مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مسکین کی شادی کے لیے زکوٰۃ فنڈ سے مدد کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 424

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص مسکین ہے اور وہ شادی کرنا چاہتا ہے۔ کیا اس شخص کو شادی کے لیے زکوٰۃ فنڈ سے رقم دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ مذکورہ شخص زکوٰۃ فنڈ کی رقم سے شادی کرسکتا ہے، کیونکہ مسکین زکوٰۃ کے مصارف میں سے ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿إِنَّمَا ٱلصَّدَقَـٰتُ لِلْفُقَرَ‌آءِ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱلْعَـٰمِلِينَ عَلَيْهَا وَٱلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِى ٱلرِّ‌قَابِ وَٱلْغَـرِ‌مِينَ وَفِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۖ فَرِ‌يضَةً مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ (التوبة: 60)

اس آیت سے یہ بات ثابت ہوئی کہ زکوٰۃ مسکین کو دی جائے گی۔

✿ مسکین وہ ہے جس کے پاس کھانے پینے کے لیے صرف تھوڑی مقدار ہو جو اس کی ضروریات پوری نہ کرسکے۔
✿ اسی طرح اس کے پاس کوئی بچت یا جمع شدہ رقم بھی نہ ہو۔

لہٰذا اگر یہ شخص حقیقتاً مسکین ہے تو زکوٰۃ کے مال سے اس کی شادی کے لیے امداد دی جاسکتی ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔