مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مشترکہ جائیداد کی تقسیم کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 647

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بنام محمد صدیق اور محمد الیاس دونوں بھائیوں نے مل کر کچھ ملکیت بنائی۔ اس مشترکہ ملکیت سے کچھ مزید ملکیت وجود میں آئی ہے۔ اب جس کے پاس جو ملکیت ہے وہ کہتا ہے کہ یہ میری ہے۔ شریعت کے مطابق وضاحت فرمائیں کہ کیا یہ تقسیم درست ہے یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات سمجھنی چاہیے کہ یہ تمام ملکیت دونوں بھائیوں کی مشترکہ ملکیت ہے۔ لہٰذا اس پوری ملکیت خواہ منقولہ ہو یا غیر منقولہ، اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا اور ہر ایک بھائی کو ایک ایک حصہ دیا جائے گا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔