا انھوں نے پھر اسکی بات کو رسول اللہﷺ کی بات کا درجہ دے دیا جیسا کہ مولوی محمود حسن کی ترمذي وغیرہ پر تقاریر میں مذکور ہے کہ قول مجتہد بھی قول رسول اللہﷺ ہی شمار ہوتا ہے۔ [الوردالشذی:2/30،تقاریر حضرت شیخ الهند،ص:24]

پھر حدیث رسولﷺ کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے، اور اپنے مزعومہ امام کے اقوال کو زیادہ اہمیت و حیثیت دی جاتی ہے۔ اور آج گمراہ فرقوں کا یہی حال ہے۔ ان کے ہاں قرآن وحدیث کی وہ وقعت اور اہمیت نہیں ہے جو ان کے مولویوں اور پیروں کی بات کی ہے۔ مفتی احمد یار خان گجراتی نے لکھا ہے:

چار مذہبوں کے سوا کسی کی تقلید جائز نہیں، اگر چہ وہ صحابہ کے قول، صحیح حدیث اور آیت کے موافق ہی ہو، جو ان چار مذہبوں سے خارج ہے وہ گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے کیونکہ حدیث و قرآن کے محض ظاہری معنی لینا کفر کی جڑ ہے۔

[جاء الحق:23،مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور]

لیجیے مفتی احمد یار خان نے تو بات بالکل واضح کر دی ہے، کہ تقلید سے ہٹ کر بات کرنا گمراہ ہوتا ہے۔ خواہ وہ بات قرآن وحدیث اور صحابہ کے قول کے موافق ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے تو ہم عرض کرتے ہیں کہ کتاب وسنت کی عظیم شاہراہ سے ہٹ جانا گمراہی اور ضلالت کا باعث ہے۔ زیر نظر کتاب حق کی تلاش از ارشاد اللہ مان صاحب اس منہج عظیم پر لانے کی دعوت کے پیش نظر مرتب کی گئی ہے، اور مؤلف نے جذبہ صادقہ کے ساتھ گمراہ انسانیت کو راہ راست کی طرف سچی دعوت پیش کی ہے۔ اورعقائد و اعمال کی اصلاح کے لیے قرآن وسنت کے بکھرے ہوئے پھولوں کو ایک گلستان میں جمع کر دیا ہے۔ اور معاشرے میں پھیلی ہوئی گمراہیوں کے کئی پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے، اور کتاب وسنت کی نصوص کے ذریعے ان کی اصلاح کی ہے، لہذا یه جویان حق و صداقت اور گم کشتگانِ راہ کے لیے مینارہ نور ہے۔ اللہ تعالی اس کتاب کو مؤلف، ناشر، قارئین اور تمام ان افراد کے لیے مشعل راہ اور نجات کا وسیلہ و ذریعہ بنائے جنھوں نے کسی بھی پہلو سے اس کتاب کی تیاری میں حصہ ڈالا ہے۔ آمین!

ابوالحسن مبشر احمد ربانی عفا اللہ عنہ