مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مقبروں اور مزاروں کا حکم احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

مقبروں اور مزاروں کا کیا حکم ہے؟

جواب:

مقبروں اور مزاروں کا اسلام میں کوئی تصور نہیں، صحابہ، تابعین اور ائمہ دین کے زمانے میں مسلمانوں کے ہاں ان کا وجود نہیں تھا۔ یہ نصاریٰ سے روافض نے مستعار لیا اور بعد میں بعض مسلمانوں میں در آیا۔ یہ شرک اور کفر کے اڈے ہیں، جبکہ اسلام کی عمارت ہی شرک اور کفر کے انکار پر کھڑی ہے، اس کے علاوہ بھی مقبروں اور مزاروں میں کئی شرعی قباحتیں ہیں۔
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
هذا مما علم بالتواتر والضرورة من دين الرسول صلى الله عليه وسلم، فإنه أمر بعمارة المساجد والصلاة فيها، ولم يأمر بناء مشهد، لا على قبر نبي، ولا غير قبر نبي ولا على مقام نبي، ولم يكن على عهد الصحابة والتابعين وتابعيهم فى بلاد الإسلام، لا الحجاز ولا الشام ولا اليمن ولا العراق ولا خراسان ولا مصر ولا المغرب مسجد مبني على قبر، ولا مشهد يقصد للزيارة أصلا، ولم يكن أحد من السلف يأتى إلى قبر نبي أو غير نبي لأجل الدعاء عنده، ولا كان الصحابة يقصدون الدعاء عند قبر النبى صلى الله عليه وسلم، ولا عند قبر غيره من الأنبياء، وإنما كانوا يصلون ويسلمون على النبى صلى الله عليه وسلم وعلى صاحبيه
یہ بات تواتر سے معلوم ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اساس میں داخل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد کو آباد کرنے اور ان میں نماز پڑھنے کا حکم فرمایا ہے، مگر مزار بنانے کا حکم نہیں دیا، نہ کسی نبی کی قبر پر، نہ کسی غیر نبی کی قبر پر اور نہ کسی نبی کے جائے قیام پر۔ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے زمانوں میں حجاز، شام، یمن، عراق، خراسان، مصر یا مغرب سمیت کسی مسلمان علاقے میں سرے سے کوئی ایسی مسجد نہیں تھی، جو قبر پر بنائی گئی ہو یا کوئی مزار ہو، جس کی زیارت کا قصد کیا جاتا ہو۔ سلف میں سے کوئی بھی کسی نبی یا غیر نبی کی قبر پر اس لیے نہیں آتا تھا کہ وہاں آکر دعا کرے (تاکہ اس کی دعا جلدی قبول ہو)۔ نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دعا کے ارادے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی نبی کی قبر کا قصد کرتے تھے، وہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ساتھیوں (ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما) پر درود وسلام بھیجتے تھے۔
(اقتضاء الصراط المستقيم: 284/2)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔