مسلم ریاست میں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کا کیا حکم ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

مسلم ریاست میں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کا کیا حکم ہے؟

جواب :

غیر مسلموں کی عبادت گاہیں، مثلاً کلیسا ( یہود کی عبادت گاہ)، کنیسا (گرجا، عیسائیوں کی عبادت گاہ)، آتش کدہ (مجوسیوں کی عبادت گاہ)،مندر ( ہندؤں کی عبادت گاہ) اور گوردوارہ (سکھوں کی عبادت گاہ) وغیرہ بنانا کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے، کیونکہ اس سے کفر پر تعاون لازم آتا ہے۔
اسی طرح کفر و شرک کا باعث بننے والے مزاروں، قبوں اور مقبروں کا بھی یہی حکم ہے ۔ مسلمان علاقوں میں ان کو گرا دیا جائے گا۔
اگر کفار کی عبادت گاہیں مسلمانوں کی مفتوحہ زمین میں پہلے سے موجود ہوں، تو اس کے دو حکم ہیں ، اگر تو اہل ذمہ سے معاہدہ تشکیل پا جائے کہ ان کو کچھ نہیں کہا جائے گا، پھر وہ عبادت گاہیں باقی رکھی جائیں گی ، البتہ ان کی تعمیر نو وغیرہ کی اجازت نہیں ہوگی۔ اگر ان سے معاہدہ نہ ہو اور وہاں مسلمانوں کا مکمل قبضہ ہو جائے، تو بادشاہ مصلحت کو مد نظر رکھ کر ان معبد خانوں کو گرا بھی سکتا ہے۔ البتہ اگر مسلمانوں کے لئے یہ عمل ضرر رساں بن رہا ہو ، تو ایک مدت تک انہیں باقی بھی رکھا جا سکتا ہے۔
بعض علاقے خالص مسلمانوں کے ہوتے ہیں، جن کو مسلمان ہی آباد کرتے ہیں، پھر غیر مسلم بھی مسلمانوں کے ساتھ رہنے لگتے ہیں، جیسے اسلامی تاریخ میں بصرہ اور بغداد وغیرہ کے نام ملتے ہیں ، تو وہاں اگر کوئی شخص کسی غیر مسلم کی عبادت گاہ بناتا ہے، تو اس عبادت گاہ کو گرا دیا جائے گا۔ ان میں ناقوس بجانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ،شراب فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی خنزیر کھانے کی اجازت دی جائے گی اور نہ کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کو شرک کی دعوت دے سکتا ہے۔
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) سے پوچھا گیا سوال اور اس کا جواب ملا حظہ ہو :
سئل عن نصراني قيس قبل جانب داره ساحة بها كنيسة خراب لا سقف لها ولم يعلم أحد من المسلمين وقت خرابها، فاشترى القسيس الساحة وعمرها وأدخل الكنيسة فى العمارة وأصلح حيطانها وعمرها وبقي يجمع النصارى فيها وأظهروا شعارهم وطلبه بعض الحكام فتقوى واعتضد ببعض الأعراب وأظهر الشر ، فأجاب :
ليس له أن يحدث ما ذكره من الكنيسة وإن كان هناك آثار كنيسة قديمة ببر الشام فإن بر الشام فتحه المسلمون عنوة وملكوا تلك الكنائس؛ وجاز لهم تخريبها باتفاق العلماء وإنما تنازعوا فى وجوب تخريبها، وليس لأحد أن يعاونه على إحداث ذلك ويجب عقوبة من أعانه على ذلك، وأما المحدث لذلك من أهل الذمة فإنه فى أحد قولى العلماء ينتقض عهده ويباح دمه وماله؛ لأنه خالف الشروط التى شرطها عليهم المسلمون وشرطوا عليهم أن من نقضها فقد حل لهم منها ما يباح من أهل الحرب، والله أعلم.
”سوال : ایک نصرانی پادری کے گھر کے نزدیک میدان تھا، جس میں ایک خراب کنیسا تھا۔ اس کی چھت نہیں تھی، اس کے خراب ہونے کا کسی مسلمان کو پتہ نہیں تھا۔ تو پادری نے وہ میدان خرید کر اس کو آباد کر دیا اور کنیسا کو عمارت میں داخل کر دیا، اس کی دیواروں کو درست کیا اور اس میں آباد کاری کی ،نصرانی اس میں جمع ہو کر اپنے شعار بلند کرنے لگے، اس کو بعض حکام نے بلوایا تو وہ قوت کا مظاہرہ کرنے لگا، بعض اعرابیوں کو اپنے ساتھ ملا لیا اور شر کا اظہار کرنے لگا۔ تو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے جواب دیا:
پادری کے لئے یہاں کنیسا بنانا جائز نہیں، اگر چہ اس میں پرانے کنیسے کے آثار موجود ہوں، کیوں کہ یہ شام کی خشک زمین پر ہے اور اس کو مسلمانوں نے دشواری کے ساتھ فتح کیا تھا، یہ ان کی ملکیت تھی ۔ تو مسلمانوں کے لئے ان کنیسوں کو ختم کرنا جائز تھا، اس پر مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ اگر چہ اس میں اختلاف ہے کہ آیا اس کو گرانا واجب ہے یا نہیں۔ کسی کے لئے جائز نہیں ہے کہ اس پادری کی معاونت کرے، جو ایسا کرے گا اس پر عقوبت واجب ہو گی۔ اگر یہ کام کرنے والا کوئی ذمی ہوگا ، تو علما کے ایک قول کے مطابق اس کا عہد ختم ہو جائے گا، اس کا خون اور مال مباح ہو جائے گا۔ کیوں کہ اس نے ان شرائط کی مخالفت کی ہے، جو مسلمانوں نے اس پر عائد کی ہیں ۔ مسلمانوں نے ان پر شرط لگائی تھی کہ جس نے عہد توڑ دیا اس پر وہ سب احکام لاگو ہوں گے، جو اہل حرب پر ہوتے ہیں۔ “
(مجموع الفتاوى : 647/28)
❀ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
إنه لو أراد الإمام عند فتحه هدم ذلك جاز بإجماع المسلمين، ولم يختلفوا فى جواز هدمه.
اگر حاکم وقت علاقہ فتح کرتے وقت غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو منہدم کرنا چاہیے ، تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے، اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے، منہدم کرنے کے جواز میں کسی نے اختلاف نہیں کیا۔“
(أحكام أهل الذمة : 1192/3)
❀ نیز فرماتے ہیں:
يمنع أهل الذمة من ابتداء إحداث كنيسة فى دار الإسلام ولا يمنعون من استدامتها.
”ذمیوں کو دارالاسلام میں نیا کنیسا بنانے سے منع کیا جائے گا، البتہ پہلے کیسے کو باقی رکھنے سے منع نہیں کیا جائے گا۔“
(إعلام المؤقعين عن رب العالمين : 246/2)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️