مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پر ضعیف و موضوع روایات کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب غیر مسنون نفلی نمازیں سے ماخوذ ہے۔

مغرب اور عشاء کے درمیان نماز کی فضیلت

مغرب اور عشاء کے درمیان نماز کی فضیلت کے بارے میں جو احادیث پیش کی جاتی ہیں، ساری کی ساری ضعیف اور نا قابل حجت ہیں تفصیل ملاحظہ ہو:
1۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى بين المغرب والعشاء، عشرين ركعة بنى الله له بيتا فى الجنة.
جس نے مغرب اور عشاء کے درمیان بیس رکعات ادا کیں، اللہ اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا۔
(سنن ابن ماجه: 1373)
من گھڑت ہے۔
یعقوب بن ولید مدنی کے بارے میں امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كان من الكذابين الكبار وكان يضع الحديث.
بڑا جھوٹا تھا، حدیثیں گھڑتا تھا۔
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 216/9)
❀ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
منكر الحديث ضعيف الحديث، كان يكذب والحديث الذى رواه موضوع، وهو متروك الحديث.
منکر الحدیث اور ضعیف الحدیث ہے، جھوٹ بولتا تھا۔ اس کی بیان کردہ حدیث موضوع ہے اور خود متروک الحدیث ہے۔
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 216/9)
❀ الکامل لابن عدی (149/5) میں اس کا ایک ضعیف شاہد ہے، جس کی سند میں عمر و بن جریر کوفی کذاب ہے۔
امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كان يكذب.
جھوٹ بولتا تھا۔
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 224/6)
2۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى بعد المغرب ست ركعات لم يتكلم فيما بينهن بسوء عدلن له بعبادة ثنتي عشرة سنة
جس نے مغرب کے بعد چھ رکعت ادا کیں اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کی ، وہ اس کے لئے بارہ سال عبادت کے برابر کر دی جائیں گی ۔
(سنن الترمذي : 435، سنن ابن ماجه : 1374، صحيح ابن خزيمة : 1195)
سند سخت ضعیف ہے۔
➊ عمر بن ابی شعثم منکر الحدیث ہے۔
❀ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے سنا کہ انہوں نے اسے منکر الحدیث اور سخت ضعیف کہا ہے۔
➋ یحیی بن ابی کثیر کا عنعنہ ہے۔
➌ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کے بعد چھ رکعات پڑھتے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى بعد المغرب ست ركعات غفرت له ذنوبه وان كانت مثل زبد البحر
جس نے نماز مغرب کے بعد چھ رکعت ادا کیں، اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے، اگر چہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔
(المعجم الأوسط للطبراني : 7245)
سند سخت ضعیف ہے۔
➊ محمد بن عمار بن محمد بن عمار مجہول ہے۔
➋ عمار بن محمد بن عمار مجہول ہے۔
➌ صالح بن قطن بخاری مجہول ہے ۔
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فيها مجاهيل
اس میں کئی مجہول راوی ہیں۔
(العلل المتناهية : 776)
➍ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى بعد المغرب ستا غفر له بها
جس نے مغرب کے بعد چھ رکعات ادا کیں، اس کی بخشش ہو جائے گی ۔
(عِلَل الحديث لابن أبي حاتم : 51/2)
من گھڑت روایت ہے۔
➊ محمد بن غزوان منکر الحدیث ہے۔
➋ وضین بن عطاء کمزور راوی ہے، نیز اس نے منکر روایات بیان کی ہیں۔
امام ابوزرعہ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إضربوا على هذا الحديث فإنه شبه موضوع
اس حدیث کو ترک کر دیں ، یہ من گھڑت معلوم ہوتی ہے۔
(علل الحديث لابن أبي حاتم : 51/2)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
صلاة الأوابين ما بين أن يلتفت أهل المغرب إلى أن ينوب إلى العشاء
نماز اوابین مغرب اور عشاء کے درمیان ہے۔
(مصنف ابن أبي شيبة : 196/2)
سند ضعیف ہے۔
➊ موسیٰ بن عبیدہ ربزی ضعیف ہے۔
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ضعيف عند الأكثرين
جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
(تفسیر ابن کثیر تحت آيت سورة بني إسرائيل : 44)
➋ عبد اللہ بن عبیدہ ربزی کا سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سماع معلوم نہیں۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے:
من صلى أربعا بعد المغرب كان كالمُعقّب غزوة بعد غزوة
جس نے نماز مغرب کے بعد چار رکعت ادا کیں، وہ پے در پے غزوہ کرنے والے کی طرح ہے۔
(مصنف ابن أبي شيبة : 196/2)
سند ضعیف ہے۔
➊ موسیٰ بن عبيدة ربزی ضعیف۔
➋ ایوب بن خالد پر کلام ہے۔
➌ ایوب بن خالد کا سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سماع معلوم نہیں۔
ابن منکدر اور ابو حازم تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (السجدۃ:16) کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
هي ما بين المغرب وصلاة العشاء صلاة الأوابين
مغرب اور عشاء کے درمیان صلاۃ اوابین ہے۔
(السنن الكبرى للبيهقي : 19/3)
سند ضعیف ہے، عبد اللہ بن لہیعہ ضعیف ، مختلط اور مدلس ہے۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے قول کی سند نہیں مل سکی ۔ بعض لوگ اس نماز کو صلاۃ الاوابین کے نام سے موسوم کرتے ہیں، جو کہ درست نہیں ،اس باب میں دیگر ضعاف بھی منقول ہیں۔
نوٹ : بلاتعین مغرب اور عشاء کے درمیان نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، جیسا کہ ہم نے مسنون نفلی نمازوں میں ذکر کیا۔