مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

معلق طلاق شرط پوری ہونے پر نکاح کے بعد طلاق کا حکم؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

اگر کوئی کہے کہ میں نے فلاں کام کیا، تو میری ہونے والی بیوی کو تین طلاق، پھر وہ کام کر لیا، تو کیا نکاح کے بعد اس بیوی کو تین طلاق واقع ہو جائیں گی؟

جواب:

معلق طلاق اس صورت میں واقع ہوتی ہے، جب طلاق کو معلق کرتے وقت نکاح کیا ہوا ہو۔ جب تک عورت نکاح میں نہیں ہے، اس کی طلاق کو کسی شرط سے معلق نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح معلق کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا طلاق فيما لا يملك ولا عتق فيما لا يملك
مسند الإمام أحمد: 189/2، 189-207، سنن أبي داود: 2190، سنن الترمذي: 1181، سنن ابن ماجه: 2047، وسندہ حسن
جس کا انسان مالک نہیں، اسے طلاق نہیں دے سکتا اور جس کا انسان مالک نہیں، اسے آزاد نہیں کر سکتا۔
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن الجارود رحمہ اللہ نے صحیح، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح اور ابن ملقن رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔
تلخيص المستدرك: 204-205/12، تحفة المحتاج، ح: 1184

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔