مسواک کی فضیلت اور فطری سنتیں: نظافت، طہارت اور سنتِ نبوی ﷺ کی مکمل رہنمائی

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل جلد 01: صفحہ 37

مسواک کی فضیلت

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"السواك مطهرة للفم مرضاة للرب”
مسند احمد 6/47، 62 — سنن النسائی الطہارۃ باب الترغیب فی السواک

"مسواک منہ کی صفائی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔”

فطرت کی پانچ صفات

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"الْفِطْرَةُ خَمْسٌ أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ، وَالاِسْتِحْدَادُ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الإِبِطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ”
صحیح البخاری اللباس باب قص الشارب حدیث 5889 — صحیح مسلم الطہارۃ باب خصال الفطرۃ حدیث 257

"پانچ صفات فطرت ہیں:
• ختنہ کرنا
• زیرِ ناف بال اتارنا
• ناخن تراشنا
• بغلوں کے بال اکھیڑنا
• اور مونچھیں کاٹنا۔”

مونچھیں کاٹنے اور داڑھی بڑھانے کا حکم

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا:

"أَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَى”
صحیح البخاری اللباس باب تقلیم الاظفار حدیث 5892 — صحیح مسلم الطہارۃ باب خصال الفطرۃ حدیث 259

"مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔”

فقہی مسائل کا استنباط

مندرجہ بالا روایات اور اس مضمون کی دیگر روایات سے فقہائے کرام نے درج ذیل مسائل اخذ کیے ہیں:

مسواک سنتِ مؤکدہ ہے اور اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے

فطرت کی پانچ صفات انسانی زندگی میں نظافت اور پاکیزگی کے بنیادی اصول ہیں

داڑھی کو بڑھانا اور مونچھیں کم کرنا صریح حکمِ نبوی ﷺ ہے

زیرِ ناف اور بغلوں کے بال صاف کرنا نظافت اور فطرت میں داخل ہے

ناخن تراشنا بھی فطرتِ انسانی کا حصہ ہے

نتیجہ

ظاہری نظافت اور فطری سنتیں اسلام کے وہ روشن اصول ہیں جن کے ذریعے مسلمان کی شخصیت، طہارت، وقار اور روحانی پاکیزگی مکمل ہوتی ہے۔ مسواک کرنا، ناخن تراشنا، زیر ناف اور بغلوں کے بال صاف کرنا، ختنہ کرنا، اور داڑھی بڑھانا یہ وہ اعمال ہیں جو انسان کی فطری، ظاہری اور شرعی پاکیزگی کو برقرار رکھتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے ان صفات کو صرف نظافت نہیں بلکہ فطرت قرار دیا، یعنی یہ انسان کی اصل اور خمیر میں شامل ہیں۔
جو مسلمان ان سنتوں کو زندہ رکھتا ہے، وہ نہ صرف ظاہری طور پر پاکیزہ ہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا مستحق بھی بنتا ہے، جیسا کہ مسواک کے متعلق آیا ہے کہ یہ “رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔”

یہ تمام اعمال اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام زندگی کے ہر پہلو میں پاکیزگی، نظم و ضبط اور حسنِ ظاہری کا قائل ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان روشن سنتوں پر عمل کی توفیق دے۔
آمین۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب