مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مسلمان کا حرام و حلال کاروبار اور دینی چندہ قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

بعض مسلمان اپنی دکانوں پر حرام مشروبات مثلا شراب وغیرہ فروخت کرتے ہیں اور ساتھ ہی حلال اشیاء بھی بیچتے ہیں، ان کی کمائی کیسی ہے؟ ان سے دینی امور کے لیے چندہ لینا کیسا ہے؟ قرآن وحدیث کی رو سے مکمل راہنمائی فرمائیں۔

جواب :

سوال میں تین امور زیر بحث ہیں:
① مسلمان ہو کر حرام اشیاء فروخت کرنا۔
② ان سے دینی امور کے لیے چندہ لینا۔
③ اگر حرام کے ساتھ حلال کا کاروبار بھی ہو تو پھر ان سے امور دینیہ کے لیے چندہ وصول کرنا۔
① یاد رہے کہ کسی بھی مسلمان شخص کے لیے حرام اشیاء کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے۔ مسلمان وہ ہے جو اللہ تعالٰی اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی حرام کردہ اشیاء کو حرام جانے اور ان کی حلال کردہ اشیاء کو حلال جانے۔ مسلمان ہو کر منہیات کا ارتکاب کرے، یہ ہرگز جائز نہیں۔ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے مکہ مکرمہ میں فتح والے سال فرمایا تھا:”بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليه وسلم نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع حرام کر دی ہے۔“ کہا گیا: ”اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے بتادیں کہ اس کے ساتھ کشتیوں کو تیل لگایا جاتا ہے اور کھالوں کو تیل لگایا جاتا ہے، لوگ ان کے ساتھ روشنی حاصل کرتے ہیں؟“ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”نہیں، یہ حرام ہے۔“ پھر ساتھ ہی فرمایا:
”اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ و برباد کرے! جب اللہ نے چربی حرام کی تو انھوں نے اس کو پگھلایا اور پھر اسے فروخت کر کے اس کی قیمت کھا گئے۔“
(بخاری، کتاب البیوع، باب بيع الميتة والأصنام 2236، مسلم، كتاب المساقاة، باب تحريم بيع الخمر والميتة والخنزير والأصنام 1581)
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے شراب کے متعلق دس افراد میں لعنت کی ہے، شراب نچوڑنے والا ، نچڑوانے والا، پینے والا ، اٹھانے والا، جس کے لیے اٹھائی گئی۔ پلانے والا، بیچنے والا، اس کی قیمت کھانے والا ، خریدنے والا اور جس کے لیے خرید کی گئی۔
(ترمذی، أبواب البيوع، باب النهي أن ينبعث العنب خمرا 1295، ابن ماجه، كتاب الأشربة، باب لعنت الخمر على عشرة أوجه 3381)
لہذا حرام مشروبات وغیرہ فروخت کرنا اور خریدنا بھی حرام ہے اور شراب کی بیع کی بنا پر لعنت کا حق دار بنتا ہے۔ اس لیے مسلمان کو اپنی دکان پر حلال اشیاء بیچنی چاہیں اور حرام سے کلی اجتناب کرنا چاہیے۔
② جس شخص کا کاروبار حرام اشیاء پر مبنی ہو اس سے امور دینیہ کے لیے چندہ لینا جائز نہیں ہے، قرآن مقدس میں حرام اشیاء کو خبیث و پلید قرار دیا گیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ﴾
(الأعراف: 157)
”اللہ کا رسول ان کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کرتا اور ان پر خبیث چیزیں حرام کرتا۔“
لہذا پلید و خبیث چیز اللہ کی راہ میں نہیں دی جاسکتی۔ دوسرے مقام پر فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ ﴾
(البقرة: 267)
”اے ایمان والو! جو تم نے پاکیزہ چیزیں کمائی ہیں ان میں سے خرچ کرو۔“
اس آیت کریمہ میں حلال و پاکیزہ اشیاء خرچ کرنے کا حکم ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
”اللہ تعالی پاک ہے اور پاک چیز ہی قبول کرتا ہے اور یقینا اللہ نے ایمان والوں کو وہی حکم دیا ہے جو اس نے رسولوں کو حکم دیا، فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ﴾
(المؤمنون: 51)
”اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو“ اور فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ﴾
(البقرة: 172)
”اے ایمان والو! پاکیزہ اشیاء جو ہم نے تمھیں عطا کیں، ان میں سے کھاؤ۔“
(مسلم، كتاب الزكاة، باب قبول الصدقة من الكسب الطيب وتربيتها 1015/65)
لہذا مسلمان آدمی کو نیک کاموں میں حلال و طیب مال خرچ کرنا چاہیے۔ حرام و پلید اور خبیث و نجس مال سے اجتناب کرنا چاہیے، زمانہ جاہلیت میں کفار بھی بیت اللہ کی تعمیر میں حلال مال خرچ کرتے اور حرام سے بچتے تھے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں
أن أبا وهب قال لقريش لا تدخلوا فيه من كسبكم إلا الطيب ولا تدخلوا فيه مهر بغي ولا بيع ربا ولا مظلمة أحد من الناس
(فتح البارى 444/3)
”ابو وہب نے قریش سے کہا: بیت اللہ کی تعمیر میں صرف اپنی پاکیزہ کمائی ہی لگانا، اس کی تعمیر میں زنا کی کمائی، سودی رقم اور لوگوں میں سے کسی کی ظالمانہ کمائی خرچ نہ کرنا۔“
لیکن صد افسوس! آج مسلم کہلانے والے لوگ دینی امور، مساجد، مدارس، جہاد فی سبیل الله ، فقرا ومساکین اور یتامی و بیوگان وغیرہ پر خرچ کرتے وقت حلال و حرام کی پروا نہیں کرتے اور ہر طرح کا مال خرچ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
③ رہا مخلوط مال یعنی جس شخص کا کاروبار ایسا ہو کہ وہ حرام بھی بیچتا ہے اور حلال بھی تو ایسا آدمی امور دینیہ کے لیے چندہ دیتے وقت اگر یقین دلائے کہ جو مال وہ لے کر آیا ہے، اس میں حرام کی آمیزش نہیں، بلکہ یہ رقم صرف حلال اشیاء ہی کی ہے تو اس سے یہ چندہ لے لینا درست ہو گا۔ البتہ اگر وہ حلال و حرام کو خلط ملط کر دیتا ہے اور یہ یقین دہانی نہیں کراتا کہ جو مال وہ خرچ کرنے کے لیے لایا ہے وہ حلال ہی ہے تو ایسے شخص سے چندہ لینے سے اجتناب کیا جائے۔ اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
إن الحلال بين وإن الحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه وعرضه ومن وقع فى الشبهات وقع فى الحرام
(بخاري، كتاب الإيمان، باب فضل من استبرأ لدينه 52، مسلم، كتاب المساقاة، باب أخذ الحلال وترك الشبهات 1599)
”یقیناً حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں، جنھیں لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی، لہذا جو شخص شک و شبہ والی چیز سے بچ گیا اس نے اپنا دین اور اپنی عزت بچالی اور جو شخص مشتبہ اشیاء میں پڑ گیا تو وہ حرام میں واقع ہو گیا۔“
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے یہ بات حفظ کی ہے:
دع ما يريبك إلى ما لا يريبك
(ترمذى، كتاب صفة القيامة، باب حديث اعقلها وتوكلها 2518، مسند أحمد 200/1، ح: 1723)
”جو چیز تمھیں شک میں ڈالتی ہے اسے چھوڑ دو اس چیز کی طرف جو تمھیں شک میں نہیں ڈالتی۔“ لہذا مشتبہ ومشکوک کمائی سے اجتناب واحتراز کرنا چاہیے اور اگر کسی آدمی کی کمائی کے متعلق ہمیں علم ہی نہ ہو تو ہمیں اسے کریدنے کی کوئی حاجت نہیں، وہ مال لا کر دیتا ہے تو اسے وصول کیا جاسکتا ہے، اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔