معراج النبی ﷺ سے منسوب غیر مستند واقعات کا تحقیقی محاسبہ

یہ اقتباس حافظ صلاح الدین یوسف کی کتاب واقعہ معراج اور اس کے مشاہدات سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

گزشتہ صفحات میں معراج کے وہ مشاہدات و واقعات بیان ہوئے جو صحیح یا حسن روایت سے ثابت ہیں۔ اب ذیل میں ان واقعات و مشاہدات کا ذکر کیا جاتا ہے جو غیر مستند ہیں لیکن واعظ اور خطیب حضرات انھیں زیب داستان کے طور پر یا گرمی محفل کے لیے بالعموم بیان کرتے ہیں، حالانکہ جو باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنداً صحیح ثابت نہیں، انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر کے بیان کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس پر جہنم کی وعید وارد ہے۔
بنا بریں مناسب سمجھا گیا کہ غیر مستند واقعات کی بھی نشاندہی کر دی جائے تا کہ خطباء حضرات ان کو بیان کرنے سے اجتناب کریں اور صرف صحیح واقعات پر اکتفا کریں۔ یہ واقعات حسب ذیل ہیں۔ یہ سب واقعات تفسیر ابن کثیر سے نقل کیے جا رہے ہیں۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تصدیق کرنا:

ابو یعلی کے حوالے سے ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:
"آپ میرے سامنے مسجد اقصیٰ کی صفات بیان فرمائیں۔”
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا ہوا تھا۔ آپ نے اس کی صفات بیان کیں کہ وہ ایسی ایسی ہے تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: أشهد أنك رسول الله "میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔”
(تفسير ابن كثير، ج: 5، ص: 8)
حافظ ابن کثیر نے اس روایت پر سکوت کیا ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بابت اس روایت کے علاوہ جو "الصحیحہ” کے حوالے سے گزری۔ اس سلسلے میں اور روایات بھی آتی ہیں لیکن وہ غیر مستند ہیں جیسا کہ آگے آئے گا۔

ایک بڑھیا اور شیطان کا ملنا اور بعض انبیاء علیہم السلام کا سلام کرنا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم براق پر جا رہے تھے کہ راستے کے ایک کنارے پر آپ نے ایک بڑھیا دیکھی۔ آپ نے پوچھا: "جبریل! یہ کیا ہے؟” جبریل علیہ السلام نے کہا: "اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ چلیے۔” پس آپ پھر جتنا اللہ کو منظور تھا چلے کہ راستے کے ایک جانب کسی چیز کو دیکھا جو آپ کو بلا رہی تھی کہ "اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! ادھر آؤ!” تو جبریل علیہ السلام نے آپ سے کہا: "اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اپنا سفر جاری رکھیں۔” پس آپ پھر جتنا اللہ کو منظور تھا چلے۔ کچھ آگے چل کر ایک مخلوق ملی اور اس نے کہا: السلام عليك يا أول، السلام عليك يا آخر، السلام عليك يا حاشر جبریل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: "اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! سلام کا جواب دیجیے!” آپ نے سلام کا جواب دیا۔ اس نے دوسری اور تیسری مرتبہ بھی اسی طرح کیا۔ یہاں تک کہ آپ بیت المقدس پہنچ گئے۔ وہاں آپ کو پانی، شراب اور دودھ پیش کیا گیا۔ آپ نے دودھ لے لیا (اور باقی دونوں کو چھوڑ دیا)۔ جبریل علیہ السلام نے آپ سے کہا: "آپ فطرت کو پہنچ گئے۔ اگر آپ پانی پی لیتے تو آپ کی امت غرق ہو جاتی اور اگر آپ شراب پیتے تو آپ اور آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔”
پھر آپ کے لیے آدم علیہ السلام سے لے کر آپ تک کے تمام انبیاء علیہم السلام کو بھیجا گیا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات ان سب کو نماز پڑھائی۔ پھر جبریل علیہ السلام نے آپ سے کہا: "وہ بڑھیا جو راستے کے ایک جانب آپ نے دیکھی تھی، پس دنیا کی عمر اتنی ہی باقی رہ گئی ہے جتنی اس بڑھیا کی عمر باقی ہے اور وہ جس کی طرف (اس کے بلانے پر) آپ مائل ہونا چاہتے تھے وہ اللہ کا دشمن (ابلیس) تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف مائل ہوں اور وہ جنھوں نے آپ کو سلام کیا تھا وہ ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام تھے۔”
یہ روایت تفسیر طبری میں بھی ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اسے امام بیہقی کی "دلائل النبوة” سے نقل کیا ہے اور پھر کہا ہے: وفي بعض الألفاظ نكارة وغرابة اس کے بعض حصوں میں نکارت اور غرابت ہے۔ یعنی دیگر مستند روایات کے مقابلے میں اس میں اچنبھے والی نادر باتیں ہیں۔ یہ گویا اس کے غیر مستند ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
(تفسیر ابن کژیت ،ج : 5 ص :9،10)
علاوہ ازیں اس میں جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کے منہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو يا أول يا آخر کہلوایا گیا ہے حالانکہ اول و آخر اللہ کی صفتیں ہیں جو قرآن کریم میں اللہ کے لیے آئی ہیں۔ یہ حصہ بھی اس کے غیر مستند ہونے کا غماز ہے۔

راستے کی مختلف منزلوں پر اتر کر نماز پڑھنا:

سنن نسائی کی درج ذیل روایت کی بابت بھی حافظ ابن کثیر نے کہا ہے: وفيها غرابة ونكارة جدا اس میں غرابت اور بہت اچنبھا پن ہے۔ اس میں ہے کہ میں جبریل علیہ السلام کے ساتھ ایک برق رفتار جانور پر سوار جا رہا تھا کہ جبریل علیہ السلام نے کہا: "اتریں اور نماز پڑھیں!” چنانچہ میں نے نماز پڑھی۔ جبریل علیہ السلام نے پوچھا: "آپ کو معلوم ہے آپ نے کہاں نماز پڑھی؟ آپ نے طیبہ (مدینہ منورہ) میں نماز پڑھی ہے اور یہی آپ کی ہجرت گاہ ہے۔”
(وہاں سے ہم چلے، پھر ایک مقام پر )جبریل علیہ السلام نے کہا: "اتریں اور نماز پڑھیں!” چنانچہ میں نے نماز پڑھی۔ جبریل علیہ السلام نے پوچھا: "آپ کو معلوم ہے آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ آپ نے طور سینا میں نماز پڑھی ہے، جہاں اللہ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا تھا۔”
(آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر چلے اور ایک مقام پر) جبریل علیہ السلام نے کہا: "اتریں اور نماز پڑھیں!” چنانچہ میں نے نماز پڑھی۔ جبریل علیہ السلام نے پوچھا: "آپ کو معلوم ہے آپ نے کہاں نماز پڑھی؟ آپ نے ”بیت اللحم“ میں نماز پڑھی جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مولد (جائے ولادت) ہے۔”
پھر میں بیت المقدس میں داخل ہو گیا۔ (اس کے بعد انبیاء علیہم السلام کی امامت اور پھر آسمانوں پر چڑھ جانے کا بیان ہے جیسے دیگر روایات میں ہے۔)
اس روایت کے اس حصے میں نکارت و غرابت ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے کہا کہ اس میں ایک راوی یزید ہے جو ابن عبد الرحمن بن ابی مالک دمشقی ہے جو اگرچہ صدوق ہے لیکن کبھی وہم لاحق ہو جاتا ہے۔ اس سے بیان کرنے والا راوی سعید بن عبد العزیز ہے، وہ بھی اگرچہ ثقہ اور امام ہے لیکن اسے آخر عمر میں اختلاط ہو گیا تھا۔ (الإسراء والمعراج)

حور عین کا مشاہدہ، قافلے کا ملنا اور اس کی علامات کا بیان:

یہ روایت ابن کثیر (ج: 5 ص: 11) میں ابن ابی حاتم کے حوالے سے ہے۔ اس میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت المقدس پہنچ کر اس جگہ پر پہنچے جسے باب محمد کہا جاتا ہے تو جبریل علیہ السلام وہاں ایک پتھر کے پاس آئے اور اس میں اپنی انگلی مار کر سوراخ کر دیا اور اس میں سواری دابہ کو باندھ دیا پھر مسجد اقصیٰ پر چڑھ گئے۔ جب دونوں مسجد کے صحن میں پہنچ گئے تو جبریل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: "کیا آپ نے اپنے رب سے حور عین دیکھنے کی بھی التجا کی؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ہاں!” تو جبریل علیہ السلام نے کہا: "تو آئیے! آپ کو ان خواتین جنت کی طرف لے چلتا ہوں، پس آپ ان کو سلام کریں۔”
وہ صخرہ کی بائیں جانب بیٹھی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں ان کے پاس گیا اور ان کو سلام کیا تو انھوں نے میرے سلام کا جواب دیا۔ میں نے ان سے پوچھا: تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: ہم خوب سیرت اور خوبصورت ہیں، نیک لوگوں کی بیویاں، وہ پاک صاف کیے ہوئے ہوں گے پھر ناپاک نہیں ہوں گے، وہ جنت ہی میں مقیم رہیں گے یہاں سے کوچ نہیں کریں گے، ہمیشہ رہیں گے انھیں موت نہیں آئے گی۔”
پھر میں وہاں سے آگیا۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ بہت سے لوگ جمع ہو گئے پھر مؤذن نے اذان دی اور نماز کی تکبیر کہی گئی۔ پس ہم صفیں بنائے کھڑے منتظر تھے کہ کون ہمیں نماز پڑھائے؟ تب جبریل علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے آگے کر دیا۔ میں نے ان کو نماز پڑھائی۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو جبریل علیہ السلام نے کہا: "اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ جانتے ہیں آپ کے پیچھے کن لوگوں نے نماز پڑھی؟” میں نے کہا: "نہیں۔” جبریل علیہ السلام نے کہا: "آپ کے پیچھے ہر اس نبی نے نماز پڑھی جسے اللہ نے مبعوث فرمایا۔”
(اس کے بعد آسمانوں پر لے جانے اور وہاں انبیاء علیہم السلام سے ملاقاتوں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ہے) پھر مجھے ساتویں آسمان سے بھی اوپر لے گئے حتیٰ کہ وہاں ایک نہر پر میں پہنچا جس پر یاقوت، موتیوں اور زبرجد کے خیمے تھے اور اس پر سبز رنگ کا پرندہ منڈلا رہا تھا۔ اتنا نفیس جو کبھی میں نے نہیں دیکھا۔ میں نے کہا: "اے جبریل! یہ پرندہ تو بہت نفیس ہے۔” جبریل علیہ السلام نے کہا: "اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ جانتے ہیں یہ کون سی نہر ہے؟” میں نے کہا: "نہیں۔” جبریل علیہ السلام نے کہا: "یہ وہ کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے۔ اس میں آبخورے سونے چاندی کے تھے۔ اس کا بہاؤ یاقوت اور زمرد کی کنکریوں پر تھا۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید تھا۔” میں نے اس کے آبخوروں میں سے ایک سونے کا آبخورہ لیا اور اس میں سے ایک چلو پانی لیا اور پیا تو وہ شہد سے زیادہ میٹھا اور کستوری سے زیادہ خوشبودار تھا۔ پھر مجھے لے جایا گیا یہاں تک کہ میں اس خاص درخت کے پاس آگیا۔ وہاں مجھے ہر قسم کے رنگوں والی بدلی نے ڈھانپ لیا۔ پس جبریل علیہ السلام نے مجھے چھوڑ دیا اور میں بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہو گیا، تو اللہ نے مجھ سے فرمایا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم!” میں نے اس دن ہی سے جس دن میں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، میں نے آپ پر اور آپ کی امت پر پچاس نمازیں فرض کر دی تھیں۔ پس آپ اور آپ کی امت اس کا اہتمام کریں۔ “
پھر وہ بدلی مجھ سے ہٹ گئی اور جبریل علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں تیزی سے واپس پلٹا۔ (اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات اور ان کے مشورے سے تخفیف صلاۃ کا ذکر ہے۔) پھر آپ نیچے اترے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے کہا: "جس آسمان پر جو بھی مجھے ملا، اس نے ہنس کر میرا استقبال کیا اور خوش آمدید کہا سوائے ایک آدمی کے، میں نے اسے سلام کیا، اس نے سلام کا جواب دیا، مجھے خوش آمدید کہا لیکن مسکرا کر استقبال نہیں کیا۔”
جبریل علیہ السلام نے کہا: "اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! یہ جہنم کا داروغہ (مالک) ہے، یہ جب سے پیدا ہوا ہے، ہنسا نہیں۔ اگر یہ کسی کے سامنے ہنسا ہوتا تو یقیناً آپ کے سامنے بھی ہنستا۔”
پھر آپ واپس (مکہ) آنے کے لیے براق پر سوار ہوئے۔ راستے میں آپ قریش کے ایک قافلے کے پاس سے گزرے جو غلہ لادے جا رہا تھا۔ ان میں سے ایک اونٹ تھا جس پر دو بورے لدے ہوئے تھے۔ ایک بورا سیاہ اور ایک سفید تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قافلے کے پاس سے گزرے تو وہ برک گیا اور چکرا گیا اور اونٹ گر کر زخمی ہو گیا۔ آپ مکہ پہنچ گئے اور صبح لوگوں کو رات کی سیر کی بابت بتلایا۔ پس جب مشرکین نے آپ کی بات سنی تو بھاگے بھاگے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہا: "آپ کو اپنے ساتھی (پیغمبر ) کے بارے میں کچھ پتا ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ آج کی رات ایک مہینے کی مسافت کا سفر کر کے رات کی رات ہی میں واپس آگیا ہے۔”
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: "اگر یہ بات انھوں نے کہی ہے تو یقیناً سچ کہا اور ہم تو ان کی اس سے بھی بڑھ کر باتوں کی تصدیق کرتے ہیں جو عقل میں نہیں آتیں اور ہم تو ان کو ان کی آسمانی خبروں میں بھی سچا جانتے ہیں۔”
(وہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے) اور آپ سے کہا: "آپ جو کچھ کہتے ہیں اس کی نشانی کیا ہے؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میں قریش کے ایک قافلے کے پاس سے گزرا اور وہ فلاں فلاں جگہ پر تھا، پس وہ قافلہ ہماری وجہ سے بدک گیا اور چکرا گیا اور اس میں ایک اونٹ تھا جس پر دو بورے لدے ہوئے تھے، ایک سیاہ بورا اور دوسرا سفید بورا۔ پس وہ اونٹ گر گیا اور زخمی ہو گیا۔”
جب قافلہ آیا تو انھوں نے قافلہ والوں سے پوچھا۔ انھوں نے اسی طرح بیان کیا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتلایا تھا اور اسی وجہ سے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ”صدیق“ کے نام سے پکارا جانے لگا۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اسے نقل کر کے لکھتے ہیں: هذا سياق فيه غرائب عجيبة "اس روایت میں بہت عجیب نادر چیزیں ہیں۔”
(تفسیر ابن کثیر ج 5، ص: 11 – 13)
شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کی اس رائے کو نقل کر کے لکھا ہے کہ اس میں ایک راوی خالد بن یزید ہے۔ وہی ساری خرابی کی بنیاد ہے کیونکہ وہ فقیہ ہونے کے باوجود ضعیف ہے۔ (الإسراء والمعراج، ص: 14) تاہم اس روایت میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا کہ ہم تو اس سے بھی بڑی باتوں میں ان کی تصدیق کرتے ہیں صحیح ہے کیونکہ یہ بات دوسری صحیح روایات سے ثابت ہے جیسا کہ پہلے وجہ تسمیہ صدیق میں روایت گزر چکی ہے۔

دلائل النبوة کی ایک مفصل روایت کی تلخیص:

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے امام بیہقی رحمہ اللہ کی "دلائل النبوة” سے ایک غیر مستند اور مفصل حدیث نقل کی ہے، اس میں بھی عجائبات کی کثرت ہے۔ ہم اس کے بھی صرف وہ حصے ہی نقل کرتے ہیں جن میں غرابت و نکارت ہے۔

تین داعیان ضلالت:

اس میں براق کی کچھ صفات بیان کرنے کے بعد ہے کہ میں اس پر سوار ہو کر چلا ہی تھا کہ میری دائیں جانب کسی نے آواز دی: "اے محمد ! میری طرف دیکھ، میں تجھ سے کچھ پوچھوں گا۔” لیکن میں نے جواب نہ دیا، نہ ٹھہرا۔ پھر کچھ اور آگے چلا تو بائیں جانب سے آواز آئی لیکن میں وہاں بھی نہ ٹھہرا، نہ دیکھا، نہ جواب دیا۔ پھر کچھ آگے گیا کہ ایک عورت دنیا بھر کی زینت کیے ہوئے، باہیں کھولے ہوئے کھڑی تھی، اس نے مجھے اسی طرح آواز دی کہ میں کچھ دریافت کرنا چاہتی ہوں لیکن میں نے اس کی طرف التفات کیا نہ ٹھہرا، حتیٰ کہ میں بیت المقدس پہنچ گیا۔ (پھر سواری کے باندھنے اور دودھ اور شراب کے پیالے پیش کرنے وغیرہ کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ہے کہ) جبریل علیہ السلام نے کہا: "آپ کے چہرے پر فکر کے آثار کیوں ہیں؟” تو میں نے تینوں گزشتہ واقعات بیان کیے۔ جبریل نے کہا:
➊ "دائیں جانب سے بلانے والا یہودیت کا داعی تھا۔ اگر آپ اس کا جواب دیتے یا وہاں ٹھہر جاتے تو آپ کی امت یہودی ہو جاتی۔
➋ بائیں جانب سے پکارنے والا عیسائی تھا۔ اگر آپ اس کا جواب دیتے تو آپ کی امت عیسائی ہو جاتی۔
➌ باہیں کھولے اور زیب و زینت سے آراستہ عورت دنیا تھی۔ اگر آپ اس کو جواب دیتے یا اس کے پاس ٹھہر جاتے تو آپ کی امت آخرت کے مقابلے میں دنیا کو پسند کر لیتی۔”
پھر دونوں کے بیت المقدس میں داخل ہونے اور دونوں کے دو دو رکعت پڑھنے کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ہے:

حضرت آدم علیہ السلام کو اصلی حالت میں دیکھنا:

پھر میرے پاس وہ سیڑھی لائی گئی جس پر انسانوں کی روحیں چڑھتی ہیں۔ اوپر چڑھنے کے بعد آسمان دنیا کا سردار فرشتہ دیکھا جس کا نام اسماعیل ہے۔ اس کے سامنے ستر ہزار فرشتے ہیں۔ ہر فرشتے کے ساتھ ایک ایک لاکھ فرشتوں کا لشکر ہے۔ یہاں آسمان کا دروازہ کھلوانے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو اسی حالت میں دیکھا جو ان کی اس وقت تھی جب اللہ نے ان کو پیدا کیا تھا، ان کی اصلی صورت میں۔ ان پر ان کی اولاد میں سے مومنوں کی روحیں پیش کی جاتی تھیں۔ اور وہ کہتے تھے: "پاک روح، پاک جان، اس کو عليين میں رکھ دو۔” پھر ان پر ان کی اولاد میں سے اللہ کے نافرمانوں کی روحیں پیش کی جاتیں تو وہ کہتے: "ناپاک روح، ناپاک جان، اس کو سجین میں رکھ دو۔”

حرام خوروں کا مشاہدہ:

میں وہاں سے کچھ دور چلا تو دیکھا کہ دستر خوان بچھا ہوا ہے۔ اس پر نفیس گوشت ہے لیکن اس کے قریب کوئی نہیں جاتا۔ ایک دوسرا دستر خوان ہے جس پر سخت بدبودار گوشت رکھا ہوا ہے۔ اس کے پاس لوگ ہیں وہ اسے کھا رہے ہیں۔ میں نے کہا: "اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟” جبریل علیہ السلام نے کہا: "یہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جو حلال چھوڑ کر حرام کو اختیار کرتے ہیں۔”

قرآن مجید میں بیان کردہ سود خوروں کے انجام بد کا مشاہدہ:

میں پھر کچھ آگے چلا تو دیکھا، کچھ لوگ ہیں جن کے پیٹ گھڑوں کی طرح بڑے بڑے ہیں۔ جب بھی ان میں سے کوئی کھڑا ہو جاتا تو گر پڑتا اور کہتا ہے: "اے اللہ! قیامت قائم نہ کرنا۔” آل فرعون کے خوفناک جانور انھیں روندتے ہیں۔ میں نے انھیں اللہ کی طرف آہ و زاری کرتے ہوئے سنا۔ میں نے کہا: "اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟” جبریل علیہ السلام نے جواب دیا: "یہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے ہیں۔ یہ نہیں کھڑے ہوتے مگر ایسے جن کو شیطان نے چھو کر بدحواس کر دیا ہو۔”

یتیموں کا مال کھانے والے:

میں پھر چلا، تو دیکھا، کچھ لوگ ہیں جن کے ہونٹ اونٹوں کے ہونٹوں جیسے ہیں۔ ان کے منہ کو پھاڑ کر ان میں گدھوں کا گوشت ڈالا جاتا ہے، پھر وہ ان کے نچلے حصوں سے نکل جاتا ہے۔ میں نے ان کو بھی اللہ کی طرف آہ و زاری کرتے ہوئے سنا۔
میں نے پوچھا: "اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟” جبریل علیہ السلام نے جواب دیا: "یہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال ظلماً کھایا کرتے ہیں۔ یہ دراصل جہنم کی آگ ہے جسے کھا کر وہ اپنے پیٹوں میں ڈالتے ہیں۔ وہ عنقریب جہنم میں داخل ہوں گے۔”

بدکار عورتیں:

میں پھر کچھ چلا تو دیکھا، کچھ عورتیں ہیں جو پستانوں سے لٹکی ہوئی ہیں۔ میں نے انھیں بھی اللہ کی طرف فریاد کرتے ہوئے سنا۔ میں نے پوچھا: "اے جبریل! یہ عورتیں کون ہیں؟” جبریل علیہ السلام نے جواب دیا: "یہ آپ کی امت کی زنا کار عورتیں ہیں۔”

عیب جو اور لعن طعن کرنے والے:

میں پھر چلا تو دیکھا، کچھ لوگ ہیں جن کے پہلوؤں سے گوشت کاٹ کاٹ کر ان کو زبردستی کھلایا جا رہا ہے اور ان کو کہا جا رہا ہے کہ کھاؤ جیسے تم (دنیا میں) اپنے بھائی کا گوشت کھاتے تھے۔ میں نے پوچھا: "اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟” جبریل علیہ السلام نے جواب دیا: "یہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جو عیب جو اور لعن طعن کرنے والے تھے۔”
اس کے بعد روایت میں دوسرے آسمان سے ساتویں آسمان تک اور ان میں ملنے والے انبیاء علیہم السلام کا پھر سدرة المنتہیٰ اور اس کے بعض عجائبات کا ذکر ہے۔ ان سب میں بھی عجیب و غریب چیزوں کا بیان ہے۔ اس کے بعد ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے لیے جنت میں لونڈی:

پھر مجھے جنت میں لے جایا گیا وہاں میرے سامنے ایک جاریہ (نوجوان بچی یا لونڈی) آئی۔ میں نے پوچھا: "تو کس کی ہے؟” اس نے کہا: "میں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے لیے ہوں۔”

جہنم اور اس کی شدت وحدت کا مشاہدہ:

پھر مجھے جہنم دکھائی گئی وہ اللہ کے غضب، اس کی زجر و توبیخ اور اس کی سزا کا مظہر تھی۔ اگر اس میں پتھر اور لوہا بھی پھینکا جائے تو اسے بھی وہ کھا جائے۔
روایت میں اس کے بعد پھر دوبارہ سدرة المنتہیٰ آنے، وہاں نمازوں کے فرض ہونے اور پھر ان میں تخفیف کا ذکر ہے اور معراج سے واپس آنے کے بعد صبح ابو جہل سے معراج کے ذکر اور ان کے سامنے راستے میں ان کے قافلے کے ملنے اور اس کی علامات کا، پھر بیت المقدس کی بابت ان کے سوالات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوابات کا بیان ہے۔
اس روایت کی بیان کردہ تفصیلات میں جو غرابت و نکارت ہے، محتاج وضاحت نہیں۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ اس کا راوی ابو ہارون العبدی ہے جس کا نام عمارہ بن جوین ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
وهو مضعف عند الأئمة "محدثین کے نزدیک وہ ضعیف ہے۔”
(تفسیر ابن کثیر: 20/5 – 23)
بنا بریں مذکورہ تمام واقعات غیر مستند ہیں۔

ایک اور روایت کے عجائب و غرائب:

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے امام ابن جریر طبری کے حوالے سے ایک اور طویل روایت نقل کی ہے اور اس کی بابت بھی کہا ہے: وفيها غرابة اس میں انوکھا پن ہے یعنی ایسی باتیں ہیں جو ثقہ راویوں کی روایات میں نہیں ہیں کیونکہ اس روایت کا ایک راوی ابو جعفر رازی ہے جو ضعیف ہے جیسا کہ اس روایت کے آخر میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے لکھا ہے جسے ہم بھی آخر میں نقل کریں گے۔ بہر حال اس روایت سے بھی کچھ دلچسپ واقعات ملاحظہ فرمائیں۔

مجاہدین کے اجر و ثواب کی تمثیل:

اس میں براق کی جگہ گھوڑے کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ گھوڑے پر سوار ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبریل علیہ السلام کے ساتھ چلے۔ راستے میں کچھ ایسے لوگ دیکھے کہ ایک روز کاشت کرتے ہیں اور ایک ہی روز میں کھیتی تیار ہو جاتی ہے جسے وہ کاٹ لیتے ہیں۔ وہ جب بھی فصل کاٹتے ہیں تو وہ پھر اسی طرح ہو جاتی ہے جیسے وہ پہلے ہوتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟” جبریل علیہ السلام نے کہا: "یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں۔ ان کی نیکیاں سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہیں۔ یہ جو بھی خرچ کریں، اللہ تعالیٰ ان کو اس کا نعم البدل دیتا ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔”

فرض نمازوں کو گراں سمجھنے والے:

پھر آپ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جن کے سر پتھروں سے کچلے جا رہے تھے لیکن کچلے جانے کے بعد ان کے سر پہلے کی طرح ہو جاتے اور ان کے ساتھ یہ عمل مسلسل کیا جا رہا تھا، ایک لمحے کے لیے بھی توقف نہ ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟” جبریل علیہ السلام نے کہا: "یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر فرض نمازوں سے گراں (بھاری) ہو جاتے تھے۔”

زکاۃ نہ نکالنے والے:

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جن کے آگے پیچھے چیتھڑے (کپڑے کے ٹکڑے) تھے۔ وہ اونٹوں اور جانوروں کی طرح چرتے چگتے تھے۔ وہ کانٹے دار درخت، تھوہر (زقوم ) اور جہنم کے انگارے اور پتھر کھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟” جبریل علیہ السلام نے کہا: "یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کی زکاۃ نہیں نکالتے تھے۔ اور اللہ نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا، اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔”

ہرجائی مردوں اور عورتوں کا انجام:

پھر آپ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جن کے سامنے ایک ہانڈی میں پکا ہوا گوشت ہے اور ایک دوسری ہانڈی میں کچا اور سڑا ہوا گوشت ہے۔ یہ وہ کچا سڑا ہوا گوشت کھا رہے ہیں اور عمدہ پکے ہوئے گوشت سے گریز کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟” جبریل علیہ السلام نے کہا: "یہ آپ کی امت کے وہ مرد ہیں جن کے پاس حلال، پاکیزہ بیویاں تھیں لیکن یہ ان کو چھوڑ کر ناپاک عورتوں کے پاس رات گزارتے تھے۔ اور وہ عورتیں ہیں جو پاک اور حلال مردوں کے حبالہ عقد میں تھیں لیکن یہ ان کو چھوڑ کر ناپاک مردوں کے پاس رات گزارتی تھیں۔”

راستوں میں بیٹھ کر لوگوں کو تنگ کرنے والوں کی مثال:

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر راستے میں پڑی ہوئی ایک لکڑی کے پاس سے گزرے۔ اس کے پاس سے جو بھی کپڑا گزرتا تو یہ اس کپڑے کو پھاڑ دیتی، جو چیز بھی گزرتی اسے زخمی کر دیتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "جبریل! یہ کیا ہے؟” جبریل علیہ السلام نے کہا: "یہ آپ کی امت میں سے ان لوگوں کی مثال ہے جو راستے پر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کے راستے کاٹتے (یعنی انھیں تنگ کرتے ) ہیں ۔”

حریص خائن کی مثال:

پھر آپ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جس نے لکڑیوں کا ایک بڑا گٹھا جمع کیا ہوا ہے جسے وہ اٹھا نہیں سکتا لیکن وہ اس میں لکڑیوں کا اضافہ کرتا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "جبریل! یہ کون ہے؟” جبریل علیہ السلام نے کہا: "یہ آپ کی امت کا وہ آدمی ہے جس کے ذمے لوگوں کی اتنی امانتیں ہیں کہ وہ انھیں ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا لیکن اس کی خواہش یہ ہے کہ وہ مزید بوجھ لادے۔”

فتنہ پرداز خطیب:

پھر آپ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جن کی زبانیں اور منہ لوہے کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے اور کاٹے جانے کے بعد پھر اسی طرح ہو جاتے، اور یہ عمل اسی طرح مسلسل جاری رہتا ہے، ایک لمحے کے لیے بھی توقف نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟” جبریل علیہ السلام نے کہا: "یہ فتنہ پرداز خطیب ہیں۔”

بے سوچے سمجھے بولنے والے کی مثال:

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے پتھر کے پاس آئے جو چھوٹا سا تھا۔ اس سے ایک بڑا بیل نکلتا تھا۔ وہ بیل اس پتھر کے اس سوراخ میں واپس جانے کی کوشش کرتا تھا جہاں سے وہ نکلا تھا لیکن وہ ایسا کر نہیں پا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "جبریل! یہ کیا ہے؟” جبریل علیہ السلام نے کہا: "یہ وہ آدمی ہے جو بڑا بول بولتا ہے، پھر اس پر نادم ہوتا ہے (چاہتا ہے کہ وہ بول واپس ہو جائے لیکن وہ) اسے واپس لوٹانے کی طاقت نہیں رکھتا۔”

جنت کی صدا اور پکار:

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک وادی میں آئے جہاں آپ نے پاکیزہ ٹھنڈی ہوا محسوس کی اور کستوری کی خوشبو بھی اور ایک آواز بھی سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "جبریل! یہ ٹھنڈی پاکیزہ ہوا، کستوری کی خوشبو اور آواز کیا ہے؟” جبریل علیہ السلام نے کہا: "یہ جنت کی آواز ہے۔ یہ کہتی ہے: یا اللہ! مجھ سے اپنا وعدہ پورا کر! میرے بالاخانے، ریشم، موتی، مونگے، سونا چاندی، جام کٹورے، شہد، پانی، دودھ، شراب وغیرہ نعمتیں بہت زیادہ ہو گئی ہیں۔” اسے اللہ تعالیٰ نے جواب دیا: "ہر مسلمان مرد اور مسلمان عورت، مومن مرد اور مومن عورت اور جو مجھ پر اور میرے رسولوں پر ایمان لایا، نیک عمل کیے، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا، نہ کسی کو میرا ہمسر بنایا: یہ تیرے مہمان ہوں گے، تیرے ہی پاس آئیں گے۔ سن! جس کے دل میں میرا ڈر ہے وہ ہر خوف سے محفوظ ہے۔ جو مجھ سے سوال کرتا ہے وہ محروم نہیں رہتا۔ جو مجھے قرض دیتا ہے میں اسے بدلہ دیتا ہوں۔ جو مجھ پر توکل کرتا ہے میں اسے کفایت کرتا ہوں۔ میں سچا معبود ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میرے وعدے خلاف نہیں ہوتے، مومن یقیناً فلاح یاب ہو گئے۔ بہت بابرکت ہے وہ جو بہترین خالق ہے۔” یہ سن کر جنت نے کہا: "بس میں راضی ہو گئی۔”

جہنم کی صدا اور پکار:

پھر آپ ایک اور وادی پر آئے، جہاں نہایت بری اور بھیانک مکر وہ آوازیں آ رہی تھیں اور سخت بدبو بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بابت جبریل علیہ السلام سے پوچھا۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: "یہ جہنم کی آوازیں ہیں۔ وہ کہہ رہی ہے: یا اللہ! مجھ سے اپنا وعدہ پورا کر جو تو نے مجھ سے کیا ہے۔ میرے طوق و زنجیر، میرے شعلے اور میرا گرماؤ ، میرا تھور، لہو اور پیپ، میرے عذاب اور سزا کے سامان بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔ میرا گہراؤ بہت زیادہ ہے۔ میری آگ بہت تیز ہے، پس تو مجھے وہ دے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔” اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "ہر مشرک و مشرکہ اور کافر و کافرہ، خبیث مرد و عورت اور ہر سرکش جو یوم حساب پر ایمان نہیں رکھتا یہ سب تیرے لیے ہیں۔” یہ سن کر جہنم نے کہا: "میں راضی ہو گئی۔”

انبیاء علیہ السلام کی مجلس مکالمہ اور اللہ سے ہم کلامی:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر چلے، حتیٰ کہ بیت المقدس پہنچ گئے۔ یہاں آپ نے گھوڑے کو صخرہ کے ساتھ باندھنے کے بعد فرشتوں کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات انبیاء علیہم السلام کی روحوں کے ساتھ ہوئی اور (گویا) ایک استقبالیہ مجلس منعقد ہوئی جس میں ہر جلیل القدر پیغمبر نے اپنی اپنی امتیازی خصوصیات بیان کیں جن سے اللہ نے ان کو نوازا تھا۔ سب سے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا شرف و امتیاز بیان فرمایا، پھر پانی، دودھ اور شراب کے تین سر بہ مہر برتنوں کا ذکر ہے۔ اس کے بعد آسمان پر چڑھ جانے اور وہاں انبیاء علیہم السلام سے ملاقاتوں کا بیان ہے۔ اس میں بھی بہت سی عجیب و غریب چیزیں ہیں جو مستند روایات میں نہیں ہیں۔ اسی طرح پھر سدرة المنتہیٰ میں پہنچنے اور یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ سے ہم کلام ہونے کا ذکر ہے۔ اور یہ تفصیل دلچسپ بھی ہے اور مستند روایات سے یکسر مختلف بھی۔ اور آخر میں پانچ نمازوں کے فرض ہونے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورے سے اس میں تخفیف کا بیان ہے۔
یہ روایت، جیسا کہ شروع میں بھی اشارہ کیا گیا ہے، ضعیف ہے۔ اس کا انداز بیان اور اس میں بیان کردہ تفصیلات بھی اس کے غیر مستند ہونے کی غماز ہیں۔ اسی لیے حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس روایت کے آخر میں اس کے راوی کی بابت لکھتے ہیں:
میں کہتا ہوں: ابو جعفر الرازی، اس کے بارے میں حافظ ابو زرعہ نے کہا: يهم فى الحديث كثيرا ”وہ حدیث میں بہت وہم کرتا ہے۔“ ان کے علاوہ اور لوگوں نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور بعض نے اس کی توثیق کی ہے اور زیادہ واضح بات یہ ہے کہ وہ برے حافظے والا ہے۔ پس اس کی وہ روایات جن میں وہ متفرد ہے، مشکوک ہیں، اور اس کی اس حدیث کے بعض الفاظ میں بھی غرابت اور سخت نکارت ہے۔
(تفسیر ابن کثیر : 36/5)

سود خوروں کی ایک اور مثال:

سنن ابن ماجہ میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "معراج والی رات میں ایسے لوگوں کے پاس آیا جن کے پیٹ گھڑوں جیسے تھے۔ ان میں سانپ تھے جو ان کے پیٹوں کے باہر سے نظر آتے تھے۔ میں نے پوچھا: جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ سود خور ہیں۔
(ضعیف سنن ابن ماجہ، ص: 175، ضعیف الجامع الصغیر رقم: 133 – كلاهما للألباني)

صدقے کے مقابلے میں قرض کی فضیلت:

سنن ابن ماجہ ہی کی ایک اور ضعیف روایت میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "شب معراج کو میں نے جنت کے دروازے پر لکھا ہوا دیکھا، صدقے کا اجر دس گنا ہے اور قرض کا اجر اٹھارہ گنا۔” میں نے جبریل علیہ السلام سے کہا: "قرض کا اجر صدقے سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ کیا بات ہے؟” جبریل علیہ السلام نے کہا: "اس کی وجہ یہ ہے کہ سائل، ہوتے ہوئے بھی، سوال کر لیتا ہے اور قرض طلب کرنے والا اس وقت قرض مانگتا ہے جب وہ حاجت مند ہوتا ہے، اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا، اس لیے قرض دینے کی فضیلت صدقے سے بھی زیادہ ہے۔”
شیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ضعيف جدا ”بہت کمزور روایت ہے۔ “
(ضعیف سنن ابن ماجہ، ص: 188، الأحاديث الضعيفة رقم: 3637، التعليق الرغيب: 34/2)
بہر حال مذکورہ واقعات سب غیر مستند ہیں۔ ہم نے انھیں اس لیے بیان کیا ہے کہ واعظین اور قصہ گو قسم کے خطباء ان کے بیان کرنے میں احتیاط نہیں کرتے، حالانکہ اس قسم کے غیر مستند واقعات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرنے پر جہنم کی شدید وعید وارد ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: من كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار
"جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔”
( صحيح البخاري، أحاديث الأنبياء، باب ما ذكر عن بني إسرائيل، حديث: 3461)

قصہ گوؤں کی بابت خواب میں صراحت:

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کو بھی جنھوں نے اگرچہ روایات کی استنادی حیثیت کو بھی بالعموم واضح کر دیا ہے، یہ احساس ہے کہ قصہ گوؤں نے معراج کے واقعات میں بہت کچھ اضافہ کر دیا ہے۔ اسی لیے انھوں نے ایک شخص کا خواب بھی نقل کیا ہے جس میں قصہ گوؤں کے اس طرز عمل کی نشاندہی کی گئی ہے، چنانچہ یزید بن حکیم کہتے ہیں:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو آپ سے حضرت سفیان ثوری کی بابت پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ان میں کوئی حرج نہیں۔” پھر میں نے پوچھا: آپ نے بیان فرمایا ہے کہ میں اس طرح آسمان پر گیا۔ اور معراج کی حدیث بیان کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں ٹھیک ہے۔” میں نے پھر پوچھا کہ معراج کی بابت آپ کی امت کے لوگ آپ کی طرف سے عجیب و غریب باتیں بیان کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذلك حديث القصاص "یہ قصہ گوؤں کی باتیں ہیں۔”
(تفسير ابن كثير: 24/5)
یعنی معراج کی بات تو صحیح ہے لیکن قصہ گوؤں نے اس کی تفصیلات میں جو عجیب و غریب قسم کے قصے گھڑ لیے ہیں، وہ صحیح نہیں ہیں۔ اس لیے انھیں زیب داستان کے طور پر بیان کرنا غیر صحیح طریقہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ إسراء و معراج کے صرف وہ واقعات بیان کریں جو مستند روایات میں بیان کیے گئے ہیں اور اللہ کی توفیق سے ہم نے وہ صحیح واقعات و تفصیلات اپنے اس مضمون میں بیان کر دی ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ غیر مستند واقعات بھی بیان کر دیے ہیں تا کہ ان سے اجتناب کیا جائے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے