مظلوم کی بددعا سے بچو
➊ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف روانہ فرمایا اور انہیں یہ نصیحت کی کہ :
اتق دعوة المظلوم فإنه ليس بينها وبين الله حجاب
”مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ بے شک اس کے درمیان اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ۔“
[بخارى: 1496 ، كتاب الزكاة: باب أخذ الصدقة من الأغنياء وترد فى الفقراء حيث كانوا ، مسلم: 19 ، ابو داود: 1584 ، نسائي: 2/5 ، ترمذي: 625]
➋ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاثة لا ترد دعوتهم: الصائم حتى يفطر ، والإمام العادل ، ودعوة المظلوم يرفعها الله فوق الغمام ويفتح لها ابواب السماء ، ويقول الرب: وعزتي لأنصرنك ولو بعد حين
”تین بندے ایسے ہیں جن کی دعا رد نہیں کی جاتی: روزے دار کی دعا حتی کہ وہ روزہ افطار کر لے ، عادل حکمران کی دعا ، اور مظلوم کی دعا ، اللہ تعالیٰ اسے بادلوں کے اوپر اٹھاتے ہیں اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیتے ہیں اور پھر فرماتے ہیں کہ میری عزت کی قسم ! میں تمہاری ضرور مدد کروں گا اگرچہ کچھ مدت کے بعد ہی ۔“
[احمد: 445/2 ، ترمذي: 3598 ، ابن ماجة: 1752 ، ابن خزيمة: 1901 ، ابن حبان فى صحيحه: 3419 ۔ بزار في كشف الأستار: 3139]
➌ ایک روایت میں یہ لفظ ہیں کہ :
ثلاث دعوات لا شك فى إجابتهن ، دعوة المظلوم ، ودعوة المسافر ، و دعوة الوالد على الولد
”تین دعائیں ایسی ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: مظلوم کی دعا ، مسافر کی دعا اور والد کی اپنی اولاد کے لیے دعا ۔“
[حسن لغيره: صحيح الترغيب: 2226 ، كتاب القضاء: باب الترهيب من الظلم ودعاء المظلوم وخذله ، ترمذي: 3448]
➍ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اتقوا دعوة المظلوم فإنها تصعد إلى السماء كانها شرارة
”مظلوم کی دعا سے بچو کیونکہ بے شک یہ اس طرح آسمان کی طرف چڑھتی ہے گویا کہ ایک چنگاری ہو ۔“
[صحيح: صحيح الترغيب: 2228 ، كتاب القضاء: باب الترهيب من الظلم ودعاء المظلوم وخذله ، حاكم: 29/1]
➎ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
دعوة المظلوم مستجابة ، وإن كان فـاجـرا ، فـفجوره على نفسه
”مظلوم کی دعا قبول کی گئی ہے ، اگرچہ گناہ گار ہی کیوں نہ ہو اور اس کا گناہ اس کے اپنے نفس پر ہے ۔“
[حسن لغيره: صحيح الترغيب: 2229 ، كتاب القضاء: باب الترهيب من الظلم ودعاء المظلوم وخذله ، احمد: 367/2]
➏ ابوعبد الله اسدی سے روایت ہے کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
دعوة المظلوم وإن كان كافرا ، ليس دونها حجاب
”مظلوم کی دعا خواہ وہ کافر ہی ہو اس کے درمیان (اور اللہ کے درمیان ) کوئی پردہ نہیں ہے ۔“
[حسن لغيره: صحيح الترغيب: 2231 ، كتاب القضاء: باب الترهيب من الظلم ودعاء المظلوم وخذله ، احمد: 153/3]
➐ حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاثة تستجاب دعوتهم: الـوالـد ، والمسافر والمظلوم
”تین بندے ایسے ہیں جن کی دعا قبول کی جاتی ہے ۔ والد ، مسافر اور مظلوم ۔“
[حسن لغيره: صحيح الترغيب: 2227 ، كتاب القضاء: باب الترهيب من الظلم ودعاء المظلوم وخذله ، رواه الطبراني]