سوال
ایک حدیث میں ہے کہ جو مشرک کے ساتھ جمع ہوا اور اس کے ساتھ سکونت اختیار کی، وہ اسی کے مثل ہے۔ اس کی وضاحت فرما دیں؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جب کوئی مسلمان ایسے علاقے میں رہائش اختیار کرے جہاں مشرکین و کفار کی اکثریت ہو اور وہاں مسلمانوں کی طرف سے مسلسل حملے بھی ہو رہے ہوں، تو ایسی صورت میں وہ شخص اس حدیث کا مصداق بن سکتا ہے جس میں فرمایا گیا:
من جامع المشرك وسكن معه، فإنه مثله”..سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مشرک کا ساتھ دیا اور اس کے ساتھ رہا، وہ اسی کی طرح ہو گا۔“[سلسله احاديث صحيحه/الحدود والمعاملات والاحكام/حدیث: 1264]
البتہ اگر اس مسلمان کو امیر المومنین کی طرف سے کسی مخصوص مقصد کے تحت وہاں رہنے کی اجازت ملی ہو، تو وہ اس حکم میں شامل نہیں ہوگا۔
نیز، اگر وہ مسلمان وہاں مستضعفین (کمزور و مجبور افراد) میں شمار ہوتا ہے، یعنی وہ کسی مجبوری یا بے بسی کی حالت میں ہے، تو بھی وہ اس وعید میں شامل نہیں ہوگا۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب