سوال :
ایک حدیث بیان کی جاتی ہے: ”جس شخص نے بالشت برابر بھی جماعت المسلمین کی مخالفت کی، اس نے اپنی گردن سے اسلام کا پٹا اتار پھینکا۔“ (رواه الحاكم) کیا یہ روایت صحیح ہے؟
جواب :
یہ روایت مستدرک حاکم (117/1-119) میں موجود ہے اور صحیح ہے۔ اس کا مطلب جماعت المسلمین رجسٹرڈ کی مخالفت نہیں، بلکہ اس سے تمام مسلمانوں کی جماعت اور ان کا اتحاد مراد ہے۔ امام حاکم نے ابو بکر کی خلافت پر اس حدیث کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہاں امام سے مراد مسلمانوں کا خلیفہ ہے۔ اسحاق بن ابراہیم بن ہانی بیان کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے ”جو شخص مر گیا اور اس کا کوئی امام نہ تھا تو وہ جاہلیت کی موت مرا“ اس کا کیا مطلب ہے؟ تو انھوں نے کہا: تم جانتے ہو امام کون ہے؟ امام وہ ہے جس پر تمام مسلمان متفق ہو جائیں، ہر آدمی مانے کہ یہ امام ہے۔
(كتاب السنة للخلال ص 81)
مسند بزار (364/7) میں جماعہ المسلمین کی جگہ ”جماعة الناس“ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں، جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ لفظ ”جماعة المسلمين“ بطور علم نہیں، بلکہ اس سے مراد مسلمانوں کی جماعت، لوگوں کی جماعت اور ان کا اتحاد و اتفاق ہے۔
کئی لوگ احادیث میں لفظ ”جماعة المسلمين“ دیکھ کر اس سے اپنی مسلکی فرقے والی جماعت المسلمین مراد لیتے ہیں، حالانکہ کسی بھی حدیث میں اس جماعت المسلمین رجسٹرڈ کا ذکر تک نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب فرمائے اور کتاب و سنت کے ساتھ تمسک نصیب فرمائے۔ (آمین!)