مسند ابی عوانہ اور حدیث رفع الیدین: اصل قلمی نسخوں کے سکین

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

مسند ابی عوانہ اور حدیث رفع الیدین

اس سلسلہ میں مولانا ارشاد الحق اثری صاحب کا ایک کتابچہ” مسئلہ رفع الیدین پر ایک نئی کاوش کا تحقیقی جائزہ“ کافی عرصہ پہلے شائع ہوا تھا۔ اس میں ڈیروی صاحب کے شبہات و اوہام کے مسکت اور تسلی بخش جوابات دیئے گئے ہیں۔
چونکہ اس (حدیث) کو امام ابوعوانہ نے تین راویوں سے بیان کیا ہے۔ لہذا یہ تین حدیثوں کے حکم میں ہے۔ اس لیے امام ابوعوانہ (الاسفرائنی) نے انتہائی دیانت داری کے ساتھ روایات کے اختلاف کا بھی ذکر فرما دیا ہے۔ کسی نے کہا: ”يــحــاذي بهـمـا“ (منكبيه) اور کسی نے کہا: حذو منكبيه اسی طرح کسی نے کہا: لا يرفعهما( بين السجدتين) اور کسی نے کہا : لايرفع (بين السجدتين)
لیکن ان سب کا مطلب ایک ہی ہے۔ امام ابوعوانہ نے کہا: ”والمعنى واحد“ یعنی معنی (مطلب) ایک ہی ہے۔ صحیح مسلم میں سفیان بن عیینہ (جو کہ مسند ابی عوانہ والی حدیث کے بنیادی راوی ہیں) سے چھ ثقہ راوی لا يرفعهما بين السجدتين کا لفظ ذکر کرتے ہیں۔ امام احمد وغیرہ لا يرفع بين السجدتين کا لفظ بیان کرتے ہیں۔

مسند ابی عوانہ اور حدیث رفع الیدین سکینمسند ابی عوانہ مدینہ مخطوطہ سکین

مسند ابی عوانہ سندھی مخطوطہ سکین
مسند ابی عوانہ کی اس حدیث کے ایک راوی سعدان بن نصر کی روایت السنن الکبری للبیہقی میں ہے۔ (سعدان تک سند بلا شک صحیح ہے)
اس میں ہے: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا افتتح الصلوة رفع يديه حتى يحاذي منكبيه وإذا أراد أن يركع وبعد ما يرفع من الركوع ولا يرفع بين السجدتين (السنن الكبرى ج 2 ص 69)
لہذا معلوم ہوا کہ یہ حدیث اثبات رفع الیدین کی زبر دست دلیل ہے۔ اس لیے الحافظ الثقة الكبير امام ابوعوانہ اس کو باب ”رفع اليدين في افتتاح الصلوة قبل التكبير بحذاء منكبيه وللركوع ولرفع رأسه من الركوع وأنه لا يرفع بين السجدتین “کے باب میں لائے ہیں۔
بعض نا سمجھ لوگوں نے ”لا يرفعهما“ کو پچھلی عبارت سے لگا دیا ہے حالانکہ دلائل ان کی واضح تردید کرتے ہیں:
① مسند ابی عوانہ کے مطبوعہ نسخہ سے عمد آیا سہواً” واؤ “ گرائی گئی ہے یا گر گئی ہے۔ یہ ”واؤ“ مسند ابی عوانہ کے قلمی نسخوں اور صحیح مسلم وغیرہما میں موجود ہے۔ (علامہ سید احسان اللہ شاہ الراشدی پیر آف جھنڈا کے نسخہ میں یہ واؤ موجود ہے بلکہ مدینہ طیبہ کے نسخہ میں بھی واؤ موجود ہے۔ والحمد للہ)
② سعدان کی روایت بھی اثبات رفع الیدین کی تائید کرتی ہے۔
③ ابو عوانہ کی تبویب بھی اسی پر شاہد (گواہ) ہے۔
④ امام شافعی امام ابود او د اور امام حمیدی کی روایات بھی اثبات رفــع الــديــن عـنــد الركوع وبعده کے ساتھ ہیں جن کے بارے میں ابو عوانہ نے نحوه بمثله اور مثله کہا ہے۔
⑤ اس حدیث کو سابقہ حنفی علماء مثلاً زیلعی (وغیرہ) نے عدم رفع الیدین کے حق میں پیش نہیں کیا۔ اس وقت تک یہ روایت بنی ہی نہیں تھی، لہذا وہ پیش کیسے کرتے؟!
معلوم ہوا کہ اس روایت کے ساتھ عدم رفع پر استدلال کرنا غلط، باطل اور چودہویں صدی کی ”بدعت“ ہے۔
مسند ابی عوانہ قدیم دور میں بھی مشہور و معروف رہی ہے۔ کسی ایک امام نے بھی اس کی محولہ بالا عبارت کو ترک و عدم رفع الیدین کے بارے میں نہیں پیش کیا۔ اس موضوع پر یہ مضمون بھی ملاحظہ کریں۔