مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مشرک یا کافر سے ہدیہ لینا دینا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا کسی مشرک و کافر کی طرف سے دیا گیا عطیہ قبول کرنا جائز ہے؟ اسی طرح کیا کسی کافر و مشرک کو عطیہ دیا بھی جاسکتا ہے؟ قرآن وسنت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔

جواب :

اگر کوئی کافر و مشرک کسی مسلمان کو کوئی ہدیہ یا عطیہ دے تو اسے قبول کرنا جائز ہے۔ ایک بات کا لحاظ رکھا جائے کہ وہ چیز اسلام میں استعمال کرنا جائز و درست ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی کفار کی جانب سے بھیجے گئے ہدیے اور تحائف قبول کیے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح البخاري، كتاب الهبة وفضلها والتحريص عليها میں ”باب قبول الهدية من المشركين“ منعقد کر کے اس کا جواز ثابت کیا ہے اور درج ذیل دلائل پیش کیے ہیں:
① علیہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابراہیم علیہ السلام سارہ علیہا السلام کے ساتھ ہجرت کی تو وہ ایک ایسے شہر میں پہنچے جہاں ایک کافر و ظالم بادشاہ تھا۔ اس نے کہا: انھیں (ابراہیم علیہ السلام کو) آجر (ہاجرہ) دے دو۔“ امام بخاری نے اس روایت کو مذکورہ باب میں مختصر اور کتاب احادیث الأنبياء، باب قول الله تعالى واتخذ الله إبراهيم خليلا (3358) اور (2217) میں مفصل بیان کیا ہے۔ اس روایت میں یہ بات واضح ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو ظالم و جابر کا فرعون بادشاہ نے بی بی ہاجرہ بطور ہدیہ دی، جسے انھوں نے قبول کر لیا اور ہماری شریعت سے پہلی شریعتوں میں جو چیز وارد ہوتی ہے وہ ہمارے لیے جائز ہے، جب تک ہماری شریعت میں اس سے روکا نہ گیا ہو اور ان ہدایا و تحائف کے بارے میں ہماری شرع نے کوئی ممانعت وارد نہیں کی۔
② انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زہر آلود بکری کا گوشت لائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ کھایا، پھر جب اس عورت کو لایا گیا تو اس نے گوشت میں زہر ملانے کا اقرار کر لیا کہا گیا کہ کیوں نہ ہم اسے قتل کر دیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں! انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”اس زہر کا اثر میں نے ہمیشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تالو میں محسوس کیا۔“
(صحیح البخاري، كتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها، باب قبول الهدية من المشركين (2617))
③ مکہ سے مصر جاتے ہوئے سمندر کے کنارے ایلیہ نامی ایک بندرگاہ تھی، وہاں کے عیسائی حاکم کا نام یوحنا بن اوبہ تھا۔ اس حاکم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سفید قمیص اور ایک چادر بطور ہدیہ بھیجی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف لکھ کر بھیجا کہ وہ اپنی قوم کے حاکم کی حیثیت سے باقی رہے، کیونکہ اس نے جزیہ دینا منظور کر لیا تھا۔
(ملاحظہ ہو صحیح البخاري، كتاب الزكاة، باب عرض التمر (1481)، مسند الدارمی (2537))
④ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کا ایک جبہ ہدیہ دیا گیا، یہ جبہ (تبوک کے نزدیک ایک مقام) دومہ کے اکیدر عیسائی نے آپ کی خدمت میں بطور تحفہ بھیجا تھا۔
(بخاري، كتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها، باب قبول الهدية من المشركين (2616 2615))
⑤ سیدنا عبد الرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ”ہم ایک سو تیس آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟“ ایک صحابی کے پاس تقریباً ایک صاع کھانا (آنا )تھا، وہ گوندھا گیا، پھر ایک لمبا تڑنگا پریشان حال مشرک بکریاں ہانکتا ہوا آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”بیچو گے یا عطیہ دو گے۔“ یا شاید آپ نے عطیہ کی بجائے ہدیہ کہا۔ اس نے کہا: نہیں، بلکہ بیچوں گا۔ آپ نے اس سے ایک بکری خریدی، پھر وہ ذبح کی گئی، پھر آپ نے اس کی کلیجی بھونے کے لیے کہا۔ اللہ کی قسم! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو تیس میں سے ہر ایک کو اس کلیجی میں سے کاٹ کے دیا۔ جو موجود تھے انھیں تو اس وقت دے دیا اور جو موجود نہ تھے ان کا حصہ محفوظ کر لیا گیا، پھر اس گوشت کو دو بڑے برتنوں میں رکھا اور سب نے خوب سیر ہو کر کھایا اور جو برتنوں میں بچ گیا اسے اونٹ پر رکھ کر واپس لے آئے۔ (صحیح البخاري، كتاب الهبة وفضلها والتحريض عليها، باب قبول الهدية من المشركين (2618)) اس سے اوپر والی حدیثوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مشرکین نے آپ کو تحائف اور ہدیے بھیجے، آپ نے قبول کیے اور اس حدیث میں بھی مشرک کا ہدیہ قبول کرنے کی دلیل ہے، اس لیے کہ آپ نے اس لیے ترکے مشرک سے یہ پوچھا: ”کیا وہ انھیں بیچے گا یا ہدیہ دے گا؟“ آپ کے یہ الفاظ مشرک کا ہدیہ قبول کرنے پر دلالت کرتے ہیں۔ عیاض بن حمار سے جو روایت آئی ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی ہدیہ دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے اسلام قبول کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں!؟“ تو آپ نے فرمایا: ”مجھے مشرکین کے ہدیوں سے منع کیا گیا ہے۔“ (ابو داود، كتاب الخراج، باب في الامام يقبل هدايا المشركين (2007) ترمذی (1977)، مسند طیالسی (1083) المنتقى لابن الجارود (1110)، ابن خزيمة بحرقه فتح الباری (221/5)) یہ روایت قتادہ کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے اور صحیح احادیث کے بھی خلاف ہے۔ اسی طرح موسیٰ بن عقبہ نے کتاب المغازی میں جو روایت بیان کی ہے کہ عامر بن مالک مشرک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے آپ کو ہدیہ پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتا۔ یہ روایت مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ بعض نے اسے زہری سے موصول بھی بیان کیا ہے، لیکن وہ صحیح نہیں۔
(فتح الباری (230/5)، تحفة الأحوذي (188/5))
مزید تفصیل کے لیے تحفۃ الاحوذی اور فتح الباری جیسی کتب کی طرف رجوع کیا جائے۔ اب رہا کافر ومشرک کو ہدیہ دینا تو اس کے جواز کے لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے سورة الممتحنہ کی آیت (8) سے استدلال کیا ہے، جس میں اللہ نے فرمایا ہے:
﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ﴾
(الممتحنہ: 8)
”جو لوگ تم سے دین کے متعلق لڑے نہیں اور نہ انھوں نے تمھیں تمھارے گھروں سے نکالا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ احسان کرنے اور ان کے معاملہ میں انصاف سے تمھیں نہیں روکتا۔ “
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن کافروں نے مسلمانوں کے ساتھ قتال نہیں کیا اور نہ انھیں ان کے گھروں سے نکالا ہی ہے، ان کے ساتھ دنیادی حسن اخلاق اور سلوک منع نہیں ہے، پھر یہ بھی یاد رہے کہ ہر وصلہ اور نیکی واحسان سے یہ لازم نہیں آتا کہ کفار کو دلی دوست بنا لیا جائے اور ان کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھانی شروع کر دی جائیں، کیونکہ کفار کو دلی دوست بنانا منع ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ ﴾
(آل عمران: 118)
”اے ایمان والو! تم اپنا دلی دوست ایمان والوں کے علاوہ کسی کو نہ بناؤ کفار تمھاری تباہی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے، وہ تو چاہتے ہیں کہ تم مصیبت میں مبتلا رہو، ان کی دشمنی تو ان کی زبانوں سے ظاہر ہو چکی ہے اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے وہ اس سے بھی بڑا ہے، ہم نے تمھارے لیے آیتیں بیان کر دی ہیں، اگر تم عقل رکھتے ہو۔“
بہر کیف دنیاوی اخلاق و سلوک کے تحت مشرک کو ہدیہ دیا بھی جا سکتا ہے اور اس سے قبول بھی کیا جا سکتا ہے۔ ممانعت والی روایات قابل حجت نہیں ہیں، البتہ ان ہدیوں اور تحائف کی وجہ سے ان سے دلی دوستی اور محبت و مودت قائم نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ مسلمان کے لیے دوستی و دشمنی کا معیار اسلام ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔