معجزه شق قمر
ارشاد باری تعالی ہے:
(اقتربت الساعة وانشق القمره وإن تروا اية يعرضوا ويقولوا سحر مستمره وكذبوا واتبعوا أهواءهم وكل امر مستقر)
قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا اور اگر وہ (کافر) کوئی نشانی (معجزہ) دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ تو چلتا ہوا جادو ہے اور انھوں نے (اس معجزے کو بھی ) جھٹلا دیا اور اپنی خواہش کی پیروی کی اور ہر کام انجام کو پہنچنے والا ہے۔
(القمر: ۳۱)
◈ قیامت کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے۔ آپ نے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملایا۔
(دیکھئے صحیح بخاری:۴۹۳۶ اورصحیح مسلم: ۲۲۵۰ مفہوم)
◈رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد معجزات کا ذکر احادیث صحیحہ میں موجود ہے، ان میں سے ایک معجزہ شق قمر ہے جس کا ذکر قرآن کی مذکورہ آیات میں کیا گیا ہے۔
◈ معجزہ شق قمر کی روایات سیدنا انس بن مالک، جبیر بن مطعم ، حذیفہ بن الیمان ، عبدالله بن عباس عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن مسعود رضی الله عنه وغیرہ سے مروی ہیں۔ اس معجزے کی احادیث کو حافظ ابن کثیر نے متواتر قرار دیا ہے۔
دیکھئے تفسیر ابن کثیر (۱۲۸۹/۱۳ نسخه محققه)
◈ سیدنا انس رضی الله عنه سے روایت ہے کہ اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نشانی (معجزہ) کا مطالبہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کے دو ٹکڑے کر کے دکھا دئیے۔ یہاں تک کہ انھوں نے حرا ( پہاڑ ) کو ان دوٹکڑوں کے درمیان دیکھا۔
(صحیح بخاری: ۳۸۶۸ هیچ مسلم :۲۸۰۲)
بعض الناس کا مذکورہ روایت کو مرسل صحابی کہ کر ٹھکرانا باطل ہے کیونکہ مرسل صحابی کے حجت ہونے میں محدثین کا اتفاق ہے، کوئی اختلاف نہیں ہے۔
◈ صحیح احادیث اور معجزات کا انکار کرنے والے اپنی خود ساختہ خواہشات کے غلام ہیں۔ ہر اچھے اور شنیع فعل کا فیصلہ عنقریت ہونے والا ہے۔