مطلب پرستی کا طوفان اور خود اعتمادی کی جڑیں
تحریر: قاری اسامہ بن عبدالسلام

ہمارا معاشرہ بظاہر رشتوں، تعلقات، خیر خواہی اور اخلاقیات کے بندھنوں میں جکڑا ہوا نظر آتا ہے، لیکن حقیقت کی زمین پر جب تعلقات کا درخت طوفانوں کا سامنا کرتا ہے، تب اندازہ ہوتا ہے کہ کون اپنا ہے اور کون صرف سایہ لینے آیا تھا۔

درخت جب پھل دیتا ہے، تو اسے پانی دینے والے، اس کے گرد چکر لگانے والے، اس پر ہاتھ صاف کرنے والے بے شمار ہوتے ہیں۔ لیکن جب وہی درخت طوفان کی زد میں آتا ہے، اس کی شاخیں ٹوٹنے لگتی ہیں، پتے جھڑتے ہیں، تب سب اسے چھوڑ جاتے ہیں۔ اس وقت صرف ایک ہی شے ہوتی ہے جو اس درخت کو گرا ہونے سے بچاتی ہے — اس کی جڑیں۔

یہی جڑیں دراصل انسان کے اندر کا ایمان، حوصلہ، خود اعتمادی اور صبر ہیں۔ جب تک یہ اندرونی جڑیں مضبوط ہیں، انسان کسی بھی معاشرتی طوفان، رشتوں کی دھوکہ دہی یا دنیاوی بےوفائی سے ٹوٹتا نہیں، ڈولتا نہیں۔

آج ہمارے معاشرے کی تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ لوگ صرف مطلب کے لیے آتے ہیں۔ جب تک آپ کے پاس کچھ دینے کو ہو، لوگ خوش اخلاقی، ہمدردی اور چاہت کے لبادے میں لپٹے آپ کے گرد موجود رہتے ہیں۔ مگر جونہی آپ کی جیب خالی، آپ کا نام مدھم، یا آپ کی حالت کمزور ہو جائے، یہ "محبتیں” سرد ہو جاتی ہیں، "دوستیاں” ماند پڑ جاتی ہیں، اور "رشتے” اپنی اصل میں آ جاتے ہیں۔

ایسے میں صرف ایک ہی پناہ گاہ باقی رہ جاتی ہے: خود پر اعتماد۔

یہ اعتماد کسی بازار سے نہیں ملتا، نہ ہی کسی سوشل میڈیا پوسٹ سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ بنتا ہے درد کے تجربات سے، تنہائی کے لمحات سے، سچائی کو سہنے اور غلطی کے بعد سنبھلنے سے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس مطلب پرست، سطحی اور خود غرض معاشرے میں اپنی عزت، سکون اور مقام قائم رکھ سکیں، تو ہمیں خود کو اپنا سہارا بنانا ہو گا۔ ہمیں اپنے اندر وہ مضبوط جڑیں پیدا کرنی ہوں گی جو ہر طوفان کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ رکھ سکیں۔

یاد رکھیے، دوسرے صرف تب تک آپ کے ساتھ ہوتے ہیں جب تک آپ ان کے کسی مطلب کے لیے مفید ہوں۔ مگر آپ خود ہمیشہ اپنے ساتھ ہوتے ہیں — بس یہ یقین ہونا چاہیے۔

لہٰذا خود پر اعتماد کریں، اپنے کردار کو نکھاریں، اور اپنے اندر وہ جڑیں پیدا کریں جو آپ کو کبھی گرنے نہ دیں۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1