مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مقدمہ کتاب الوھیت مسیح علیہ السلام حقیقت کے آئینے میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مفتی خاور رشید بٹ کی کتاب "الوھیت مسیح علیہ السلام حقیقت کے آئینے میں” سے ماخوذ ہے۔

ایک مسیحی خاندان میں آنکھ کھولی تو بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی کا سفر طے کرنے کو ہی تھا کہ فکر آخرت دامن گیر ہو گئی۔
بحیثیت ایک عام مسیحی بغیر علم کے مگر فطری طور پر ذہن میں خدا کا جو تصور تھا وہ یہ تھا کہ اس کائنات کا خدا ایک ہی خدا ہے، جو خالق مالک اور رازق خدا ہے، اس خدا کو واحد و یکتا مان کر اسکی عبادت کرتا رہا۔ مگر مشکل اس وقت پیش آئی کہ جب ایک اچھا مسیحی بننے کے لئے اپنے آبائی مذہب یعنی مسیحیت میں تصور خدا کا شعوری طور پر مطالعہ کیا! بعد از مطالعہ پتہ چلا کہ مسیحی توحید نہیں بلکہ توحید فی التثلیث پر یقین رکھتے ہیں یعنی ایک خدا میں تین شخص ہیں باپ، بیٹا، اور روح القدس۔ یہ تین ایک ہیں اور ایک تین۔ یہ تینوں اپنی اپنی ذات میں الگ شخصیات ہیں مثلاً باپ بیٹا نہیں ہے، بیٹا روح القدس نہیں ہے اور روح القدس باپ نہیں ہے مگر یہ تینوں بذات خود خدا بھی ہیں اور یہ تین ایک ہیں۔ اسی کو ”تثلیث فی التوحید“ اور ”توحید فی التثلیث“ کہتے ہیں۔ عقیدہ تثلیث کو ثابت کرنے کے لئے ہمارے مسیحی را ہنما زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بائبل میں خدا تعالیٰ بار بار فرما رہے ہیں کہ میں ہی خداوند تمہارا خدا ہوں اور میرے سوا دوسرا خدا کوئی نہیں۔ بذات خود مسیح علیہ السلام نے کبھی بھی کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ میں خدا ہوں، میں مجسم خدا ہوں، یا میں اقنوم ثلاثہ میں سے ہوں اور میری پرستش کرو ۔ ایک بار بھی نہیں کہا اور تو اور پورے مجموعہ بائبل میں ایک بار عقیدہ تثلیث تو دور، تثلیث کا نام تک نہیں لیا گیا جو کہ مسیحی تعلیمات کا پہلا اور بنیادی عقیدہ ہے۔
اس کے برعکس مسیحی تعلیمات سے یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ مسیح مادر رحم میں قدرت خداوندی سے نو ماہ بعد پیدا ہوئے۔ وہ روتے بھی تھے۔ انکو بھوک اور پیاس بھی لگتی تھی۔ وہ وقت کے ساتھ پرورش پاتے ہوئے بچپن، لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی کو پہنچے، سازش یہود کے سبب رومی سلطنت نے ان کو شدید تکلیف سے دوچار کرتے ہوئے صلیب دیدی، جہاں مسیح علیہ السلام نے دکھ درد اور تکلیف میں خدا کو پکارتے ہوئے اے خدا اے خدا تو نے مجھے تنہا کیوں چھوڑ دیا اور وہیں صلیب پر جان دے دی۔
حضرت مسیح علیہ السلام کی یہ آخری پکار اس بات کی گواہی تھی کہ میں ایک انسان ہوں، میں خدا ہوتا تو اپنی مدد آپ کرتا، میں خدا ہوتا تو خدا سے مدد کا سوال نا کرتا اگر مشکل وقت میں مسیح علیہ السلام خدائے قدوس کو پکار رہے ہیں تو وہ یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ اس کائنات میں خدا تو ایک ہی ہے کہ جسے مشکل میں پکارا جا سکتا ہے ، وہی ہے جو سنے اور قبول کرنے پر قادر خدا ہے۔
یہ تمام باتیں اس بات پر دلیل ہیں کہ مسیح علیہ السلام مجسم خدا ، اقنوم ثلاثہ یا ابن خدا نہیں بلکہ عبد اللہ ،نبی اللہ اور رسول اللہ تھے۔ ان کو بھی یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو کہیں ابن آدم، پیغمبر خدا، خدا کا بھیجا ہوا اور کہیں خدا کا خادم کہتے نظر آتے ہیں۔
مندرجہ بالا کلام جو کہ نہایت جامع انداز میں قرآن نے نقل کیا ہے:
﴿‏ إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۗ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ﴾ ‎
”بیشک میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے پس اس کی عبادت کرو اور یہی سیدھا راستہ ہے۔“
(3-آل عمران:51)
اسی سیدھے راستے اور خدائے واحد و یکتا کی طرف بلاتے ہوئے اہلِ ایمان کے قلم سے سینکڑوں کتب لکھیں جا چکی ہیں۔
مگر نہایت ہی کہنہ مشق، ماہر فن، مسیحی عقائد و نظریات پر گہری نگاہ رکھنے والے مناظر، کتب کثیرہ کے مصنف الاستاذ خاور رشید بٹ حفظہ اللہ کی زیر نظر کتاب نا صرف اللہ سبحانہ و تعالی کی وحدانیت پر ایک شہادت ہے، بلکہ طلباء تقابل ادیان کے لئے نصاب اور متلاشیان حق کے لئے ایک نشانِ منزل بھی ہے۔
یہ ایک ایسی مایہ ناز کتاب ہے کہ جس کو پڑھتے ہوئے قاری خود محسوس کرے گا کہ یہ کسی بھی تعصب، تضحیک و تذلیل سے بالا تر ہو کر، اسلام اور مسیحیت کے مسلمہ اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ، تورات ، زبور، انجیل اور قرآن کے ساتھ ساتھ فلسفہ و منطق کی روشنی میں نہایت علمی، مگر سادہ انداز میں لکھی گئی ہے جس کو غیر جانبدارانہ انداز میں پڑھا جائے تو ذات باری تعالیٰ اور شخصیت مسیح کا جدا ہونا أظهر من الشمس نظر آئے گا۔
چودہ سال سے استاذ صاحب کا سایہ عاطفت میسر ہے، جس میں آپ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، شیخ محترم کا شمار پاکستان کے ان چند علما میں ہوتا ہے جو عبرانی زبان سے آشنا ہیں، آپ کی ناصرف علوم اسلامیہ بلکہ تقابل ادیان پر بھی گہری دسترس ہے، آپکا کم آرام ، شدید و کثیر محنت، اخلاص ، تقومی و تزکیہ اسلاف کی یاد تازہ کرتا ہے، استاد محترم عصر حاضر میں امت مسلمہ کے لئے اثاثہ علم اور متاع فخر ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالی استاذ محترم کو صحت اور ایمان کی لمبی زندگی عطا فرما ئیں اور اس کتاب کو شرف قبولیت بخشیں، اور تلاش حق میں سرگرداں افراد کے لئے اس کتاب کو مشعل راہ بنا دیں ۔ آمین!
(عبد الوارث گل)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔