مقتدیوں کو جماعت کے لیے کب کھڑا ہونا چاہیے؟

یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔
مضمون کے اہم نکات

مقتدیوں کو جماعت کے لیے کب کھڑا ہونا چاہیے؟

❀ مقتدی جماعت کے لیے تب کھڑے ہوں جب وہ امام کو دیکھ لیں، اس سے پہلے کھڑا ہونا جائز نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أقيمت الصلاة فلا تقوموا حتى تروني، وعليكم بالسكينة
جب نماز کی اقامت کہی جائے تو اس وقت تک کھڑے نہ ہو جب تک مجھے آتا دیکھ نہ لو، تم پر سکون سے بیٹھنا واجب ہے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب لا يقوم إلى الصلاة: 638۔ مسلم: 3604]
❀ بعض لوگ مسجد میں آ کر کھڑے رہتے ہیں اور بے چینی سے جماعت کا انتظار کرنے لگتے ہیں، یہ طریقہ درست نہیں، بلکہ انھیں مسجد میں آ کر نوافل، اذکار، دعا اور قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہونا چاہیے۔
❀ بعض لوگ اس وقت جماعت کے لیے کھڑے ہوتے ہیں جب مؤذن حي على الصلاة اور حي على الفلاح کہتا ہے، یہ طریقہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

دعائے استفتاح پڑھنا:

❀ مقتدی اگر حالت قیام میں امام سے مل گیا ہے تو اسے دعائے استفتاح پڑھنی چاہیے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دعائے استفتاح پڑھا کرتے تھے۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب ما يقال بين تكبير الإحرام والقراءة: 601]
❀ اگر جہری قراءت ہو رہی ہو، یا وقت کم ہونے کی وجہ سے فاتحہ کے رہ جانے کا ڈر ہو تو فاتحہ پڑھ لے، دعائے استفتاح چھوڑ دے۔

امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا مسئلہ:

❀ صحیح احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ سورۃ فاتحہ نماز کا رکن ہے، لہذا ہر نمازی پر منفرد ہو، امام ہو، یا مقتدی، پھر امام اونچی قراءت کر رہا ہو یا آہستہ، ہر صورت میں سورۃ فاتحہ کی قراءت فرض اور واجب ہے، اسے پڑھے بغیر ہرگز کوئی نماز نہیں ہو سکتی۔
❀ بعض لوگ اپنے مسلک کی وجہ سے امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے سے منع کرتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس قرآن و سنت سے کوئی دلیل نہیں ہے۔
❀ حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
قسمت الصلاة بيني وبين عبدي نصفين، ولعبدي ما سأل، فإذا قال العبد: الحمد لله رب العالمين قال الله تعالى: حمدني عبدي
میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے اور میرا بندہ جو سوال کرے گا وہ پورا کیا جائے گا۔ پس جب بندہ کہتا ہے: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد بیان کی۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب وجوب القراءة في كل ركعة: 395]
مندرجہ بالا حدیث میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے نماز کو تقسیم کر دیا ہے، حالانکہ تقسیم سورۃ فاتحہ کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ کا نام ”الصلاة“ (نماز) رکھ دیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر نماز کا وجود ہی نہیں اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث سے یہی استدلال کیا ہے۔
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب
جس نے نماز میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی اس کی کوئی نماز نہیں۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب وجوب القراءة للإمام والمأموم: 756۔ مسلم: 394]
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر باب قائم کیا: ”سورۃ فاتحہ پڑھنا ہر نمازی پر واجب ہے، خواہ امام ہو، منفرد ہو یا مقتدی حضر میں ہو یا سفر میں، جہری نماز ہو یا سری۔“
❀ دوسری روایت میں ہے:
اقرأ بأم القرآن ثم اقرأ بما شئت
اپنی نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھ پھر جو تجھے قرآن یاد ہے اس میں سے پڑھ۔۔
[مسند احمد: 340/4، حدیث: 19204۔ صحیح الجامع: 324۔ علامہ الألبانی نے حسن اور شعیب الأرنؤوط نے صحیح کہا ہے]
مندرجہ بالا احادیث میں مطلق نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، خواہ آدمی تنہا نماز پڑھ رہا ہو یا کسی کی اقتدا میں۔ لیکن کچھ لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ احادیث تنہا نماز پڑھنے والے آدمی کے ساتھ خاص ہیں، حالانکہ خاص کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ لہذا اب وہ احادیث پیش کی جاتی ہیں جن میں امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے کا واضح طور پر ذکر موجود ہے۔
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى خلف الإمام فليقرأ بفاتحة الكتاب
جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے اسے سورۃ فاتحہ پڑھنی چاہیے۔
[مسند الشاميين، عن سعيد بن عبد العزيز عن مكحول: 291۔ امام ہیثمی نے کہا ہے کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں]
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى صلاة لم يقرأ فيها بأم القرآن فهي خداج ثلاثا غير تمام
جو کوئی نماز پڑھے اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھے تو اس کی نماز ناقص ہے۔ یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ کہا، یعنی مکمل نہیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: ”ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں؟“ تو انھوں نے فرمایا:
اقرأ بها فى نفسك
سورۃ فاتحہ دل میں آہستہ پڑھ لیا کرو۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب وجوب قراءة الفاتحة في كل ركعة: 395]
امام بخاری رحمہ اللہ نے ”جزء القراءة“ میں امام لغت ابو عبید سے ”خداج“ کا معنی نقل کیا ہے: ”خداج الناقة“ اس وقت بولا جاتا ہے جب اونٹنی بچہ کو وقت سے پہلے مردہ حالت میں گرا دے اور ایسے مردہ بچے سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا ہے۔ لہذا ثابت ہوا کہ سورۃ فاتحہ کے بغیر پڑھی گئی نماز سے کسی قسم کا ثواب حاصل نہیں کیا جا سکتا اور نہ فرض ہی ادا ہوتا ہے۔
❀ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور اس میں قراءت کی، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قراءت بھاری ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا:
أكنتم تقرؤون خلفي؟
کیا تم بھی (امام کے پیچھے) قراءت کرتے ہو؟
ہم نے عرض کیا: ہاں! یا رسول اللہ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تفعلوا إلا بأم القرآن، فإنه لا صلاة لمن لم يقرأ بها
ایسا نہ کیا کرو، تم سورۃ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھا کرو، اس لیے کہ اس کے بغیر کسی شخص کی نماز نہیں ہوتی۔
[مسند احمد: 13/5، حدیث: 23047۔ ابن حبان: 1792۔ امام ترمذی اور دار قطنی نے حسن، شعیب الأرنؤوط نے صحیح کہا ہے]
❀ دوسری روایت میں ہے:
فلا تقرؤوا بشيء من القرآن إذا جهرت إلا بأم القرآن
جب میں (یعنی امام) اونچی آواز سے قراءت کروں تو قرآن سے سورۃ فاتحہ کے سوا کچھ بھی نہ پڑھو۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب من ترك القراءة: 824۔ امام دار قطنی اور علامہ الألبانی نے تحقیق مشکوٰۃ میں حسن، امام بیہقی نے صحیح کہا ہے]
❀ تیسری روایت میں ہے:
وليقرأ أحدكم بفاتحة الكتاب فى نفسه
تم صرف سورۃ فاتحہ دل میں پڑھا کرو۔
[ابن حبان: 1844۔ جزء القراءة للبخاري: 56۔ السنن الكبرى للبيهقي: 2750۔ امام بیہقی نے کہا: تمام راوی ثقہ ہیں۔ ابن حجر نے التلخیص الحبیر (87) میں حسن، شعیب الأرنؤوط نے صحیح کہا ہے]
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب خلف الإمام
اس شخص کی نماز نہیں جو امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا۔
[کتاب القراءة للبيهقي: 47۔ امام بیہقی نے فرمایا: اس کی اسناد صحیح ہے اور جو اس میں الفاظ زیادہ ہیں وہ بہت ساری سندوں سے صحیح اور مشہور ہیں]
❀ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص بھی نماز پڑھے وہ تنہا ہو یا جماعت کے ساتھ، امام ہو یا مقتدی، مقیم ہو یا مسافر، فرض پڑھ رہا ہو یا نوافل، امام بلند آواز سے پڑھ رہا ہو یا آہستہ، اگر وہ سورۃ فاتحہ نہ پڑھے تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔
باقی رہا احناف کا یہ کہنا کہ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھنی چاہیے، تو یہ سب ان کے بہانے ہیں، درحقیقت ان کے نزدیک سورۃ فاتحہ نماز کے لیے ضروری ہی نہیں۔ دیوبندی عالم اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:
اگر کوئی نماز میں الحمد (یعنی سورۃ فاتحہ) نہ پڑھے، بلکہ کوئی اور آیت یا کوئی اور پوری سورت پڑھ لے تو فرض تو اتر جائے گا، لیکن نماز بالکل فاسد اور خراب ہے، پھر سے پڑھنا واجب ہے نہ دہرائے گی تو بہت بڑا گناہ ہو گا۔ البتہ بھولے سے ایسا کیا تو سجدہ سہو کر لینے سے نماز درست ہو جائے گی۔
[بہشتی زیور: 82/2]
اس سے اگلے صفحہ پر لکھتے ہیں:
اگر پچھلی دو رکعتوں میں الحمد (یعنی سورۃ فاتحہ) نہ پڑھے بلکہ تین دفعہ سبحان اللہ، سبحان اللہ کہہ لے تو بھی درست ہے، لیکن الحمد (یعنی سورۃ فاتحہ) پڑھ لینا بہتر ہے اور اگر کچھ نہ پڑھے، چپکے کھڑی رہے تو بھی کچھ حرج نہیں، نماز درست ہے۔
[بہشتی زیور: 83/2]
اس سے ثابت ہوا کہ احناف کے نزدیک سورۃ فاتحہ نماز میں پڑھنا لازمی نہیں ہے، لیکن آڑ انھوں نے فاتحہ خلف الامام کے مسئلہ کو بنایا ہوا ہے اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے:
وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
[الأعراف: 204]
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو، شاید تم پر رحم کیا جائے۔
اس کا معنی یہ کرتے ہیں کہ جماعت میں جب امام قراءت کر رہا ہو تو مقتدیوں کو سورۃ فاتحہ پڑھنا ممنوع ہے، حالانکہ احناف کے نزدیک یہ آیت سورۃ مزمل کی آیت:
فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ
[المزمل: 20]
کے معارض اور خلاف ہے (نعوذ باللہ)۔ لہذا یہ دونوں آیات اس مسئلہ کی دلیل بنانے کے لائق نہیں ہیں۔
❀ اصول فقہ حنفیہ کی معتبر کتاب ”نور الأنوار“ کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:
وحكمها بين الآيتين المصير إلى السنة لأن الآيتين إذا تعارضا تساقطتا فلا بد للعمل من المصير إلى ما بعده وهو السنة
جب دو آیتوں میں تعارض واقع ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ (اس مسئلہ) میں حدیث کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اس لیے کہ جب دو آیات باہم معارض ہوتی ہیں تو دونوں ساقط ہو جاتی ہیں۔ لہذا عمل کے لیے حدیث کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
[نور الأنوار: 191۔ تلويح: 419 میں بھی یہی لکھا ہے]
لہذا ثابت ہوا کہ احناف کے نزدیک یہ ساقط اور دلیل بنانے کے قابل نہیں ہے، لیکن پھر بھی لوگوں کے سامنے یہ آیت پیش کرتے ہیں، کیا یہ دھوکا نہیں؟
دوسری بات یہ کہ اس آیت کا مذکورہ مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ یہ آیت مبارکہ سورۃ اعراف کی ہے اور سورۃ اعراف بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی تھی، جبکہ جماعت کا آغاز مدینہ میں ہوا، تو پھر اس آیت کا تعلق مذکورہ مسئلہ سے کیونکر ہو سکتا ہے؟
اگر اس کا حکم عام ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کسی بھی جگہ جب ایک آدمی قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہو تو وہاں کسی دوسرے کو تلاوت کی اجازت نہیں، بلکہ پہلے شخص کی تلاوت سننے کا حکم ہے، جبکہ خود انھی حضرات کی مساجد اور بالخصوص مدارس تحفیظ میں ایک وقت میں ایک جگہ سیکڑوں طلبہ بلند آواز سے پڑھ رہے ہوتے ہیں اور اگر کوئی طالب علم (قرآن مجید کی اس آیت پر عمل کرتے ہوئے) نہ پڑھے تو استاد اس کی پٹائی کرتا ہے، آخر کیوں؟
لہذا ثابت ہوا کہ مذکورہ آیت کا احناف کے نزدیک بھی یہ معنی نہیں جو وہ بظاہر بتاتے ہیں، یہ محض دھوکا ہے۔
باقی رہیں وہ احادیث جن میں امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھنے سے منع کیا گیا، تو ان میں سے کوئی ایک روایت بھی ایسی نہیں جو صحیح ہو اور مذکورہ مسئلہ میں واضح ہو۔
اگر بالفرض اس آیت کو مذکورہ مسئلہ میں دلیل مان بھی لیں تو اس سے دن رات کی صرف چھ رکعات میں سورۃ فاتحہ پڑھنا ممنوع ہو گا، جبکہ احناف فاتحہ خلف الامام کا تمام رکعات میں انکار کرتے ہیں۔
لہذا سب سے پہلے احناف اس مسئلہ میں اپنا موقف واضح کریں کہ ان کے نزدیک سورۃ فاتحہ نماز میں پڑھنا ضروری ہے یا نہیں؟ اگر سورۃ فاتحہ نماز کا حصہ نہیں تو پھر ان کے لیے اس آیت اور احادیث کو دلیل بنانا ہرگز جائز نہیں، بلکہ انھیں ایسی آیت اور احادیث پیش کرنی چاہییں جن میں نماز کے اندر سورۃ فاتحہ پڑھنے سے منع کیا گیا ہو اور اگر ان کے نزدیک سورۃ فاتحہ نماز کا حصہ ہے تو واضح الفاظ میں اس کا اقرار کریں اور مندرجہ بالا ”بہشتی زیور“ کی عبارت کا واضح طور پر انکار کریں اور پھر کوئی ایسی دلیل لائیں جو اس مسئلہ میں صحیح اور واضح ہو۔
ان لوگوں نے اپنا باطل نظریہ ثابت کرنے کے لیے حدیثیں گھڑ رکھی ہیں، ان میں سے دو مشہور جھوٹی حدیثیں مندرجہ ذیل ہیں:
➊ ”جس نے امام کے پیچھے قراءت کی اس کا منہ آگ سے بھر دیا جائے گا۔“ یہ روایت موضوع ہے۔
[موضوع اور منکر روایات: 59]
➋ ”جس نے امام کے پیچھے قراءت کی اس کی نماز نہ ہوگی۔“ یہ روایت باطل ہے۔
[موضوع اور منکر روایات: 60]

آمین کہنے کا مسئلہ:

مقتدیوں کو چاہیے کہ جب امام آمين یا ولا الضالين کہے تو وہ بلند آواز سے آمین کہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أمن الإمام فأمنوا
جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب جهر الإمام بالتأمين: 780۔ مسلم: 410]
جس مقتدی نے سورۃ فاتحہ مکمل نہ کی ہو وہ بھی امام کے ساتھ آمین کہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام کے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ پڑھنے پر آمین کہنے کا حکم دیا ہے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب جهر الإمام بالتأمين: 782]
❀ آہستہ قراءت کے وقت آہستہ آمين اور بلند قراءت کے وقت بلند آمين کہنی چاہیے۔ یہ مسئلہ شریعت اسلامیہ میں بالکل واضح ہے لیکن کچھ لوگ سری قراءت میں سری آمین کو تو مانتے ہیں لیکن جہری قراءت میں جہری آمین کا انکار کرتے ہیں۔ جبکہ یہ مسئلہ صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
❀ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أمن الإمام فأمنوا، فإنه من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه
جب امام آمین کہے تو تم (مقتدی) بھی آمین کہو (اس وقت فرشتے بھی آمین کہتے ہیں) تو جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ مل گئی اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو جائیں گے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب جهر الإمام بالتأمين: 780۔ مسلم: 410]
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ امام بلند آواز سے آمین کہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتدی کو امام کی آمین کے ساتھ آمین کہنے کا حکم دیا ہے۔
امام سے پہل کرنا بھی جائز نہیں اور امام کے ساتھ ساتھ چلنا بھی جائز نہیں، اتباع یہ ہے کہ امام کے پیچھے پیچھے چلا جائے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث میں ہے۔
اسی طرح جن لوگوں کی کچھ نماز باقی ہو، انھیں نماز مکمل کرنے کے لیے تب کھڑا ہونا چاہیے جب امام دونوں طرف سلام پھیر لے، جبکہ ہمارے ہاں امام سلام پھیرنا شروع کرتا ہی ہے کہ لوگ کھڑے ہو جاتے ہیں، ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

جن چیزوں میں امام سے اختلاف جائز ہے:

❀ مندرجہ ذیل چیزوں میں امام اور مقتدی کے درمیان اختلاف ہو جائے تو کوئی حرج نہیں:
نیت میں اختلاف جائز ہے، یعنی امام فرض پڑھا رہا ہے جبکہ مقتدی نفل، یا امام کی نیت نفل کی ہو اور مقتدی فرض ادا کر رہا ہے، جیسا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھنے کے بعد اپنی قوم کی جماعت کرواتے تھے، تو وہ ان کی نفل ہوتی اور قوم کی فرض۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب إذا صلى ثم أم قومًا: 711۔ مسلم: 465]
❀ اسی طرح امام عصر کی پڑھا رہا ہے اور مقتدی ظہر کی ادا کر رہا ہے۔
❀ امام کسی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر امامت کرا رہا ہے اور مقتدی کھڑا ہو کر نماز ادا کر رہا ہے، یا امام کھڑا ہے اور مقتدی بیٹھا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض وفات میں ایک دن بیٹھ کر جماعت کروائی اور لوگوں نے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب الرجل يأتم بالإمام ويأتم الناس بالمأموم: 713۔ مسلم: 418]
امام قصر پڑھے اور مقتدی مکمل پڑھے۔ (تفصیل ”نماز سفر“ کے باب میں ملاحظہ فرمائیں)

امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچانا:

اگر امام کی آواز تمام مقتدیوں تک نہ پہنچ رہی ہو تو مقتدیوں میں سے کوئی شخص امام کی تکبیر آخر تک پہنچائے اور جماعت بہت بڑی ہو تو فاصلے فاصلے پر کھڑے زیادہ لوگوں کو یہ فریضہ انجام دینا چاہیے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مرض وفات میں جماعت کروائی (اور کمزوری کی وجہ سے لوگوں تک آواز نہیں پہنچ رہی تھی)، تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز لوگوں تک پہنچا رہے تھے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب من أسمع الناس تكبير الإمام: 712۔ مسلم: 413/85]
❀ سپیکر کی سہولت موجود ہو تو اس میں جماعت کروانی چاہیے، تاکہ لوگ صحیح طور پر اقتدا کر سکیں، تب لوگوں تک امام کی آواز پہنچانے کی ضرورت نہیں۔

امام بھول جائے تو اسے لقمہ دینا:

❀ دوران نماز میں اگر امام بھول جائے تو مقتدیوں کا فرض ہے کہ وہ امام کو لقمہ دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فإذا نسيت فذكروني
جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کروا دیا کرو۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب التوجه نحو القبلة حيث كان: 401۔ مسلم: 572]
یاد کرانے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر امام قراءت میں سے کچھ بھول گیا تو اسے بھولا ہوا لفظ بتانا چاہیے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قراءت مشتبہ ہو گئی، تو نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
تو نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب الفتح على الإمام في الصلاة: 908۔ حسن]
اس کے علاوہ کوئی غلطی ہو جائے تو مرد سبحان الله کہہ کر اور عورتیں تالی بجا کر آگاہ کریں۔ فرمان نبوی ہے:
التسبيح للرجال والتصفيق للنساء
مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور خواتین کو تالی بجانی چاہیے۔
[بخاری، کتاب العمل في الصلاة، باب التصفيق للنساء: 1203۔ مسلم: 422]
نماز سے باہر والا شخص نمازی کو اس کی غلطی پر متنبہ کر سکتا ہے۔ جب قبلہ بیت المقدس سے تبدیل ہو کر کعبہ بن گیا، تو کچھ لوگوں کو اس کا علم نہ ہوا، وہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، قریب سے گزرنے والے آدمی نے بلند آواز سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کعبہ کی سمت نماز پڑھی ہے۔ تو لوگوں نے نماز کے دوران ہی میں اپنا رخ پھیر لیا۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب التوجه نحو القبلة حيث كان: 399۔ مسلم: 1186]

امام کی تبدیلی:

امام کسی وجہ سے امامت کے قابل نہ رہے، تو اس کے پیچھے کھڑا مقتدی آگے بڑھ کر نماز مکمل کروا دے۔ عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
❀ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر نماز میں قاتلانہ حملہ ہوا تو انھوں نے پیچھے کھڑے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر آگے کر دیا اور انھوں نے نماز مکمل کرائی۔
[بخاری، کتاب فضائل أصحاب النبي، باب قصة البيعة والاتفاق على عثمان بن عفان رضی اللہ عنه: 3700]

ایک جگہ دو جماعتیں:

❀ کچھ لوگ جماعت کے بعد آئیں تو وہ دوسری جماعت کروا سکتے ہیں، بلکہ انھیں جماعت ہی سے نماز ادا کرنی چاہیے اور ائمہ مساجد کو بھی برا نہیں ماننا چاہیے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ایک آدمی آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھا چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون اس شخص پر صدقہ کرتا ہے؟ تو لوگوں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے اس کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی۔
[ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء في الجماعة في مسجد قد صلى فيه مرة: 220۔ ابو داؤد: 574۔ صحیح]
❀ اگر بعد میں پہنچنے والا آدمی تنہا ہے تو جماعت کے ساتھ نماز ادا کر لینے والوں میں سے ایک آدمی (نفل کی نیت سے) اس کے ساتھ شامل ہو جائے، تاکہ جماعت ہو سکے۔ یہ اس کی طرف سے صدقہ ہوگا۔
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ مسافر دوسری جماعت کرا سکتے ہیں، لیکن مقیم لوگوں کو جماعت کروانا جائز نہیں، یہ سراسر غلط ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس صحابی کو جماعت کرانے کا حکم دیا تھا وہ وہیں کا مقیم ہی تھا اور اس کے علاوہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مسجد میں دوسری جماعت کروانا ثابت ہے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب فضل صلاة الجماعة، تعلیقاً، قبل الحدیث: 645 ووصله المحدث أبو يعلى الموصلي في مسنده الصغير: 468/3، حدیث: 4338۔ إسناده صحیح]
❀ دیر سے آنا اور دوسری جماعت کو معمول بنا لینا جائز نہیں، اس سے پہلی جماعت (جو اصل ہے) کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔
سنن کے لیے جگہ کی تبدیلی:
❀ فرضوں والی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ سنن ادا کرنی چاہییں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أتعجزون أن تتقدموا أو تتأخروا أو تعدل يمينا أو شمالا؟
کیا تم اس بات سے عاجز ہو کہ (فرضوں کے بعد) آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہو جاؤ، یعنی نفل پڑھنے کے لیے؟
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب في الرجل يتطوع في مكانه الذي صلى فيه المكتوبة: 1006۔ ابن ماجه: 1427۔ صحیح]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے