مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مشت سے کم داڑھی والے امام کے پیچھے نماز کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن و حدیث کی روشنی میں احکام و مسائل، جلد 01، صفحہ 521

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جو امام حدِ شرعی یعنی مشت سے کم داڑھی رکھتا ہو، اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟ خواہ فرض ہو یا سنت؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس سوال میں "مشت برابر” داڑھی کو مقدارِ شرعی قرار دیا گیا ہے، حالانکہ شریعت میں داڑھی کے لیے کسی قسم کی مخصوص تحدید وارد نہیں ہوئی۔ شریعت میں بس یہی حکم آیا ہے:

{اَعْفُوا اللِّحٰی}

یعنی "داڑھی بڑھاؤ”۔

داڑھی کٹانے یا منڈانے والے کو نماز کا امام بنانے یا نہ بنانے کے بارے میں قرآنِ مجید کی کوئی آیت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث فی الوقت مجھے معلوم نہیں ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔