مقدمہ کتاب تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ از شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

یہ اقتباس محدث العصر شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على رسوله الأمين، أما بعد :
قرب الہی کے حصول کے لئے جتنی بھی تگ و دو کی جائے کم ہے کیونکہ اہل ایمان کی زندگی کا مطمح نظر ہی یہ ہوتا ہے کہ اس کائنات میں اللہ رب العزت راضی ہو جائے اور آخرت میں وہ سرخرو ہو جائیں۔
اس سلسلے میں ایک بہترین ذریعہ قیام اللیل ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
عليكم بقيام الليل فإنه دأب الصالحين قبلكم وقربة إلى الله عز وجل ومكفرة للسيئات ومنهاة عن الإثم
کتاب فضل قیام الليل والتہجد، اسنادہ حسن سنن ترمذی : 3549
قیام اللیل کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تم سے پہلے نیک وصالح لوگوں کا طریقہ ہے۔ اور یہ تقرب الی اللہ، خطاؤں کا کفارہ اور گناہوں سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہے۔
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وأفضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل
صحیح مسلم : 1163
فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز، رات کی نماز ہے۔
یہی نماز جب ماہ رمضان میں ادا کی جاتی ہے تو قیام رمضان اور عام لوگوں کے نزدیک تراویح وغیرہ کہلاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
صحیح بخاری : 1901 ، صحیح مسلم : 759
جس شخص نے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔

اس قدر فضیلت والی نماز کی تعداد رکعات کیا ہے؟

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
ما كان يزيد فى رمضان ولا فى غيره على إحدى عشرة ركعة
صحیح بخاری : 2013
رمضان ہو یا غیر رمضان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گواہی سے معلوم ہوا کہ :
➊ تہجد، قیام اللیل، قیام رمضان اور تراویح وغیرہ ایک ہی نماز کے مختلف نام ہیں۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان ہو یا غیر رمضان رات کو گیارہ رکعات پڑھتے تھے۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فى رمضان ثمان ركعات والوتر
صحیح ابن خزیمہ 1070 ، صحیح ابن حبان 2401 ، 2406
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رمضان میں آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھائے۔
یہی تعداد رکعات جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی ثابت ہے۔
امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ اور تمیم الداری رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو قیام رمضان میں گیارہ رکعات پڑھائیں۔ موطا امام مالک 249 ، السنن الکبری للبیہقی 496/2
بلکہ آل تقلید، غیر اہل حدیث تک اس حقیقت کا اعتراف کر چکے ہیں کہ سنت گیارہ رکعات ہی ہیں۔ مثلاً :
ملا علی قاری حنفی نے کہا :
فتحصل من هذا كله أن قيام رمضان سنة إحدى عشرة بالوتر فى جماعة فعله عليه الصلوة والسلام
مرعاۃ المفاتیح : 382/3
اس سب کا حاصل نتیجہ یہ ہے کہ قیام رمضان یعنی تراویح گیارہ رکعات مع وتر، جماعت کے ساتھ سنت ہے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے۔
خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی لکھتے ہیں :
اور سنت مؤکدہ ہونا تراویح کا آٹھ رکعت تو بالاتفاق ہے۔ براہین قاطعہ ص : 195
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور خود غیر اہل حدیث اکابر سے ثابت ہو گیا کہ تراویح 8 + 3 = 11 گیارہ رکعات ہیں تو پھر قيل و قال چہ معنی دارد؟
ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ملحوظ رکھنا چاہیئے :
فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ سورۃ النور : 63
جو لوگ رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انھیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہو جائیں یا انھیں کوئی المناک عذاب پہنچے۔
زیر نظر کتاب اس سے قبل ”تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ“ کے نام سے شائع ہو چکی ہے جو کئی مضامین کا مجموعہ ہے۔ اصل کتاب ”نور المصابیح فی مسئلۃ التراویح“ ہے لیکن مختلف اوقات میں مختلف لوگوں کے اعتراضات و شبہات میں لکھے گئے جوابات بھی اس میں ضم کر کے شائع کر دیئے گئے تھے۔

أسلوب كتاب

فضیلۃ الشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے کتاب کے شروع میں ایک فکر انگیز مقدمہ تحریر کیا ہے جس میں انھوں نے اس سلسلے میں لکھی جانے والی کتابوں میں پائے جانے والے اکاذیب، مغالطات، تناقضات، خیانتیں، جہالتیں اور آل تقلید کی شعبدہ بازیاں ذکر کر کے واضح کیا ہے کہ یہ لوگ کس طرح سادہ لوح عوام کو بہلانے پھسلانے میں لگے ہوئے ہیں۔
مقدمے کے بعد ”نور المصابیح فی مسئلۃ التراویح“ کا آغاز ہوتا ہے جس میں استاذ محترم نے مدلل علمی اور تحقیقی بحث کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 8 + 3 = 11 گیارہ رکعات تراویح پڑھتے تھے۔
بعض لوگوں نے ”مسنون تراویح بیس ہیں“ کے نام سے ایک اشتہار شائع کیا تھا جس پر علمی و تحقیقی نظر نے اس کے کمزور اور بودے دلائل کو تار تار کر دیا۔
مسعود احمد خان دیوبندی نامی شخص نے ”ضیاء المصابیح فی مسئلۃ التراویح “کتاب لکھ کر سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ ثابت کرنے کی کوشش کی تو استاذ محترم نے اپنے قلم کو صرف اس لئے جنبش دی تاکہ لوگوں پر حقیقت حال آشکارا ہو جائے۔ یہی وجہ محمد شعیب قریشی صاحب کا جواب لکھنے کی ہے تاکہ ان کی غلط فہمیوں کی اصلاح ہو سکے۔ اور تمام لوگوں کو بھی علمی فائدہ پہنچے۔
آخر میں دو جامع مباحث ”حدیث اور اہلحدیث“ کے ”ابواب التراویح“ کا مکمل جواب اور آٹھ رکعات تراویح اور غیر اہل حدیث علماء کے اضافے نے اس کتاب کی افادیت و جامعیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ کتاب میں فوائد کے تحت تکرار کو عمداً چھوڑ دیا گیا ہے۔ نیز اب اس کتاب کو ظاہری و باطنی حسن کے ساتھ دوبارہ شائع کیا جارہا ہے۔
قابل توجہ : تراویح یعنی قیام رمضان کے سلسلے میں تفصیلی مطالعہ کے لئے مولانا نذیر احمد رحمانی اعظمی رحمہ اللہ کی عظیم تالیف ”انوار مصابیح بجواب رکعات تراویح“ ملاحظہ کریں کیونکہ یہ کتاب بہت سے علمی و تحقیقی فوائد اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔
آخر میں اللہ کے حضور دعا گو ہوں کہ ہمارے استاذ محترم حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی تمام تر علمی و دینی کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس محنت و سعی کو ذریعہ نجات بنائے۔ آمين

مقدمہ کتاب

صرف اور صرف بیس رکعات قیام رمضان یعنی تراویح کے باجماعت سنت مؤکدہ ہونے پر تقلید پرستوں کا تمام لٹریچر درج ذیل اقسام پر مشتمل ہے :

◈ اکاذیب :۔

مثلاً محمد حسین نیلوی مماتی دیوبندی اپنی کتاب ”فتح الرحمن فی قیام رمضان“ کے صفحہ 135 پر قیام رمضان کے بارے میں لکھتے ہیں :
حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیس رکعات چار چار رکعات پڑھتے تھے۔
تقریباً یہی بات مسعود احمد خان کاملپوری دیوبندی کی ”ضیاء المصابیح“ (صفحہ : 58) اور خیر محمد جالندھری دیوبندی ”کی بیس تراویح کا ثبوت“ (صفحہ : 5) وغیرہ میں بھی ہے۔
حالانکہ قیام رمضان کے بارے میں ایسی کوئی روایت ذخیرہ حدیث میں موجود نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعتیں ایک سلام سے پڑھتے تھے، ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جو حدیث صحیح بخاری میں ہے :
كان يصلي أربعا
یعنی آپ چار رکعات پڑھاتے تھے، کی تشریح صحیح مسلم میں ام المومنین ہی سے ثابت ہے کہ :
يسلم بين كل ركعتين
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دو رکعات پر سلام پھیر دیتے تھے۔

◈ تناقضات :۔

موطا امام مالک کی ایک منقطع روایت جس میں بیس کا عدد مذکور ہے کو صحیح ثابت کرنے کے لئے متعدد تقلید پرستوں نے شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ کا قول زور و شور سے پیش کیا ہے کہ محدثین کے نزدیک موطا امام مالک کی تمام روایات صحیح ہیں۔ الخ ”حجۃ اللہ البالغہ“ دیکھئے حبیب الرحمن اعظمی دیوبندی کی کتاب ”رکعات تراویح ص 63 ، 64“ خیر محمد جالندھری کی ”بیس رکعات صفحہ : 35 ، 36“ مسٹر نور احمد چشتی کی ”سیف اکتفی ص : 104“ روح الامین ” اشاعتی“ کی ”قیام رمضان صفحه 12، 143“ وغیرہ۔
جبکہ دوسری طرف موطا امام مالک کی ایک متصل اور بالاجماع ثقہ راویوں کی روایت (جس میں گیارہ کا عدد مذکور) ہے کو خود ساختہ اضطراب گھڑ کر مضطرب و ضعیف کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی گئی ہے۔
مثلا دیکھئے خیر محمد کی ”میں رکعات کا ثبوت“ (صفحہ 24 تا 26) اعظم گڑھی کی ”رکعات تراویح صفحہ 7 ، 8 صفحہ 37 تا صفحہ 40“ وغیرہ۔
ابوالقاسم رفیق دلاوری صاحب ”التوضیح عن رکعات التراویح“ (صفحہ 167) میں لکھتے ہیں :
اور بسیط ارض پر صرف امام مالک رحمہ اللہ ہی کی ایسی ہستی ہے جس نے دنیا میں سب سے پہلے آٹھ رکعت تراویح کا تذکرہ چھیڑا۔
عرض ہے کہ کیا دارالہجرت کے امام کی ہستی کوئی معمولی ہستی ہے؟
دلاوری صاحب مزید لکھتے ہیں :
اسی طرح ہمیں یقین ہے کہ گیارہ کی روایت جو موطا امام مالک میں ہے اسناداً بالکل صحیح ہے لیکن ہمارے اہل حدیث حضرات کی بدقسمتی سے امام مالک رحمہ اللہ بیس کو گیارہ سمجھنے میں غلط فہمی کا شکار ہو گئے تھے۔ (صفحہ 170)
حالانکہ غلط فہمی کا الزام قطعاً مردود ہے، شوق نیموی حنفی نے بھی سختی سے اس الزام کی تردید کی ہے دیکھئے ”تعلیق آثار السنن صفحہ : 250“ اور مولانا المحقق الفقیہ نذیر احمد رحمانی رحمہ اللہ کی ”انوار مصابیح بجواب رکعات تراویح صفحہ : 236“ وغیرہ۔
متعدد تقلید پرست مصنفین نے ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان کی بیس رکعات اور غیر جماعت والی موضوع روایت سے استدلال کیا ہے۔ دیکھئے ”فتح الرحمن ص : 55“ ، ”سیف اشکفی صفحہ : 7“ بلکہ حیاتی دیوبندیوں کے مناظر ماسٹر امین اوکاڑوی ”ابو معاویہ صفدر“ صاحب نے اپنے رسالہ ”تحقیق مسئلہ تراویح“ کے سرورق پر یہ موضوع روایت لکھی ہے اور صفحہ : 9 پر اسے ”صحیح“ لکھا ہے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون
حالانکہ تقلید پرستوں نے بھی اس موضوع روایت کا (کم از کم) ضعیف ہونا تسلیم کر رکھا ہے۔ دیکھئے ”التوضیح عن رکعات التراویح ص : 79“ ، روح الامین کا رسالہ ”قیام رمضان صفحہ : 29“ حضرو کے دیوبندیوں کا اشتہار وغیرہ ان میں سے بعض نے یہ دعوی بھی کر رکھا ہے۔
حاصل یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تراویح کے متعلق کوئی خاص حد و تعیین قطعاً ثابت نہیں ہے۔
قیام رمضان صفحہ : 10 نیز دیکھئے خیر محمد صاحب کی ”بیس تراویح کا ثبوت“ صفحه : 9 ، حبیب الرحمن اعظم گڑھی کی ”رکعات تراویح صفحہ : 16“

◈ خیانتیں :۔

مثلاً روح الامین دیوبندی نے ”قیام رمضان صفحہ : 18“ میں امام ترمذی رحمہ اللہ کی جامع سے ایک کلام نقل کیا اور عنوان ”بیس رکعات تراویح پر امت کا اتفاق“ لکھا ہے لیکن انھوں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول حذف کر دیا جس میں اس اتفاق کے پرخچے اڑا دیئے گئے ہیں۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
روي فى هذا ألوان، لم يقض فيه شيء
سنن ترمذی مطبوعہ سعید کمپنی 166
اس میں مختلف رنگ روایت کئے گئے، انھوں نے اس میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
یعنی امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس باب میں مختلف قسم کی روایتیں ہیں اور انھوں نے اس بات کا فیصلہ نہیں کیا کہ ان مختلف روایتوں میں کونسی روایت قابل اعتبار اور لائق اعتماد ہے۔ خیر محمد دیوبندی صاحب نے اس عبارت کے ترجمہ میں خود ساختہ بریکٹ لگا کر معنوی تحریف کر رکھی ہے۔

◈ شعبدہ بازیاں :۔

افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگوں نے ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان جیسے متروک اور متہم بالکذب راوی کی تقویت اور دفاع کی کوشش کی ہے۔ مثلا دیکھئے خیر محمد کی ”بیس تراویح کا ثبوت صفحہ 40“ ، نیلوی کی ”فتح الرحمن صفحہ : 57“ ، نور احمد چشتی کی ”سیف الصحفی صفحہ : 85، 88، 89“ ، دلاوری کی ”التوضیح صفحہ : 142“ ، اعظم گڑھی کی ”رکعات تراویح صفحه : 57،56“
حالانکہ زیلعی حنفی رحمہ اللہ نے نصب الرایہ (ج 2 ص 153) میں ”الفقیہ“ ابوالفتح سلیم بن ایوب الرازی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ ابوشیبہ کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ ابوشیبہ پر محدثین کی شدید جروح کے لئے ”میزان الاعتدال“ اور ”تہذیب التہذیب“ (125/1 ترجمه : 257) و غیره دیکھیں۔

◈ تہجد اور تراویح :۔

بعض تقلید پرستوں نے تہجد اور تراویح میں فرق کرنے کی کوشش کی ہے اور عدم فرق کو (صرف اور صرف) ”غیر مقلدین“ کا مسلک قرار دیا ہے، حالانکہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ بھی عدم فرق کے قائل اور معلن (اعلان کرنے والے) تھے۔

◈ دعوی اجماع :۔

بعض نے (صرف اور صرف) بیس رکعات کے عدد کی باجماعت نماز کے سنت ہونے پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے، حالانکہ خود ان کی کتب میں زبردست اختلاف کا تذکرہ ہے۔ دیکھئے دلاوری کی ”التوضیح صفحہ : 146“ اور العینی الحنفی کی ”عمدۃ القاری : 127،126/1“ وغیرہ ۔

◈ جہالتیں :۔

بعض لوگوں نے متعدد جہالتوں کا ارتکاب کر رکھا ہے مثلاً بعض نے اسحاق بن راہویہ کو اسحاق بن یسار بنا دیا ہے اور بعض نے نافع بن عمر کو نافع مولی ابن عمر بنا دیا ہے۔ دیکھئے ”التوضیح صفحه : 174 ، 150“

◈ مغالطات :۔

متعدد تقلید پرستوں نے اصل موضوع سے غیر متعلق بحث چھیڑ کر سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکا دینے کی کوشش کی ہے، مثلاً :
آٹھ رکعات والی ایک روایت کی ایک سند میں محمد بن حمید الرازی ہے جس پر خیر محمد جالندھری ”بیس رکعات تراویح کا ثبوت ص : 21“ محمد حسین نیلوی ”فتح الرحمن صفحه : 120،115“ نے شدید جرح کی ہے تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ اس روایت کا دارومدار صرف محمد بن حمید پر ہے، حالانکہ یہی روایت اس کے علاوہ دیگر ثقہ راویوں نے بھی بیان کر رکھی ہے لہذا محمد بن حمید پر اس روایت کا الزام نرا مغالطہ ہے۔

◈ دعویٰ اور دلیل میں عدم مطابقت :۔

تقلید پرستوں کا یہ دعویٰ ہے کہ صرف بیس رکعات تراویح سنت مؤکدہ ہے اس دعوئی کی تائید کے لئے متعدد منقطع و ضعیف روایات (جو اپنے دعوئی پر واضح نہیں ہیں) کے ساتھ ساتھ انھوں نے کئی ایسے آثار تابعین پیش کئے ہیں جن میں ہے کہ فلاں تابعی بیس رکعات پڑھتے تھے، فلاں تابعی نے لوگوں کو بیس رکعات پڑھتے ہوئے پایا ، دیکھئے خیر محمد صاحب کی کتاب ”بیس رکعات تراویح کا ثبوت“ ، حبیب الرحمن صاحب کی ”رکعات تراویح“ وغیرہ۔
حالانکہ ان آثار کا دعوئی سے کوئی تعلق نہیں ہے کسی تابعی کا بیس یا اکیس رکعات پڑھنا اس کی دلیل نہیں ہے کہ یہی عدد سنت مؤکدہ ہے۔ تقلید پرستوں کا دعوئی اس وقت قابل سماعت ہو سکتا ہے کہ جب وہ تابعین کے ان آثار میں یہ صراحت ثابت کر دیں کہ وہ یہ رکعات سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا سنت خلفائے راشدین سمجھ کر پڑھتے تھے۔

◈ گھٹیا اور بازاری زبان :۔

مثلاً مسٹر نور احمد چشتی اپنی کتاب” سیف الحنفی“ میں مولانا محمد رفیق السلفی کے بارے میں لکھتے ہیں : ایک جاہل سلفی (ص : 72)
محمد امین اوکاڑوی صاحب (!) لکھتے ہیں : ”غیر مقلدین کے گرگٹ کی طرح بدلتے ہوئے رنگ“ (تحقیق مسئلہ تراویح صفحه : 29)
راقم الحروف نے اپنے مختلف مضامین میں جنھیں اس کتاب میں یکجا کر دیا گیا ہے، کتاب و سنت اور اجماع کو پیش نظر رکھتے ہوئے انتہائی انصاف اور غیر جانبداری کے ساتھ اصول محدثین سے ثابت کیا ہے کہ رمضان اور غیر رمضان میں ، سال کے بارہ مہینوں میں عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد صبح کی اذان تک گیارہ رکعات قیام سنت ہے، وتر کے بعد احیانا دو رکعات اس عموم سے مستثنیٰ ہیں، ہماری تحقیق میں حالت حضر میں یہ دو رکعات سیدنا امام اعظم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہیں، تاہم اگر کوئی انھیں عام سمجھے اور عمل پیرا ہو تو مجتہد ماجور ہے۔ والله اعلم

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️

مقدمہ کتاب تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ از شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ