سوال :
کیا مصنوعی دانت لگوانے جائز ہیں یا نہیں، جیسا کہ چاندی یا سونے کے دانت لگوا لیے جاتے ہیں؟ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت مطلوب ہے۔
جواب :
اگر کسی شخص کے بیماری یا کسی اور وجہ سے دانت گر جائیں تو ان کی جگہ مصنوعی دانت لگوائے جاسکتے ہیں۔ خواہ وہ کسی اور دھات کے بنے ہوں یا سونے اور چاندی کے۔ سونا اگرچہ مرد کے لیے مطلقاً منع ہے، لیکن کسی شدید ضرورت کے تحت اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے، جیسے دانت یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو اس کی جگہ مصنوعی عضو لگایا جائے۔ زمانہ جاہلیت میں کلاب کے دن صحابی رسول عرفجہ بن اسعد بن صفوان تمیمی رضی اللہ عنہ کی ناک کٹ گئی تو انھوں نے چاندی کی ناک لگوالی، اس میں بدبو پیدا ہو گئی تو نبی مکرم صلى الله عليه وسلم نے انھیں سونے کی ناک لگوانے کا حکم دیا۔ یہ حدیث مسند احمد (342/4، 23/4، 24، ح : 19215، 20534 تا 20539) ابو داود (4232) اور ترمذی (1770) وغیرہ کتب احادیث میں بسند حسن موجود ہے۔ اس طرح حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ”الاصابہ“ میں، ابن الاثیر نے ”اسد الغابہ“ اور ابن عبد البر نے ”الاستیعاب“ میں عرفجہ رضی اللہ عنہ کے حالات میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے۔ علامہ عبد الرحمان مبارکپوری رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
وبه أباح العلماء الجواز الأنف من الذهب وكذا ربط الأسنان بالذهب
(تحفة الأحوذى 467/5)
”اس حدیث کی وجہ سے علماء نے سونے کی ناک لگوانے اور سونے کی تار کے ساتھ دانت باندھنے کو مباح قرار دیا ہے۔“
یہی بات علامہ سندھی رحمہ اللہ نے مسند احمد کی تعلیق (340/31) میں کی ہے۔ حماد بن جابر سلیمان کہتے ہیں:
رأيت المغيرة بن عبد الله قد شد أسنانه بالذهب فذكرت ذلك لإبراهيم فقال لا بأس به
”میں نے مغیرہ بن عبد اللہ کو دیکھا، انھوں نے اپنے دانت سونے کے ساتھ باندھے ہوئے تھے، یہ بات ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے ذکر ہوئی تو انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔“
(زوائد مسند احمد 23/5، ح: 20541، ابن أبي شيبة 799/8)
امام ترمذی رحمہ اللہ نے عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ کی حدیث پر یوں باب باندھا ہے:” باب ما جاء فى شد الأسنان بالذهب “(ترمذى مع تحفتہ الاحوذی 267/5) ”دانتوں کو سونے کے ساتھ باندھنے کے بارے میں۔“
امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے سنن میں باب باندھا ہے: باب فى ربط الأسنان بالذهب ”سونے کے ساتھ دانت باندھنے کا بیان۔“ امام خطابی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
ومنه إباحة استعمال اليسير من الذهب للرجال عند الضرورة كربط الأسنان به وما جرى مجراه مما لا يغني غيره فيه مجراه
(معالم السنن 122/6 مع مختصر سنن أبی داود المنذري)
”اس حدیث سے پتا چلتا ہے کہ ضرورت کے وقت مردوں کے لیے تھوڑا سا سونا استعمال کرنا مباح ہے، جیسا کہ سونے کے تار سے دانت بندھوانے اور جو اس کے قائم مقام ہوسکتی ہیں، ان اشیاء میں سے جن کے علاوہ کوئی اس میں قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔“
مذکورہ حدیث سے ان ائمہ محدثین نے یہ استدلال کیا ہے کہ جب ناک کٹ جائے، جو جسم کا حصہ ہے، تو اس کی جگہ سونے یا چاندی سے نئی ناک بنوا کر لگوائی جاسکتی ہے، اسی طرح دانت بھی اگر ٹوٹ جائیں تو سونے کے لگوائے جاسکتے ہیں، کیونکہ دانت بھی انسان کی ضرورت وحاجت ہیں۔ ایسے ہی جن بھائیوں کے اعضا کٹ جاتے ہیں، جیسا کہ کتنے ہی مجاہدین ہیں جن کے بازو، ٹانگیں وغیرہ اللہ کی راہ میں کٹ گئے ، وہ میدان میں شہادت حاصل نہیں کر سکے، بلکہ غازی ہو کر واپس آگئے، وہ اگر مصنوعی بازو یا ٹانگیں بنوا کر لگوانا چاہیں تو جائز اور درست ہو گا۔