مسند الحمیدی اور حدیث رفع الیدین
مسند الحمیدی کو اس کے معلق حبیب الرحمن اعظمی دیو بندی ہندوستانی نے نسخہ دیو بند یہ (ہندوستانیہ) سے شائع کیا ہے اور اس کی تائید میں نسخہ سعیدیہ اور نسخہ عثمانیہ سے مدد لی ہے۔ [دیکھئے مقدمہ مسند الحمیدی ص 3،2]
نسخہ سعیدیہ کی تاریخ نوشت 1311ھ، نسخہ دیوبندیہ کی تاریخ نوشت 1324ھ
نسخہ عثمانیہ کی تاریخ نوشت 1159ھ سے پہلے۔ (ایضاً)
اعظمی ہندوستانی دیوبندی نے نسخہ دیوبندیہ کو اصل بنایا۔ (ایضاً ص3)
مسند الحمیدی کا ایک دوسرا نسخہ بھی ہے جسے نسخہ ظاہریہ کہتے ہیں۔ (مقدمہ ص 25،4)
یہ نسخہ شام میں ہے اور اس کی تصاویر (Photostats) مکہ مکرمہ وغیرہ میں ہیں۔
نسخہ ظاہریہ کی تاریخ نوشت 689 ھ [مقدمہ مسند الحمیدی ص 19]
نسخہ دیوبندیہ اصلیہ میں بے شمار غلطیاں ہیں، مثلاً ملاحظہ ہو مسند الحمیدی ج 1 ص1، 12،11،7،6،5،4،3،2 13 14 15 وغیرہ
کئی مقامات پر تحریف بھی ہوئی ہے۔ مثلاً دیکھئے: ج 1 ص 15 حاشیہ 7 نیز ملاحظہ ہو71/1 کئی مقامات پر اس (دیو بندی معلق) نے نسخہ ظاہریہ کو ترجیح دے کر نسخہ دیوبندیہ کی تصحیح کی ہے مثلا دیکھئے: 302،287،285،275/2 و غیره
بعض مقامات پر خود اعظمی دیوبندی نے اعتراف کیا ہے کہ یہاں اصل میں تحریف ہے۔ دیکھئے مسند الحمیدی تحقیق الاعظمی (ج 1 ص 15 حاشیہ عربی) وغیرہ۔





مسند الحمیدی کے دونوں قلمی قدیم نسخوں میں لکھا ہوا ہے کہ
رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا افتتح الصلوة رفع يديه حذو منكبيه وإذا أراد أن يركع وبعد ما يرفع رأسه من الركوع ولا يرفع بين السجدتين
اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نسخہ دیوبندیہ میں فلا يرفع کا اضافہ ہندوستانی کا تب یا ناسخ کا خود ساختہ ہے جیسا کہ حال ہی میں مصنف ابن ابی شیبہ کو کراچی میں جب بمبئی کے طبع شدہ نسخہ کا عکس لے کر شائع کیا گیا تو اس میں بھی متعصب دیو بندی ناشر نے سیدنا وائل بن حجر رضی الله عنہ کی روایت کے آخر میں تحت السرة کے خود ساختہ الفاظ بڑھا دیے۔
مسند حمیدی کی اس روایت کی سند میں جلدی اور عجلت کی وجہ سے حدثنا سفيان کے الفاظ بھی چھوڑ دیئے گئے تھے جس کا احساس معلق کو بہت بعد میں ہوا کیونکہ غلطیوں کا جو چارٹ کتاب کے آخر میں ہے اس میں بھی اس غلطی کا ازالہ نہیں کیا گیا ہے۔
نسخہ ظاہریہ تمام نسخوں سے زیادہ صحیح اور قابل اعتماد ہے اور ایک دوسرے نسخے میں بھی یہ روایت نسخہ ظاہریہ کی طرح ہے۔ سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ کی (رفع یدین والی موقوف) روایت کو امام حمیدی نے ایک اور سند سے بھی بیان کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا عبد الله بن عمر رضی الله رفع یدین کو ضروری (واجب) سمجھتے تھے۔
اسی روایت کے بعد امام الحمیدی کا عبد الله بن عمر کے اس عمل کا ذکر کرنا کہ ”وہ رفع الیدین کے تارک کو اس وقت تک کنکریوں سے مارتے تھے جب تک وہ رفع الیدین نہ کرنے لگتا۔“ سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ امام الحمیدی، سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ کی اثبات رفع الیدین کی حدیث ہے اور پھر ان کا عمل ذکر کر کے گویا اس مسئلے پر مہر ثبت کرنا چاہتے ہیں اور اسی بنا پر امام الحمیدی خود بھی رفع الیدین پر عمل پیرا تھے۔
اسی حدیث کو امام ابو عوانہ نے سفیان کے دوسرے شاگردوں سے نقل کرنے کے بعد امام حمیدی کی سند سے بھی اس حدیث کے ابتدائی الفاظ نقل کر دیئے اور پھر مثله کہہ کر اشارہ کر دیا کہ امام حمیدی کی حدیث کے الفاظ بھی اسی طرح ہیں۔ پس اس سے بھی ثابت ہوا کہ فلا يرفع کے الفاظ غلط اور مردود ہیں۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ
① مسند حمیدی کے مطبوعہ نسخہ کی متنازعہ عبارت محرف اور مصحف ہے۔
② دیگر ثقہ راویوں نے اسے سفیان بن عیینہ سے رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ کے اثبات کے ساتھ روایت کیا ہے لہذا اگر یہ عبارت مسند الحمیدی کے تمام قلمی نسخوں میں بھی موجود ہوتی تو بلا شک وشبہ تصحیف وخطاء فاحش تھی۔
③ چونکہ ابتدائی صدیوں میں اس خود ساختہ روایت کا نام ونشان تک نہیں تھا اس لیے اسے کسی نے بھی پیش نہیں کیا۔
④ جن لوگوں نے زوائد پر کتابیں لکھیں ہیں مثلاً المطالب العالیہ فی زوائد المسانيد الثمانی لا ابن حجر (وفیها مسند الحمیدی) اور اتحاف السادة المبرة الخير للبوصیری۔
ان میں سے کسی نے بھی اس روایت کو پیش نہیں کیا، اگر ہوتی تو پیش کرتے۔!
⑤ مکتبہ ظاہریہ کے مسند الحمیدی کے قدیم مخطوطے میں یہ حدیث علی الصواب (رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ کے اثبات کے ساتھ) موجود ہے۔
⑥ حافظ ابو عوانہ یعقوب بن اسحاق الاسفرائنی نے مسند ابی عوانہ (ج 2 ص 91) میں اسے امام شافعی اور امام ابوداود کی روایت کے مثل قرار دیا ہے۔
امام شافعی کی روایت عند الرکوع اور بعدہ کے رفع الیدین کے اثبات کے ساتھ ”کتاب الام“ میں موجود ہے۔ [ج 1 ص 03 ط بیروت]
ابو داود (غالباً الحرانی) کی بواسطہ علی (بن عبد الله المدینی) والی روایت ہمیں نہیں ملی مگر سنن ابی داود میں احمد بن فضیل والی روایت اثبات رفع الیدین عند الرکوع وبعدہ کے ساتھ موجود ہے۔ [سنن ابی داود ج1 ص 111 ح 721]
اور علی بن عبد الله (المدینی) والی روایت اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ کے ساتھ جزء رفع الیدین للبخاری میں موجود ہے۔ (ص 17ح 2]
⑦ اس حدیث کے مرکزی راوی امام سفیان بن عیینہ سے رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع الیدین باسند صحیح ثابت ہے۔ [دیکھئے سنن ترمذی ج 2 ص 39 حدیث 256 تحقیق احمد شاکر]
⑧ امام حمیدی بھی رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع الیدین کے قائل ہیں۔ [جزء رفع اليدين للبخاری ص 35 ح 1 حقیقی]
خلاصہ یہ ہے کہ مسند الحمیدی میں زہری عن سالم عن ابیہ والی روایت رفع الیدین کے اثبات کے ساتھ ہے۔ نفی کے ساتھ نہیں ہے۔ لہذا نسخہ دیوبندیہ کی خود ساختہ اور خانہ ساز عبارت موضوع و باطل ہے اور اسے پیش کرنا انتہائی ظلم، پرلے درجے کی خیانت اور سینہ زوری ہے۔
⑨ اس تحقیق کے بعد المستخرج لابی نعیم الاصبہانی (ج 2 ص 12) دیکھنے کا موقع ملا، وہاں بھی یہ روایت مسند حمیدی کی سند کے ساتھ منقول ہے جس میں اثبات رفع الیدین ہے، نفی نہیں۔ والحمد للہ
⑩ مسند حمیدی جو شام سے شائع ہوئی ہے اس میں بھی رفع الیدین کرنے والی حدیث موجود ہے اور نہ کرنے کا کوئی نام ونشان نہیں۔ [دیکھئے ج1 ص 515 ح 626]