مضمون کے اہم نکات
سوال
آپﷺ کو معراج جسمانی ہوا تھا یا روحانی؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
نبی اکرم ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ہی رات میں دو عظیم احسانات ہوئے:
➊ اسراء
➋ معراج
یہ دونوں واقعات روح مع الجسم کے ساتھ پیش آئے۔
◈ اسراء: مسجد حرام (مکہ مکرمہ) سے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) تک کا سفر۔
◈ معراج: بیت المقدس سے آسمانوں کی سیر۔
دونوں کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔
قرآن کریم سے دلیل
اسراء کا ذکر سورۃ بنی اسرائیل کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے:
﴿سُبْحَـٰنَ ٱلَّذِىٓ أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِۦ لَيْلًا مِّنَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ إِلَى ٱلْمَسْجِدِ ٱلْأَقْصَا﴾ (بنی اسرائیل: ١)
’’پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو رات ہی رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کروائی۔‘‘
✿ یہاں لفظ عبد استعمال ہوا ہے، جو جسم اور روح دونوں پر دلالت کرتا ہے، صرف روح پر نہیں۔
✿ اگر یہ محض روحانی سفر ہوتا تو قرآن یوں کہتا: ﴿سُبْحَـٰنَ ٱلَّذِىٓ أَسْرَىٰ عَبْدِهِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْأَقْصَی فی ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ﴾
✿ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ واقعہ جسمانی بھی تھا۔
احادیث سے دلائل
◈ صحیح احادیث میں ذکر ہے کہ آپ ﷺ کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے جانے کے لیے براق نامی سواری لائی گئی جس پر آپ ﷺ سوار ہوئے۔
▪ اگر یہ محض روحانی سفر ہوتا تو سواری کی ضرورت نہ ہوتی۔
◈ پھر مسجد اقصیٰ سے آسمانوں کی طرف ایک نورانی سیڑھی کے ذریعے عروج ہوا، اسی وجہ سے اسے معراج کہا جاتا ہے کیونکہ معراج کا مطلب ہی سیڑھی ہے۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں آیات و احادیث کو جمع کر کے وضاحت کی ہے کہ یہ واقعہ جسم اور روح دونوں کے ساتھ پیش آیا۔
آسمانوں پر منازل
◈ ہر آسمان پر حضرت جبریل علیہ السلام دروازہ کھلواتے تھے۔
◈ وہاں کے خازن یا دروازہ بان آپ ﷺ کے بارے میں سوال کرتے، جبریل علیہ السلام جواب دیتے، پھر دروازہ کھلتا۔
◈ یہ سب دلائل واضح کرتے ہیں کہ یہ جسمانی سفر تھا، کیونکہ خواب یا روحانی تجربے میں ایسی تفصیلات نہیں ہوتیں۔
قلب مبارک کا شق صدر
◈ احادیث میں ذکر ہے کہ جبریل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو نیند سے جگایا۔
◈ زمزم کے پاس لے گئے، آپ ﷺ کا دل نکال کر زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اس میں ایمان و حکمت بھر دی اور دوبارہ رکھ دیا۔
◈ پھر براق پر سوار کر کے لے جایا گیا۔
◈ اگر یہ محض روحانی معاملہ ہوتا تو دل نکالنے، دھونے اور بھرنے کی ضرورت نہ تھی۔
سورۃ النجم سے معراج کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ ﴿١٣﴾ عِندَ سِدْرَةِ ٱلْمُنتَهَىٰ ﴿١٤﴾ عِندَهَا جَنَّةُ ٱلْمَأْوَىٰٓ ﴿١٥﴾ إِذْ يَغْشَى ٱلسِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ ﴿١٦﴾ مَا زَاغَ ٱلْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ ﴿١٧﴾ (النجم: ١٣ تا ١٧)
یعنی نبی کریم ﷺ نے دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہی کے قریب جبریل علیہ السلام کو دیکھا۔ یہ مقام جنت المأویٰ کے پاس ہے۔ آپ ﷺ نے وہاں اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کیا۔ اس وقت آپ ﷺ کی نگاہ نہ حد سے بڑھی اور نہ ہی سیدھے راستے سے ہٹی۔
✿ اگر یہ محض روحانی یا خواب کا معاملہ ہوتا تو اوپر چڑھنے، اترنے، نگاہ کی حدود پر قائم رہنے کا ذکر نہ ہوتا۔
فرق بین خواب اور معراج
◈ نبی کریم ﷺ کو خواب میں بھی کئی مشاہدات دکھائے گئے اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا۔
◈ لیکن اس سفر کے بارے میں خواب یا روحانی تجربہ کہنے کی بجائے اوپر چڑھنے اور اترنے کا ذکر فرمایا۔
◈ عقلِ سلیم رکھنے والا شخص دونوں میں فرق آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔
کفار کا اعتراض
◈ اگر یہ معاملہ محض خواب یا روحانی ہوتا تو کفار اعتراض نہ کرتے۔
◈ انہوں نے کہا: "ہمیں بیت المقدس جانے میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں، اور تم ایک رات میں وہاں جا کر واپس آگئے؟”
◈ یہ اعتراض جسمانی سفر پر ہی ہو سکتا تھا۔
◈ اگر خواب کا واقعہ ہوتا تو نبی کریم ﷺ فرماتے: "میں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ جسم کے ساتھ گیا تھا، بلکہ یہ خواب تھا۔” مگر آپ ﷺ نے ایسا نہیں فرمایا۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایمان
◈ جب کفار نے یہ واقعہ بطور اعتراض حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے فرمایا:
“اگر نبی ﷺ نے کہا ہے تو بالکل سچ کہا ہے، یقینا آپ ﷺ نے یہ سفر کیا ہے۔”
◈ اگر یہ محض خواب ہوتا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بات کو یوں بیان کرتے کہ یہ تو روحانی یا خواب کا معاملہ ہے۔
◈ اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ جسمانی سفر تھا۔
خلاصہ
◈ معراج جسم اور روح دونوں کے ساتھ ہوا۔
◈ قرآن و حدیث کے دلائل اور صحابہ کرام کے ایمان اس بات پر دلالت کرتے ہیں۔
◈ کفار کے اعتراضات بھی اسی بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ خواب یا روحانی تجربہ نہیں بلکہ حقیقت میں جسمانی سفر تھا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب