ایک مسلمان آدمی کی دیت یہ ہے سو اونٹ یا دو سو گائے یا دو ہزار بکریاں یا ہزار دینار یا بارہ ہزار درہم یا دو سو حلے (لباس)
لغوی وضاحت: لفظِ ديات دیتہ کی جمع ہے اس سے مراد ”خون بہا“ ہے ۔ یہ باب وَدَى يَدِى (ضرب) سے مصدر ہے جس کا معنی دیت دینا آتا ہے اور باب اتذي يَتدِى (افتعال) ”دیت لینا ۔ “
[المنجد: ص / 985 ، القاموس المحيط: ص / 1207]
شرعی تعریف: ایسا مال جو کسی جرم کی وجہ سے انسان پر واجب ہو۔
مشروعیت:
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ [النساء: 92]
”جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے ۔“
(دکتور وھبہ زحیلی ) اس کی مشروعیت پر اجماع ہے ۔
[الفقه الإسلامي وأدلته: 5703/7]
➊ حضرت عمرو بن حزم کی حدیث میں ہے کہ :
أن فى النفس الدية مائة من الإبل
”کسی بھی جان میں سو اونٹ دیت ہے ۔“
اس روایت میں یہ بھی ہے کہ :
وعلى أهل الذهب ألف دينار
”اور جن کے پاس سونا ہے ان پر ہزار دینار دیت ہے ۔“
[موطا: 849/2 ، دارمي: 188/2]
➋ عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ روایت ہے کہ :
قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن من كان عقله فى البقر على أهل البقرة مائتي بقرة ومن كان عقله فى الشاء على أهل الشاء ألفى شاة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ دیت میں جن کے پاس گائے ہیں ان پر دو سو گائے اور جن کے پاس بکریاں ہیں ان پر دو ہزار بکریوں کی ادائیگی ہے ۔“
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 2128 ، كتاب الديات: باب دية الخطأ ، ابن ماجة: 2630 ، ابو داود: 4541 ، نسائي: 4815 ، احمد: 6755 ، الفتح الرباني: 32/16]
➌ ایک اور روایت میں ہے کہ عہد رسالت میں دیت کی قیمت آٹھ سو (800) دینار یا آٹھ ہزار (8,000) درہم تھی اور اہل کتاب کی دیت مسلمانوں کی دیت کا نصف تھی لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، خلیفہ بنے تو خطبہ دیا کہ سنو! اونٹ مہنگے ہو گئے ہیں:
ففرضها عمر على أهل الذهب ألف دينار وعلى أهل الورق اثنى عشر ألفا ….. و على أهل الحلل مائتي حلة
”پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیت یوں مقرر کی کہ جن کے پاس سونا ہے ان پر ایک ہزار دینار ، جن کے پاس چاندی ہے ان پر بارہ (12) ہزار درہم ……. اور جن کے پاس حلے (لباس ) ہیں ان پر دو سو (200 ) حلوں کی ادائیگی ہے ۔“
[حسن: صحيح ابو داود: 3806 ، كتاب الديات: باب الدية كم هي ، ابو داود: 4542]
(شافعیؒ ) دیت میں اصل اونٹ ہیں ان کے علاوہ جو کچھ بھی دیا جائے گا وہ اونٹوں کی قیمت کے مطابق دیا جائے گا ۔
(ابو حنیفہؒ ) دیت سو اونٹ ، ہزار دینار یا دس ہزار درہم ہے ۔
(ابو یوسفؒ ، محمدؒ ) جن کے پاس اونٹ ہیں ان پر سو اونٹ جن کے پاس گائے ہیں ان پر دو سو گائے ، جن کے پاس بکریاں ہیں ان پر دو ہزار بکریاں اور جن کے پاس حلے (لباس ) ہیں ان پر ہزار حلے دیت ہے ۔
[الروضة الندية: 657/2 ، الأم للشافعي: 123/6 ، بدائع الصنائع: 4663/10 ، المغنى: 6/12 ، بداية المجتهد: 411/2]
(راجح ) امام شافعیؒ کا موقف راجح و برحق ہے ۔