مشاجرات صحابہ رضی الله عنه
سلف کا موقف
🌸امام محمد بن الحسين الآجری کا فرمان:
امام ابوبکر محمد بن الحسین بن عبد اللہ آجری المتوفی ۳۶۰ ھ نے اپنی معروف کتاب ’’کتاب الشریعتہ‘‘ میں (باب نمبر ۷ ۲۵ص۹۳۲ نسخه مرقمه) باب یہی قائم کیا ہے۔ ’’باب ذكر الكف عما شجر بين أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ورحمة الله علیهم اجمعین‘‘ کہ یہ باب اس کے متعلق ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان ہونے والے اختلافات سے گریز کیا جائے اللہ تعالیٰ کی ان سب پر رحمتیں ہوں۔ امام آجری نے اس باب میں بڑی تفصیل سے بحث کی ہے اور اپنے اس موقف پر بہت سے دلائل ذکر کئے ہیں جو دس صفحات پر مشتمل ہیں۔ ان دلائل سے قطع نظر ہم یہاں صرف ان کے موقف کا خلاصہ پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
فضائل صحابہ کرام واہل بیت کے سلسلے میں جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس پر غور و فکر کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ ان سب
جو غور سے محبت کرے ان کے بارے میں رحمت اور بخشش کی دعاء کرے اور ان کی محبت کو اللہ کے ہاں اپنے لئے وسیلہ بنائے ، ان کے مابین جو اختلافات ہوئے ہیں، ان کو ذکر نہ کرے نہ ان کی چھان بین کرے اور نہ ہی ان پر بحث کرے ہمیں تو ان کے بارے میں استغفار کرنے اور ان کے حق میں رحمت کی دعا کرنے ، ان سے محبت اور ان کی اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ قرآن مجید، احادیث رسول اور ائمہ مسلمین کے اقوال اس پر دال ہیں۔ ہمیں ان کے مابین مشاجرات صلى الله کے ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہیں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی مصاحبت اور رشتہ کا شرف حاصل ہے ان کے اسی شرف صحبت کی بنا پر اللہ تعالی نے انہیں معاف کر دینے کا اعلان فرمایا ہے اور اپنی کتاب میں اس بات کی ضمانت دی ہے کہ ان میں سے کسی ایک کو قیامت کے دن شر مسار نہیں کروں گا، ان کے اوصاف کا اللہ تعالیٰ نے تورات وانجیل میں تذکرہ کیا ہے اور ان کی بہترین تعریف کی ہے، ان کی تو بہ کا اور اپنی رضا و خوشنودی کا ذکر کیا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ میں تو ان مشاجرات کے بارے میں محض اپنی معلومات میں اضافہ چاہتا ہوں تا کہ میں ان حالات سے بیچ سکوں جن میں وہ مبتلا ہوئے ہیں، تو اسے سمجھایا جائے گا کہ تم تو فتنہ کے طلب گار ہو کیونکہ تم ایسی بات کے در پے ہو جو تمہارے لئے نقصان کا باعث ہے، کسی فائدہ کی اس سے کوئی توقع نہیں۔ اس کی بجائے اگر تم فرائض کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب کی صورت میں اپنی اصلاح کی کوشش کرتے تو یہ تمہارے لئے بہتر تھا بالخصوص اس دور میں جب کہ بدعات ضالہ عام ہورہی ہیں، لہذ ا تمہارے لئے یہی بہتر تھا کہ تم اپنے کھانے پینے ، اپنے لباس کی فکر کرو کہ یہ کہاں سے آیا ہے، یہ روپیہ پیسہ کہاں سے آیا ہے اور اسے کہاں خرچ کیا جارہا ہے، نیز ہمیں اس بارے میں بھی خطرہ ہے کہ مشاجرات صحابہ میں تمہاری چھان بین اور بحث و تکرار کے نتیجہ میں تمہارا دل بدعت کی طرف مائل ہو جائے گا شیطان کے ہاتھوں تم کھیلنے لگو گے۔ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ ان سے محبت کرو، ان کے لئے بخشش طلب کرو اور ان کی اتباع کرو، اگر تم ان کو برا کہنے لگو گے، اور ان سے بغض و نفرت کرنے لگو گے، باطل راستہ پر چل نکلو گے، جو شخص بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مدح و توصیف کرتا ہے بعض کی مذمت کرتا ہے اور ان پر طعن و تشنیع کرتا ہے وہ فتنہ میں مبتلا ہے کیونکہ اس پر تو سب صحابہ کرام سے محبت اور سب کے بارے میں استغفار واجب ہے۔
🌿(الشریعۃ ص ۲۴۹۱،۲۳۸۵ ج ۵)
امام ابوبکر الآجری رحمہ اللہ کے اس کلام پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں ۔ بلاریب مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں بحث و تکرار کا نتیجہ وہی ہے جس کی نشاندہی انہوں نے کی ہے، اور اسی سے دیگر علمائے امت نے بتکرارخبر دار کیا۔
🌿[مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم اور سلف کا موقف ص ۴۲،۴۱]
امام نووی کا فرمان:
امام محی الدین ابوزکریا یحیی بن شرف النووی المتوفی ۶۷۶ شرح صحیح مسلم میں رقم طراز ہیں:
’’و مذهب أهل السنة والحق إحسان الظن بهم والإمساك عما شجر بينهم وتاويل قتالهم، وإنهم مجتهدون متأولون لم يقصدوا معصية ولا محض الدنيا، بل اعتقدوا كل فريق أنه الـمـحـق ومخالفه باغ فوجب قتاله ليرجع الى أمر الله ، وكان بعضهم مصيبا و بعضهم مخطئا معذورا في الخطأ لأنه بإجتهاد ولمجتهد إذا أخطأ لا إثم عليه وكان على رضى الله عنه هو المحق الـمـصيب في ذلك الحروب هذا مذهب أهل السنة وكانت القضايا مشتبة حتى أن جماعة من الصحابة تحيروا فيها فاعتزلوا الطائفتين ولم يقاتلوا ولو تيقنوا الصواب لم يتأخروا عن مساعدته‘‘
🌿(شرح صحیح مسلم ص ۳۹۰ ج ۲ ، كتاب الفتن ، باب إذا التقى المسلمان بسيفيهما إلخ)
’’اہل سنت اور اہل حق کا مذہب یہ ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے ۔ ان کے آپس کے اختلافات میں خاموشی اور ان کی لڑائیوں کی تاویل کی جائے۔ وہ بلاشبہ سب مجتہد اور صاحب رائے تھے معصیت اور نافرمانی ان کا مقصد نہ تھا اور نہ ہی محض دنیا طلبی پیش نظر تھی، بلکہ ہر فریق سیا اعتقاد رکھتا تھا کہ وہی حق پر ہے اور دوسرا باقی ہے، اور باقی کے ساتھ لڑائی ضروری ہے تا کہ وہ امرالہی کی طرف لوٹ آئے ، اس اجتہاد میں بعض راہ صواب پر تھے اور بعض خطا پر تھے ،مگر خطا کے باوجود وہ معذور تھے کیونکہ اس کا سبب اجتہاد تھا اور مجہتد خط پر بھی گنہ گار نہیں ہوتا ، سید نا علی رضی اللہ عنہ ان جنگوں میں حق پر تھے اہلِ سنت کا یہی موقف ہے، یہ معاملات بڑے مشتبہ تھے یہاں تک کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت اس پر حیران و پریشان تھی جس کی بنا پر وہ فریقین سے علیحدہ رہی اور قتال میں انہوں نے حصہ نہیں لیا ، اگر انہیں صحیح بات کا یقین ہو جاتا تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی معاونت سے پیچھے نہ رہتے ۔‘‘
علامہ نووی رحمہ اللہ نے جو کچھ بیان فرمایا تھوڑی سی تفصیل سے اہلِ سنت کا یہی موقف انہوں نے ’’کتاب فضائل الصحابہ‘‘ کے اوائل میں بیان کیا ہے۔جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
’’سید ناعلی رضی اللہ عنہ کی خلافت بالا جماع صحیح ہے، اپنے وقت میں وہ خلیفہ تھے ان کے علاوہ کسی کی خلافت نہیں تھی ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ عادل، فضلاء اور نجار صحابہ میں سے تھے ان کے درمیان جولڑائیاں ہوئیں اس کی وجہ یہ شبہ تھا کہ ان میں سے ہر ایک گروہ اپنی حقانیت کا اعتقاد رکھتا تھا یہ بھی عادل ہیں جنگوں اور دیگر اس قسم کے معاملات میں متاول ہیں، ان میں سے کوئی چیز ان میں سے کسی کو عدالت سے خارج نہیں کرتی اس لئے کہ وہ سب مجتہد تھے، ان مسائل میں جو حل اجتہاد ہیں ان میں با ہم اسی طرح اختلاف ہو گیا جس طرح ان کے بعد میں دوسرے مجہتدین قصاص وغیر ہ مسائل میں مختلف ہو گئے۔ ان باتوں کے سبب کسی میں کوئی نقص نہیں، ان کے باہم لڑنے کا سبب یہ تھا کہ معاملات کچھ الجھن کا شکار ہو گئے جس کی وجہ سے ان کے اجتہاد میں اختلاف کے نتیجہ میں تین گروہ بن گئے ۔ ایک گروہ سمجھتا تھا کہ میں حق پر ہوں دوسرا باغی ہے اور باغی سے قتال ضروری ہے، دوسرا گروہ اس کے برعکس مدعی تھا کہ وہ حق پر ہے اور ان کا مد مقابل باغی ہے، تیسرا گروہ وہ تھا جن کے نزدیک معاملہ مشکل تھا وہ دونوں میں سے کسی کے موقف کو راج نہ سمجھ سکے تو دونوں سے علیحدہ ہو گئے ، اگر ان کے نزدیک واضح ہو جاتا کہ فلاں فریق حق پر ہے تو وہ اس کی تائید میں پیچھے نہ رہتے ، اس لئے یہ سب حضرات معذور ہیں اور اہلِ حق اس پر متفق ہیں کہ وہ عادل ہیں اور ان کی روایت و شہادت مقبول ہے۔‘‘
🌿(شرح مسلم ص ۲۷۲ ج ۲) (مشاجرات صحابہ اور سلف کا موقف ص۶۰ ۶۱)