معراج کی رات، 27 رجب کی عبادت سے متعلق 3 روایات کی اسنادی حیثیت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب غیر مسنون نفلی نمازیں سے ماخوذ ہے۔

نماز معراج:

بعض لوگ 27 رجب کو یوم معراج قرار دیتے ہیں، یہ بے حقیقت و بے ثبوت نظریہ ہے، وہ اس شب کو خاص عبادت بجالاتے ہیں، جو صریح بدعت اور منکر فعل ہے۔
اولاً:
معراج کی تاریخ کا تعین ثابت نہیں۔
ثانیاً:
اس تاریخ کو عبادت کے متعلق جو روایات آتی ہیں، وہ جھوٹی ہیں، ملاحظہ ہو:

پہلی روایت

❀ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
في رجب يوم وليلة من صام ذلك اليوم وقام تلك الليلة كان له من الأجر كمن صام مائة سنة وقام مائة سنة وهى لثلاث بقين من رجب فى ذلك اليوم بعث الله محمدا نبيا
27 رجب کے دن روزہ اور رات کو قیام کرنے والے کو سو برس کے روزوں اور قیام کا ثواب ملتا ہے، اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔
(شُعَب الإيمان للبيهقي: 3530، الغَرائب المُلتقطة لابن حجر: 1040/5، فضل رجب لابن عساکر: 10، 11، ذيل اللآلي المصنوعة للسيوطي: 459/1)
سخت ضعیف و منکر روایت ہے۔
➊ خالد بن ہیاج بن بسطام ضعیف ہے۔ اس کی اپنے والد سے مروی روایت منکر ہوتی ہے۔
❀ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
يعتبر حديثه من غير روايته عن أبيه
اس کی وہ روایات قابل اعتبار ہیں، جو اس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی اور سے بیان کی ہیں۔
(الثقات: 8/225-226)
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ذو مناكير عن أبيه
اپنے باپ سے منکر روایتیں بیان کرتا ہے۔
(سير أعلام النبلاء: 114/4)
مذکورہ روایت بھی اس نے اپنے باپ سے بیان کی ہے، لہذا منکر ہے۔
➋ ہیاج بن بسطام ضعیف ہے۔
➌ سلیمان بن طرخان تیمی مدلس ہیں۔
❀ حافظ بیہقی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(شعب الإيمان: 393/7)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا حديث منكر إلى الغاية
یہ انتہا کی منکر روایت ہے۔
(تبيين العجب: 21/1)

دوسری روایت

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
في رجب ليلة يكتب للعامل فيها حسنات مائة سنة، وذلك لثلاث بقين من رجب، فمن صلى فيها اثنتي عشرة ركعة يقرأ فى كل ركعة فاتحة الكتاب وسورة من القرآن يتشهد فى كل ركعتين، ويسلم فى آخرهن، ثم يقول سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر مائة مرة، ويستغفر الله مائة مرة، ويصلي على النبى صلى الله عليه وسلم مائة مرة، ويدعو لنفسه ما شاء من أمر دنياه وآخرته، ويصبح صائما فإن الله يستجيب دعاء: كله إلا أن يدعو فى معصية
ستائیس رجب کی رات عبادت کرنے والے کی نیکیاں سو سال عبادت کے برابر ہیں، جو اس میں بارہ رکعات ادا کرتا ہے، ہر رکعت میں سورت فاتحہ اور قرآن کی کوئی سورت پڑھتا ہے، ہر دو رکعت کے بعد تشہد بیٹھتا ہے، آخر میں سلام پھیرتا ہے، بعد ازاں سبحان اللہ الحمد للہ لا الہ الا اللہ واللہ اکبر کی تسبیح سو مرتبہ اور سو مرتبہ استغفر اللہ پڑھتا ہے، سو مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا ہے تو دنیا و آخرت کے امور میں سے جو چاہے مانگے، اگلی صبح روزہ رکھے، تو دعائے معصیت کے علاوہ اللہ تعالیٰ اس کی ہر دعا کو شرف قبولیت بخشے گا۔
(شعب الإيمان للبيهقي: 3531، فَضل رجب لابن عساكر، ص 316)
جھوٹی روایت ہے۔
➊ محمد بن فضل بن عطیہ عبسی متروک وکذاب ہے۔
➋ ابان بن ابی عیاش متروک ہے۔
➌ خلف بن محمد بن اسماعیل خیام ضعیف و متروک ہے۔
➍ ابان کا سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع معلوم نہیں۔
➎ نصر بن حسین ابواللیث بخاری کی توثیق درکار ہے۔
➏ عیسی بن موسی غنجار مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
➐ مکی بن خلف اور اس کا متابع اسحاق بن احمد بن خلف دونوں کے حالات زندگی نہیں ملے۔
حافظ بیہقی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(شعب الإيمان: 394/7)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إسناده مظلم
اس کی سند مجہول ہے۔
(تبيين العجب، ص 63)

تیسری روایت

❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب ہے:
من صلى ليلة سبع وعشرين من رجب اثنتي عشرة ركعة يقرأ فى كل ركعة منها بفاتحة الكتاب وسورة، فإذا فرغ من صلاته قرأ فاتحة الكتاب سبع مرات وهو جالس، ثم قال: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم أربع مرات، ثم أصبح صائما، حط الله عنه ذنوبه ستين سنة وهى الليلة التى بعث فيه محمد صلى الله عليه وسلم
جو ستائیس رجب کی رات بارہ رکعت نماز ادا کرتا ہے، ہر رکعت میں سورت فاتحہ اور کوئی دوسری سورت تلاوت کرتا ہے، نماز سے فارغ ہونے کے بعد اسی جگہ بیٹھے بیٹھے سات مرتبہ سورت فاتحہ پڑھتا ہے، پھر چار بار سُبْحَانَ اللهِ، الحَمْدُ لِلّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ کی تسبیح کرتا ہے، اگلی صبح روزہ رکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کی ساٹھ سالہ خطائیں معاف فرما دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت اسی رات عطا ہوئی۔
(تاریخ ابن عساكر: 308/27، تبيين العجب لابن حَجَر، ص 52)
جھوٹا قول ہے۔
➊ محمد بن زیاد یشکری کوفی کذاب ہے۔
اسے امام یحییٰ بن معین، امام احمد بن حنبل، امام فلاس، امام ابوزرعہ رازی اور امام نسائی وغیرہ نے کذاب (پرلے درجے کا جھوٹا) قرار دیا ہے۔
ابوالحسین عبید اللہ بن خالد کے حالات زندگی نہیں ملے۔
➋ حسن بصری رحمہ اللہ سے منسوب ہے.
من صلىٰ ليلة سبع وعشرين من رجب اثنتي عشرة ركعة يقرأ فى كل ركعة منها بفاتحة الكتاب وسورة فإذا فرغ من صلاته قرأ فاتحة الكتاب سبع مرات وهو جالس ثم قال سبحان الله والحمد لله ولا إلٰه إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم أربع مرات ثم أصبح صائما حط الله عنه ذنوبه ستين سنة وهى الليلة التى بعث فيها محمد صلى الله عليه وسلم
جو ستائیس رجب کی رات بارہ رکعت نماز ادا کرتا ہے ہر رکعت میں سورت فاتحہ اور کوئی دوسری سورت تلاوت کرتا ہے نماز سے فارغ ہونے کے بعد اسی جگہ بیٹھے بیٹھے سات مرتبہ سورت فاتحہ پڑھتا ہے پھر چار بار سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ کی تسبیح کرتا ہے اگلی صبح روزہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ساٹھ سالہ خطائیں معاف فرما دیتا ہے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو نبوت اسی رات عطا ہوئی۔
(تاریخ ابن عساکر 308/27 تبیین العجب لابن حجر ص 52)
جھوٹا قول ہے ۔
➊ محمد بن زیاد یشکری کوفی کذاب ہے۔
اسے امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ امام فلاس رحمہ اللہ امام ابوزرعہ رازی رحمہ اللہ اور امام نسائی رحمہ اللہ وغیرہم ہمیشہ نے کذاب پرلے درجے کا جھوٹا قرار دیا ہے۔
➋ ابوالحسین عبید اللہ بن خالد کے حالات زندگی نہیں ملے حسن بصری رحمہ اللہ سے منسوب ہے۔
كان عبد الله بن عباس إذا كان يوم السابع والعشرين من رجب
جھوٹی بے سند روایت ہے۔
(غنیة الطالبین للشیخ عبد القادر الجیلانی رحمہ اللہ 182/1)
شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ نے یہ روایت اپنے استاذ ہبتہ اللہ بن مبارک سقطی ابو البرکات سے ذکر کی ہے ہبتہ اللہ کے بارے میں حافظ سمعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں.
سألت ابن ناصر عن السقطي أكان ثقة قال لا والله ظهر كذبه وهو من سقط المتاع
میں نے ابن ناصر رحمہ اللہ سے سقطی کے بارے میں سوال کیا کہ کیا وہ ثقہ ہے فرمایا نہیں اللہ کی قسم اس کا کذب واضح ہے یہ بے کار سامان ہے.
(سير أعلام النبلاء للذهبي 283/19)
❀ حافظ ابن نجار رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كان قليل الإثقان ضعيفا لا يوثق به ورأيت بخط السلفي جزءا سمعه من هٰذا الرجل مفتعل وأسانيده مركبة ولم أجد فيه إسنادا صحيحا بل ظاهر الصنعة وله معجم فى مجلد ادعىٰ فيه لقاء أناس لم يدركهم ولم يرهم
قلیل الضبط اور ضعیف تھا اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا میں نے ابوطاہر سلفی رحمہ اللہ کے ہاتھ کا لکھا ایک جز دیکھا یہ من گھڑت جز اسی سے مروی تھا اس میں کوئی صحیح سند نہیں تھی بلکہ اس کا من گھڑت ہونا ظاہر ہے اس نے معجم بھی لکھی اس میں ان لوگوں سے ملاقات کا دعویٰ کرتا ہے جن کا زمانہ نہ پایا نہ انہیں دیکھا۔
(لسان الميزان لابن حجر 326/8)
اس روایت کے بارے میں علامہ عبدالحی لکھنوی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
هو موضوع
من گھڑت ہے.
(الآثار المرفوعة ص 78)
❀ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ )فرماتے ہیں :
كل حديث فى ذكر صوم رجب وصلاة بعض الليالي فيه فهو كذب مفترى
رجب کے روزے اور اس کی بعض راتوں میں قیام کے متعلق بیان کردہ تمام روایات جھوٹ اور بہتان ہیں۔
(المنار المنيف ص 96)
❀ علامہ ملاعلی قاری حنفی رحمہ اللہ ( 1014ھ ) فرماتے ہیں :
كذا صلاة عاشوراء وصلاة الرغائب موضوع بالإتفاق وكذا بقية صلوات ليالي رجب وليلة السابع والعشرين من رجب
صلاة عاشوراء صلاة الرغائب ستائیس رجب اور اس کی باقی راتوں کی نمازیں بالاتفاق من گھڑت ہیں.
(الأسرار المرفوعة ص 289)
❀ علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ )فرماتے ہیں:
لم يرد فى رجب على الخصوص سنة صحيحة ولا حسنة ولا ضعيفة ضعفا خفيفا بل جميع ما روي فيه على الخصوص إما موضوع مكذوب أو ضعيف شديد الضعف
ماہ رجب کے متعلق بطور خاص کوئی صحیح حسن یا کم درجے کی ضعیف سند وارد نہیں بلکہ اس بارے میں مروی تمام روایات یا تو من گھڑت اور جھوٹی ہیں یا شدید ضعیف۔
(السيل الجرار 143/2)
❀ علامہ ابن باز رحمہ اللہ( 1420ھ )فرماتے ہیں:
رجب یا کسی بھی دوسرے مہینے میں شب معراج کی تعیین کے متعلق صحیح احادیث میں کچھ بھی مذکور نہیں اس رات کی تعیین میں تمام روایات محدثین کی تحقیق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں اس کا علم چھپا لینے میں اللہ تعالیٰ کی بلیغ حکمت ہے بالفرض اس رات کی تعیین ثابت ہو جائے تب بھی مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ اسے بعض عبادات کے لیے خاص کریں یا اس میں مختلف مجالس و محافل کا انعقاد کریں کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔
(مجموع فتاوى ومقالات متنوعة 183/1)
❀ شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ (1421ھ) فرماتے ہیں:
ستائیس رجب کی رات کے متعلق لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس رات معراج ہوئی آپ اللہ تعالیٰ کی طرف گئے تاریخی لحاظ سے یہ ثابت نہیں لہذا جس چیز کا ثبوت نہ ہو وہ باطل ہے باطل پر بنیاد باطل ہی ہوتی ہے بالفرض رجب کی ستائیسویں شب کو شب معراج تسلیم کر لیں پھر بھی ہمارے لیے جائز نہیں کہ ہم اس قسم کی عیدوں اور عبادات کا پرچار کریں کیوں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی ثابت نہیں ہے۔
(مجموع فتاوى ورسائل 297/2)