مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مسجد گرا کر دکانیں بنانے کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 02

سوال

وہ جگہ جو نماز پڑھنے کے لیے وقف کر دی گئی ہو اور جس پر زمانہ دراز سے نماز پڑھی جاتی ہے۔ (یعنی وہ مسجد ہے) اس کو توڑ کر اس پر دکانیں بنوانا اور پھر ان دکانوں پر مسجد تعمیر کرنا مذہب اسلام میں جائز ہے یا نہیں، یہ دکانیں کرایہ پر دی جاتی ہیں، جس میں غیر مذہب کے لوگ خرید و فروخت کرتے ہیں۔

الجواب

جو مکان شرعی مسجد بن جائے اس پر دکانیں یا (سوائے سجدہ گاہ کے) اور کچھ بنانا جائز نہیں۔
﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ﴾ (فتاویٰ ثنائیہ جلد اول ص ۳۸۰)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔