مسند ابی عوانہ اور حدیث رفع الیدین: واؤ کی تصحیح اور دلائل کا علمی تجزیہ

فونٹ سائز:
تحریر: حافظ ندیم ظہیر

مسند ابی عوانہ اور حدیث رفع الیدین

الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على رسوله الأمين، أما بعد:
جب سے بعض الناس نے عدم رفع الیدین پر مسند ابی عوانہ سے دلیل پیش کرنا شروع کی ہے علمائے حق اس کی توضیح و تردید کرتے آ رہے ہیں، جیسا کہ محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں : بعض ناسمجھ لوگوں نے ’’لا يرفعهما‘‘ کو پچھلی عبارت سے لگا دیا ہے، حالانکہ دلائل ان کی واضح تردید کرتے ہیں:

◈مسند ابی عوانہ کے مطبوعہ نسخہ سے عمداً یا سہواً ’’واؤ‘‘ گرائی گئی ہے یا گرگئی ہے۔ یہ ’’واؤ‘‘ مسند ابی عوانہ کے قلمی نسخوں اور صحیح مسلم وغیر ہم میں موجود ہے۔ ( علامہ سید احسان اللہ شاہ الراشدی پیر آف جھنڈا کے نسخہ میں یہ واؤ موجود ہے بلکہ مدینہ طیبہ کے نسخہ میں بھی واؤموجود ہے۔ والحمد للہ )

◈سعدان کی روایت بھی اثبات رفع الیدین کی تائید کرتی ہے۔

◈ابوعوانہ کی تبویب بھی اسی پر شاہد (گواہ) ہے۔

◈امام شافعی، امام ابوداؤد اور امام حمیدی کی روایات بھی اثبات رفع الیدین عند الرکوع وبعدہ کے ساتھ ہیں جن کے بارے میں ابو عوانہ نے ’’نحوه‘‘ ’’بمثله‘‘ اور ’’مثلہ‘‘ کہا ہے۔

◈ اس حدیث کو سابقہ حنفی علماء مثلاً زیلعی (وغیرہ) نے عدم رفع الیدین کے حق میں پیش نہیں کیا۔ اس وقت تک یہ روایت بنی ہی نہیں تھی ، لہذا وہ پیش کیسے کرتے ؟

معلوم ہوا کہ اس روایت کے ساتھ عدم رفع پر استدلال کرنا غلط ، باطل اور چودھویں صدی کی بدعت ہے۔

مسند ابی عوانہ قدیم دور میں بھی مشہور و معروف رہی ہے۔ کسی ایک امام نے بھی اس کی محولہ بالا عبارت کو ترک و عدم رفع الیدین کے بارے میں پیش نہیں کیا۔

(نور العينين ص ۸۰، ۸۱)

قارئین کرام ! مذکورہ تحریر میں مدینہ طیبہ کے جس نسخے کا ذکر ہے وہ حال ہی میں زیور طباعت سے آراستہ ہوا ہے جو صیح ترین اور کامل ہے۔ اس کی بیس (۲۰) جلدیں ہیں اور یہ نسخہ راقم الحروف کی لائبریری میں موجود ہے۔ وللہ الحمد

ہم اس نسخے سے وہی حدیث درج کر رہے ہیں جس سے بعض الناس عدم رفع یدین پر استدلال کرتے ہیں، چنانچہ حدیث پیش خدمت ہے:

حدثنا عبد الله بن أيوب المخرمى، وسعدان بن نصر، وشعيب بن عمرو في آخرين قالوا ناسفيان بن عيينة عن الزهري، عن سالم، عن أبيه، قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا افتتح الصلاة رفع يديه حتى يحاذي بهما وقال بعضهم: حذو منكبيه، واذا أراد أن يركع وبعد ما يرفع رأسه من الركوع ولا يرفعهما، وقال بعضهم: ولا يرفع بين السجدتين والمعنى واحد.

(مسند أبي عوانة ٣١٢/٤)

قارئین ! ’’لا يرفعهما‘‘ سے پہلے ’’و‘‘ روز روشن کی طرح واضح ہے، لہذا جو لوگ واؤ گرا کر یا محرف نسخے سے اپنا مطلب نکالنے کی سعی نامراد کرتے تھے ، مدینہ طیبہ کے اس نسخے کے شائع ہونے کے بعد منہ چھپاتے پھریں گے ۔ صحیح یہی ہے کہ حق چھپائے نہیں چھپتا۔ مخالفین کی لاکھ کوشش کے باوجود مسئلہ اثبات رفع الیدین اظہر من الشمس ہے۔ مذکورہ حدیث اور دیگر دلائل سے ثابت ہے کہ تکبیر تحریمہ رکوع جاتے وقت ، رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور دورکعتوں کے بعد تیسری رکعت کے لیے رفع یدین کرنا چاہیے ۔