مشرک والدین کے بچے کی نماز جنازہ: شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

(سوال):

جس بچے کے والدین مشرک ہیں ، کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ؟

جواب:

مسلمانوں کے بچوں پر مسلمانوں والے دنیا وی احکام لاگو ہوں گے، مثلاً غسل، کفن دفن ، نماز جنازہ ، وراثت وغیرہ کے احکام ومسائل۔
اسی طرح مشرکین کے بچوں کے احکام مشرکوں والے ہوں گے۔ ان پر جنازہ نہیں پڑھا جائے گا، کفن دفن کا بھی وہی طریقہ اختیار کیا جائے گا، جو ایک بالغ مشرک کے لیے اختیار کیا جاتا ہے، اسی طرح کوئی مسلمان اس کافر بچے کی وراثت کا حق دار نہیں ہوگا۔
❀ امام ابن منذ رحمہ الله (319 ھ) فرماتے ہیں:
أجمعوا على أن حكم الطفل حكم أبويه إن كانا مسلمين، فحكمه حكم أهل الإسلام، وإن كانا مشركين فحكمه حكم الشرك، يرثهم ويرثونه، ويحكم فى ديته إن قتل حكم دية أبويه .
اہل علم کا اجماع ہے کہ ( دنیوی اعتبار سے ) بچے کا وہی حکم ہوگا، جو اس کے والدین کا ہے، والدین مسلمان ہیں تو بچے پر بھی اہل اسلام والے احکام لاگو ہوں گے ، اگر والدین مشرک ہیں، تو ( دنیوی اعتبار سے ) بچے کا حکم بھی وہی ہوگا، جواہل شرک کا ہے ۔ بچہ ان کا اور وہ بچے کے وارث بنیں گے، اگر بچے قتل ہو جائے تو اس کی دیت کا وہی حکم ہے، جو اس کے والدین کی دیت کا حکم ہے۔“
(الإجماع، ص 74، الرقم : 322)
احکام آخرت میں مشرکین کی اولا د مسلمانوں کی اولاد کے حکم میں ہوں گے۔