مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مغرب کی جماعت کے دوران عصر کی قضا کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی علمیہ، جلد1، كتاب الصلاة۔صفحہ 294
مضمون کے اہم نکات

مغرب کی نماز پڑھنے والے کے پیچھے عصر کی نماز پڑھنے کا حکم

سوال

اگر کوئی شخص کسی مجبوری کے باعث عصر کی نماز ادا نہ کر سکا اور جب مسجد پہنچا تو مغرب کی جماعت کھڑی ہونے والی تھی، تو کیا ایسے شخص کو پہلے عصر ادا کرنی چاہیے اور پھر جماعت میں شامل ہونا چاہیے، یا پہلے مغرب کی جماعت میں شامل ہو کر بعد میں عصر ادا کرے؟ کیا نمازوں کی ترتیب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے؟

الجواب 

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حدیث مبارکہ سے رہنمائی

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

"أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا”

"پس تم جو پالو تو نماز پڑھ لو اور جو فوت ہو جائے تو پوری کر لو۔”

(صحیح بخاری: 635، صحیح مسلم: 603)

مسئلے کی وضاحت

اس حدیث کی روشنی میں اگر کوئی شخص مسجد میں پہنچے اور جماعت کھڑی ہو چکی ہو تو وہ جو نماز پائے، اسے امام کے ساتھ ادا کر لے اور جو رکعات فوت ہو جائیں، وہ بعد میں مکمل کرے۔

اگرچہ نمازوں کی ترتیب (ترتیب بین الصلوات) ضروری ہے، لیکن اضطراری حالت میں (یعنی جب کسی مجبوری یا عذر کی وجہ سے ترتیب قائم نہ رہ سکے) اس میں رخصت دی گئی ہے۔

ایسے حالات میں موجودہ وقت کی نماز پہلے پڑھ لینا اور فوت شدہ نماز بعد میں ادا کرنا جائز ہے۔

عصر کی نماز، مغرب کے بعد؟

کسی ایسی حدیث یا اثر کا علم نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ کوئی شخص مغرب کی نماز پڑھنے والے امام کے پیچھے عصر کی نماز ادا کرے۔

اس لیے درست طریقہ یہی ہے کہ اگر مغرب کی جماعت کھڑی ہو چکی ہو تو اس میں شریک ہو کر مغرب ادا کرے اور بعد میں اپنی قضا شدہ عصر کی نماز ادا کرے۔

نتیجہ

◈ مغرب کی جماعت میں شامل ہو کر مغرب کی نماز ادا کی جائے۔
◈ اس کے بعد عصر کی قضا نماز پڑھی جائے۔

اگرچہ نمازوں کی ترتیب کا لحاظ رکھنا مطلوب ہے، مگر اضطراری حالت میں ترتیب کا چھوٹ جانا شرعاً جائز ہے۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔