ماخوذ : فتاویٰ محمدیہ، جلد 1، صفحہ 413
سوال
امام کے ساتھ وتر پڑھنے والا مقتدی اگر یہ نیت کرے کہ میں وتر رات کے آخری حصے میں پڑھوں گا تو کیا وہ صرف دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر سکتا ہے؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ایسا بالکل جائز نہیں ہے۔ اگر مقتدی ایسا کرے گا تو وہ سخت گناہ گار ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث:
((إنما جعل الامام لیؤتم به فإذا رکع فارکعو۔))
کے تحت امام کی پیروی لازم ہے۔
ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب