مسجد کی دیواروں پر غیر اللہ سے مدد طلب کرنے والے اشعار کا حکم
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 02

سوال

محترم حافظ صاحب: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
ایک سوال ارسال ہے اس کا جواب ’’تنظیم اہل حدیث‘‘ میں شائع فرما کر ممنون فرمائیں۔
لائلپور ریل بازار کے راجہ چوک میں مسجد جامع ابرار کے نام سے موجود ہے جس کا نقشہ دیکھ کر ناظرین کو بات سمجھنے میں آسانی ہو گی۔
شمال
مشرق صحن مسجد مغرب
جنوب
جونہی ایک سادہ لوح مسلمان نماز کے لیے اور تلاش حق کی خاطر مسجد میں داخل ہوتا ہے تو صحن کی مغربی دیوار پر جو نظر پڑتی ہے، جس پر یہ شعر لکھا ہے:
غوث اعظم بمن بے سرو ساماں مددئے
قبلہ دیں مددے، کعبہ ایمان مددے
یہ شعر پڑھ کر جب کوئی نووارد متذبذب ہو کر دائیں طرف نظر کرتا ہے، تو اسے یہ شعر نظر آتا ہے،
گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل، کاملاں را راہ نما
اگر اس کی طبیعت اس سے بھی پریشان ہو، اور وہ بائیں طرف نظر کرے تو وہاں یہ شعر لکھا ہے،
شیئاً للہ چوں گدائے مستمند
المدد خواہم ز شاہ نقشبند
اگر وہ بیت اللہ میں غیر اللہ کے قبضہ مخالفانہ سے بیزار ہو کر واپس آنے لگے، تو اسے یہ شعر نظر آئے گا۔
بگرداب بلا افتاد کشتی
مدد کن یا معین الدین چشتی
اگر وہ اس پر بھاگنے کی کوشش کرے تو واپسی پر جوتا پہننا ضروری ہے، اس وقت مسجد کا وہ کمرہ جو سامنے پڑتا ہے۔ اس کے دروازہ کے پاس نصب شدہ سنگ بنیاد پر مولوی سردار محمد صاحب کے نام سے لگی ہوئی عبارت نظر پڑتی ہے۔ اس پر بہت کچھ لکھا ہے۔ گویا بہت بڑے مولوی صاحب کے نام سے اس مسجد کے جملہ اجزائے ترکیبی کی صحت کی ضمانت دی گئی ہے۔ انا للّٰہِ وإنا إلیه راجعون۔
اب آپ سے سوال ہے کہ
منزل پہ جسے اگر صورت یہ نظر آئے
بھولا ہوا وہ راہی جائے تو کدھر جائے۔

الجواب بعون الوھاب

ایسی مسجد میں نماز پڑھنے سے پرہیز کیا جائے اور ان لوگوں کے حق میں دعائے خیر کی جائے۔ اللہ رب العزت ان پر رحم فرمائے۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے۔
﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّـهِ أَحَدًا ﴾
’’مسجدیں اللہ کی یاد کے لیے ہیں، ان میں اللہ کے ساتھ کسی اور نہ پکارو‘‘
جو لوگ اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہ یقینا قابل رحم ہیں، قرآن مجید میں ہے۔
﴿وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُ‌هُم بِاللَّـهِ إِلَّا وَهُم مُّشْرِ‌كُونَ ﴾
(حافظ عبد القادر روپڑی، تنظیم اہل حدیث لاہور جلد ۲۲ ش ۲۸)

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے