مسجد کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں مسجد کا مقام، فضائل اور آداب

ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کو منظم کرتا ہے۔ اس دین میں مسجد کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ مسجد نہ صرف عبادت کا مقام ہے بلکہ مسلمانوں کے روحانی، اخلاقی اور معاشرتی تربیت کا مرکز بھی ہے۔
مسلمان دن اور رات میں بارہا مسجد کا رخ کرتے ہیں، وہاں اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں، دلوں کو سکون، روحوں کو طہارت اور ایمان کو تازگی بخشتے ہیں۔

اس مضمون میں ہم قرآن و سنت کی روشنی میں مسجد کی اہمیت، اس کی تعمیر و آبادکاری کے فضائل اور مساجد میں حاضر ہونے کے آداب بیان کریں گے، تاکہ ہم سب اللہ کے گھروں کی حرمت اور برکت کو صحیح طور پر سمجھ سکیں۔

❖ مسجد کی حیثیت اور اس کا مقام

’مسجد‘ اللہ تعالیٰ کا وہ گھر ہے جہاں بندے اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ہر طبقے اور ہر مرتبے کے لوگ ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر بندگی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک ہی قبلہ کی سمت رخ کر کے سب ایک ہی اللہ کو پکارتے ہیں۔

یہ وہ مقامِ رحمت ہے جہاں گناہگار بندے آنسو بہاتے ہیں، توبہ کرتے ہیں اور مغفرت کے طلبگار بنتے ہیں۔

❖ مسجد اللہ کی نسبت سے

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مسجد کو اپنی طرف منسوب کر کے اس کی عظمت واضح فرمائی:

ارشاد باری تعالیٰ:
﴿ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰٓی اُولٰٓئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ ﴾
[التوبۃ: 18]

ترجمہ:
“اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ امید ہے کہ یہی لوگ ہدایت یافتہ ہوں گے۔”

❖ آیتِ کریمہ سے حاصل ہونے والے نکات

اللہ کی نسبت:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا “مساجد اللہ کی ہیں”، یعنی مسجد کو اپنی طرف منسوب کیا۔ یہ اس کی عزت و شرف کی دلیل ہے۔

اہلِ ایمان کی نشانی:
اللہ تعالیٰ نے مسجدوں کی تعمیر و آبادکاری کا فریضہ مومنوں سے منسوب کیا — یعنی جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہی مسجد کو آباد رکھتا ہے۔

رسول ﷺ کی تائید:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

(إِذَا رَأَیْتُمُ الرَّجُلَ یَعْتَادُ الْمَسَاجِدَ فَاشْہَدُوا لَہُ بِالْإِیْمَانِ)
[ترمذی: 3093، ابن ماجہ: 802]
“جب تم کسی شخص کو مسجد میں آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو۔”

❖ مسجدوں کو ویران کرنے والے

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ وَسَعٰی فِیْ خَرَابِہَا ﴾
[البقرۃ: 114]

ترجمہ:
“اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے روکے اور ان کی ویرانی کی کوشش کرے؟”

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مسجد کو آباد کرنا ایمان کی علامت ہے، اور اسے ویران چھوڑ دینا ظلم اور محرومی ہے۔

❖ مسجد، ذکر و عبادت کا مرکز

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿ فِی بُیُوتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ ﴾
[النور: 36]

ترجمہ:
“ان گھروں میں (یعنی مسجدوں میں) جن کے بارے میں اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کو بلند کیا جائے اور ان میں اس کا نام یاد کیا جائے۔”

یہی وہ مقامات ہیں جہاں ایمان والے صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے، اس کے ذکر سے اپنے دلوں کو منور کرتے اور اس کی رحمت کے طلبگار بنتے ہیں۔

❖ رسول ﷺ کا فرمان

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

(أَحَبُّ الْبِلَادِ إِلَی اللّٰہِ مَسَاجِدُہَا، وَأَبْغَضُ الْبِلَادِ إِلَی اللّٰہِ أَسْوَاقُہَا)
[مسلم: 671]
“اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب جگہیں مسجدیں ہیں، اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہیں بازار ہیں۔”

❖ مساجد کی تعمیر اور آبادکاری کے فضائل

اسلام میں مساجد صرف عبادت کے مقامات نہیں بلکہ دین کی روحانی و معاشرتی زندگی کے مراکز ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعمیر و آبادکاری کو اہلِ ایمان کی پہچان قرار دیا ہے۔ مساجد کی تعمیر اور ان کو آباد رکھنا وہ عمل ہے جو بندے کے لیے دنیا و آخرت دونوں میں بھلائی اور نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔

❖ مسجد کی تعمیر ایمان کی علامت

قرآنِ کریم نے واضح کیا کہ مسجد کو آباد کرنا ایمان کی علامت ہے:
﴿ اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ﴾
[التوبۃ: 18]
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مسجد کی تعمیر، اس کی خدمت اور اس میں عبادت کرنا ایمان کی علامت اور مومن کے دل کی زندگی کی دلیل ہے۔

❖ مسجد کی تعمیر کا عظیم اجر

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
(مَنْ بَنٰی مَسْجِدًا لِلّٰہِ كَمَفْحَصِ قَطَاۃٍ أَوْ أَصْغَرَ، بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ)
[ابن ماجہ: 738، وصححہ الألبانی]
ترجمہ:
“جو شخص اللہ کے لیے مسجد بنائے، خواہ وہ پرندے کے گھونسلے کے برابر ہی کیوں نہ ہو، اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتا ہے۔”
یعنی مسجد کی تعمیر خواہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے جنت میں ایک عظیم محل عطا فرماتا ہے۔

❖ مسجد بنانا صدقۂ جاریہ ہے

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
(إِنَّ مِمَّا یَلْحَقُ الْمُؤْمِنَ مِنْ عَمَلِہِ بَعْدَ مَوْتِہِ … أَوْ مَسْجِدًا بَنَاہُ …)
[ابن ماجہ: 242، وحسنہ الألبانی]
ترجمہ:
“وہ اعمال جن کا ثواب مومن کو اس کی موت کے بعد بھی ملتا رہتا ہے ان میں سے ایک عمل مسجد بنانا بھی ہے۔”
یعنی جو شخص مسجد بناتا ہے، وہ دراصل ایسا عمل کرتا ہے جس کا اجر و ثواب مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔

❖ مساجد کو آباد رکھنے کی فضیلت

اسلام صرف مسجد بنانے کا حکم نہیں دیتا بلکہ اسے آباد رکھنے کی بھی تاکید کرتا ہے — یعنی وہاں نمازوں کی پابندی، ذکر و تلاوت، علم و تعلیم، اور اصلاحِ امت کے حلقے قائم ہوں۔

نبی ﷺ نے فرمایا:
(سَبْعَۃٌ یُظِلُّہُمُ اللّٰہُ فِی ظِلِّہٖ یَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّہُ … وَرَجُلٌ قَلْبُہُ مُعَلَّقٌ فِی الْمَسَاجِدِ)
[بخاری: 660، مسلم: 1031]
ترجمہ:
“سات افراد ایسے ہیں جنہیں اللہ اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا، ان میں وہ شخص بھی شامل ہے جس کا دل مسجد سے لگا ہوا ہو۔”
یعنی جو بندہ مسجد سے محبت کرتا ہے اور اسے آباد رکھتا ہے، قیامت کے دن وہ اللہ کے خاص سائے میں ہوگا۔

❖ مسجد کی طرف چلنے کے اجر و ثواب

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(مَنْ تَطَہَّرَ فِی بَیْتِہِ ثُمَّ مَشٰی إِلٰی بَیْتٍ مِّنْ بُیُوْتِ اللّٰہِ … کَانَتْ خُطْوَتَاہُ إِحْدَاہُمَا تَحُطُّ خَطِیْئَۃً وَالْأُخْرٰی تَرْفَعُ دَرَجَۃً)
[مسلم: 666]
ترجمہ:
“جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے، پھر اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر کی طرف نماز کے لیے چلے، تو اس کے ہر قدم پر ایک گناہ مٹایا جاتا ہے اور ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے۔”

❖ اندھیروں میں مسجد کی طرف جانے والے

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
(بَشِّرِ الْمَشَّائِیْنَ فِی الظُّلَمِ إِلَی الْمَسَاجِدِ بِالنُّوْرِ التَّامِّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)
[ابو داؤد: 561، ترمذی: 223]
ترجمہ:
“ان لوگوں کو خوشخبری دے جو اندھیروں میں مسجد کی طرف چل کر جاتے ہیں کہ قیامت کے دن انہیں مکمل نور عطا کیا جائے گا۔”

❖ مسجد میں بار بار آنا ایمان کی گواہی ہے

نبی ﷺ نے فرمایا:
(إِذَا رَأَیْتُمُ الرَّجُلَ یَعْتَادُ الْمَسَاجِدَ فَاشْہَدُوا لَہُ بِالْإِیْمَانِ)
[ترمذی: 3093]
ترجمہ:
“جب تم کسی شخص کو مسجد میں آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو۔”
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ مسجد سے محبت ایمان کی علامت ہے، اور مسجد سے بے رغبتی نفاق کی نشانی۔

❖ مساجد اہلِ تقویٰ کے گھر

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ فِی بُیُوتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ … رِجَالٌ لَا تُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ ﴾
[النور: 36-37]
ترجمہ:
“یہ وہ لوگ ہیں جنہیں نہ تجارت اور نہ خرید و فروخت اللہ کے ذکر، نماز اور زکوٰۃ سے غافل کرتی ہے۔”
یعنی مسجد کے آبادکار وہ بندے ہیں جن کے دل دنیاوی مشاغل میں الجھ کر بھی اللہ کے ذکر سے غافل نہیں ہوتے۔

❖ مسجد میں باجماعت نماز کی اہمیت و فضیلت

اسلام میں باجماعت نماز کو خاص مقام حاصل ہے۔ یہ نہ صرف مسلمانوں کے درمیان اتحاد، مساوات اور اخوت کا مظہر ہے بلکہ ایمان و عمل کی علامت بھی ہے۔ مسجد وہ مقام ہے جہاں مومن اپنے رب کے حضور عاجزی کے ساتھ جھکتا ہے، اپنے بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوتا ہے اور عبادت میں اجتماعیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

❖ قرآن میں باجماعت نماز کا حکم

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿ وَأَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَآتُوا الزَّکٰوۃَ وَارْکَعُوا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ﴾
[البقرۃ: 43]
ترجمہ:
“نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کیا کرو۔”

اس آیت میں “رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو” کا مطلب ہے کہ نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جائے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ باجماعت نماز ادا کرنا محض مستحب نہیں بلکہ واجب اور مؤمنین کی علامت ہے۔

❖ اذان سننے کے باوجود مسجد نہ آنا

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
(مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ یَأْتِہِ فَلَا صَلَاۃَ لَہُ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ)
[ترمذی: 217، ابن ماجہ: 793، وصححہ الألبانی]
ترجمہ:
“جو شخص اذان سنے اور مسجد میں حاضر نہ ہو تو اس کی نماز (قبول) نہیں، سوائے اس کے کہ اس کے پاس کوئی شرعی عذر ہو۔”

یعنی اذان سننے کے باوجود مسجد میں حاضر نہ ہونا نبی ﷺ کی نظر میں ناقابلِ قبول عمل ہے۔

❖ نابینا صحابی کا واقعہ

حضرت ابن اُمّ مکتومؓ — جو نابینا اور عمر رسیدہ صحابی تھے — نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:
“اے اللہ کے رسول! میرا گھر دور ہے، راستے میں درخت، جانور اور خطرات ہیں، اور میرا کوئی رہنما نہیں جو مجھے مسجد لے جائے۔ کیا مجھے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے؟”

نبی ﷺ نے پہلے اجازت دی، لیکن جب آپ ﷺ نے دریافت فرمایا:
“کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو؟”
انہوں نے کہا: “جی ہاں، سنتا ہوں۔”

تو آپ ﷺ نے فرمایا:
(فَأَجِبْ)
“تو پھر (اذان کا) جواب دو — یعنی مسجد میں آؤ.”
[مسلم: 653]
یہ واقعہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ مسجد میں آ کر باجماعت نماز ادا کرنا اہلِ ایمان کے لیے لازم ہے۔

❖ صحابہ کرام کی اہتمامِ نماز

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرمایا کرتے تھے:
(وَمَا یَتَخَلَّفُ عَنْہَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ)
[مسلم: 654]
ترجمہ:
“ہم نے دیکھا کہ نبی ﷺ کے زمانے میں باجماعت نماز سے صرف وہ شخص پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق سب کو معلوم ہوتا تھا۔”

انہوں نے مزید فرمایا:
“ہم ایسے لوگوں کو دیکھتے تھے کہ اگر کوئی شخص دو آدمیوں کا سہارا لے کر بھی چل سکتا تو اسے مسجد میں لا کر صف میں کھڑا کیا جاتا تھا۔”

یہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ باجماعت نماز نفاق سے براءت کی علامت ہے۔

❖ نبی ﷺ کا سخت انتباہ

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(لَقَدْ ہَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا یُّصَلِّی بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَی رِجَالٍ یَّتَخَلَّفُونَ عَنْہَا، فَأَمُرَ بِہِمْ فَیُحَرِّقُوا عَلَیْہِمْ بُیُوتَہُمْ)
[بخاری: 644، مسلم: 651]
ترجمہ:
“میرا ارادہ ہوا کہ کسی شخص کو نماز پڑھانے کا حکم دوں، پھر میں ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز کے لیے نہیں آتے، اور ان کے گھروں کو ان سمیت آگ لگا دوں۔”

یہ شدید وعید ظاہر کرتی ہے کہ مسجد میں باجماعت نماز چھوڑنا کتنا بڑا جرم ہے۔

❖ باجماعت نماز کے روحانی فوائد

ایمانی اتحاد: باجماعت نماز مسلمانوں کے درمیان اخوت، برابری اور اتحاد کا عملی مظہر ہے۔

روحانی تربیت: ہر نماز میں بندہ اپنے رب کے سامنے جھک کر عاجزی سیکھتا ہے۔

اللہ کی رحمت کا نزول: مسجد میں اجتماعی عبادت کے وقت اللہ تعالیٰ کی رحمت اور سکینت نازل ہوتی ہے۔

فرشتوں کی دعا: مسجد میں بیٹھے رہنے والے کے لیے فرشتے دعا کرتے ہیں:
“اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لَہُ، اَللّٰہُمَّ تُبْ عَلَیْہِ”

"اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما (یعنی اس کی توبہ قبول فرما اور اس کی خطاؤں سے درگزر فرما).”

[بخاری: 2119، مسلم: 649]

❖ باجماعت نماز کا اجر

نبی ﷺ نے فرمایا:
(صَلَاۃُ الرَّجُلِ فِیْ جَمَاعَۃٍ تَزِیْدُ عَلٰی صَلَاَتِہٖ فِیْ بَیْتِہٖ وَسُوْقِہٖ بِضْعًا وَّعِشْرِیْنَ دَرَجَۃً)
[بخاری: 2119، مسلم: 649]
ترجمہ:
“آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز، اس کی گھر یا بازار میں اکیلے پڑھی گئی نماز سے کم از کم پچیس درجے افضل ہے۔”

اور ایک روایت میں ہے:
“ستائیس درجے زیادہ ثواب دیا جاتا ہے۔”

❖ مساجد میں تعلیم، تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی کی برکتیں

اسلام نے مساجد کو صرف نماز کے لیے مخصوص نہیں کیا بلکہ انہیں علم، ذکر، تلاوت اور اصلاحِ امت کے مراکز بنایا ہے۔ ابتدائے اسلام سے ہی مسجد نبوی ﷺ صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ تعلیم و تربیت، قضاء و مشاورت اور دعوتِ دین کا مرکز تھی۔

❖ قرآن سیکھنے اور پڑھنے کی فضیلت

حضرت عقبہ بن عامرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن مسجد کے صُفّہ میں تشریف لائے اور فرمایا:

“تم میں سے کون چاہتا ہے کہ وہ ہر روز صبح سویرے بطحان یا عقیق کے بازار جائے اور وہاں سے دو موٹی، خوبصورت اونٹنیاں بغیر کسی گناہ اور قطع رحمی کے حاصل کرے؟”

ہم نے عرض کیا: “اے اللہ کے رسول! ہم سب یہ چاہتے ہیں۔”

آپ ﷺ نے فرمایا:
(أَفَلَا یَغْدُو أَحَدُکُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَیَعْلَمَ أَوْ یَقْرَأَ آیَتَیْنِ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ خَیْرٌ لَہُ مِنْ نَاقَتَیْنِ …)
[مسلم: 803]
ترجمہ:
“کیا ایسا نہیں کہ تم میں سے کوئی صبح مسجد میں آ کر قرآن کی دو آیات پڑھ لے یا سیکھ لے؟ یہ اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے، اور تین آیات تین اونٹنیوں سے، اور چار آیات چار اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔”

یعنی مسجد میں قرآن سیکھنا، سکھانا اور تلاوت کرنا دنیاوی نعمتوں سے بھی زیادہ افضل اور نفع بخش ہے۔

❖ مسجد میں حلقاتِ قرآن و علم

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
(مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِی بَیْتٍ مِّنْ بُیُوْتِ اللّٰہِ یَتْلُونَ کِتَابَ اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُونَہُ بَیْنَہُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَیْہِمُ السَّکِیْنَۃُ، وَغَشِیَتْہُمُ الرَّحْمَۃُ، وَحَفَّتْہُمُ الْمَلَائِکَۃُ، وَذَکَرَہُمُ اللّٰہُ فِیْمَنْ عِنْدَہُ)
[مسلم: 2699]
ترجمہ:
“جب بھی کچھ لوگ اللہ کے گھروں میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے اور اسے آپس میں سیکھتے ہیں، تو ان پر سکون نازل ہوتا ہے، اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے خاص مقربین کے سامنے فرماتا ہے۔”

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ مسجد میں قرآن اور علم کا حلقہ اللہ کی خاص رحمتوں کا مقام بن جاتا ہے۔

❖ ذکر و شکر کے اجتماعات

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہؓ مسجد میں داخل ہوئے تو کچھ لوگ حلقے میں بیٹھے ہوئے اللہ کا ذکر کر رہے تھے۔
انہوں نے پوچھا: “تم کیوں بیٹھے ہو؟”
انہوں نے کہا: “ہم یہاں اللہ کو یاد کرنے اور اس کا شکر ادا کرنے کے لیے بیٹھے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی ہدایت دی۔”

حضرت معاویہؓ نے کہا: “اللہ کی قسم! تم صرف اسی نیت سے بیٹھے ہو؟”
انہوں نے کہا: “ہاں، اللہ کی قسم! صرف اسی لیے۔”

تو حضرت معاویہؓ نے کہا: “میں نے تمہیں جھوٹا نہیں سمجھا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے بھی ایک دن ایسے لوگوں کو دیکھا تھا اور ان سے یہی سوال کیا تھا۔ پھر فرمایا تھا:”
(إِنَّہُ أَتَانِیْ جِبْرِیْلُ فَأَخْبَرَنِیْ أَنَّ اللّٰہَ یُبَاہِیْ بِکُمُ الْمَلَائِکَۃَ)
[مسلم: 2701]
ترجمہ:
“جبریلؑ میرے پاس آئے اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذکر و شکر کی وجہ سے تم پر فرشتوں کے سامنے فخر کر رہا ہے۔”

یعنی مسجد میں بیٹھ کر ذکرِ الٰہی کرنا اتنا محبوب عمل ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر اپنے مقرب فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار کرتا ہے۔

❖ مسجد میں علمِ دین حاصل کرنا نبی ﷺ کی میراث ہے

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن وہ مدینہ کے بازار گئے اور فرمایا:
“تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم یہاں بیٹھے ہو، حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی میراث مسجد میں تقسیم ہو رہی ہے؟”

لوگ حیران ہو کر پوچھنے لگے: “اللہ کے رسول ﷺ کی میراث کہاں تقسیم ہو رہی ہے؟”
انہوں نے کہا: “مسجد میں!”

لوگ مسجد میں گئے، مگر وہاں کوئی مال یا خزانہ نہ پایا — بلکہ کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، کچھ قرآن پڑھ رہے تھے، کچھ حلال و حرام کے مسائل سیکھ رہے تھے۔
واپس آ کر انہوں نے کہا: “ابو ہریرہ! ہمیں تو کوئی مال تقسیم ہوتا نظر نہیں آیا۔”

انہوں نے فرمایا:
“افسوس تم پر! یہی تو محمد ﷺ کی وراثت ہے — علمِ دین!”
[الطبرانی، صحیح الترغیب والترہیب: 83]

یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ مسجد میں علم حاصل کرنا دراصل نبی ﷺ کی حقیقی وراثت میں حصہ پانے کے مترادف ہے۔

❖ مسجدوں کو علم و ہدایت کا مرکز بنانا

مساجد میں دروسِ قرآن و حدیث، فقہی تعلیم، اور اصلاحی تربیت کے حلقے قائم کرنا نہ صرف مساجد کو آباد رکھتا ہے بلکہ معاشرے کو گمراہی سے محفوظ اور ہدایت سے منور کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مسجد نبوی ﷺ سے اسلام کی دعوت دنیا کے کونے کونے تک پھیلی، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے اپنے علاقوں میں مسجدوں کو تعلیم و تربیت کے ادارے بنایا۔

❖ مساجد کے آداب اور شرعی احکام

اللہ تعالیٰ نے مساجد کو اپنی عبادت، ذکر، تلاوت اور تعلیمِ دین کے لیے مخصوص فرمایا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ان کے آداب کا احترام کرے، ان کی صفائی و تقدیس کا اہتمام کرے، اور وہاں ایسے افعال سے بچے جو ان کے تقدس کے منافی ہوں۔

قرآن و سنت نے ہمیں مساجد میں آنے، رہنے، عبادت کرنے، اور دوسروں کے حقوق کا لحاظ رکھنے کے واضح اصول سکھائے ہیں۔

❖ مسجد کی صفائی اور خوشبو

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
(أَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِی الدُّوْرِ وَأَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَیَّبَ)
[ابو داؤد: 455، ترمذی: 594]
ترجمہ:
“رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں، انہیں صاف رکھا جائے اور خوشبودار کیا جائے۔”

مسجد چونکہ اللہ کا گھر ہے، اس لیے وہ صفائی و طہارت کے سب سے زیادہ حق دار ہیں۔

❀ مسجد کی صفائی کرنے والوں کی فضیلت

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک سیاہ فام عورت مسجد کی صفائی کرتی تھی۔ جب وہ وفات پا گئی تو رسول اللہ ﷺ کو اطلاع نہ دی گئی۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا:

“تم نے مجھے کیوں نہ بتایا؟ مجھے اس کی قبر بتاؤ۔”

پھر آپ ﷺ اس کی قبر پر گئے اور اس کی نماز جنازہ ادا کی۔
[بخاری: 1337، مسلم: 956]

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مسجد کی خدمت اور صفائی اللہ کے نزدیک کتنا عظیم عمل ہے، کہ نبی ﷺ نے اس معمولی خادمہ کی قبر پر جا کر نماز ادا کی۔

❖ مسجد کو گندگی اور ناپاکی سے پاک رکھنا

حضرت انسؓ سے روایت ہے:
ایک دیہاتی مسجد میں آیا اور اس نے مسجد کے اندر پیشاب کرنا شروع کر دیا۔ صحابہؓ غصے سے اس کی طرف لپکے تو نبی ﷺ نے فرمایا:
(لَا تُزْرِمُوہُ، دَعُوہُ)
“اسے مت روکو، چھوڑ دو۔”

پھر جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
(إِنَّ ہٰذِہِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَیْءٍ مِّنْ ہٰذَا الْبَوْلِ وَلَا الْقَذَرِ، إِنَّمَا ہِیَ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَالصَّلَاۃِ وَقِرَاءَۃِ الْقُرْآنِ)
[مسلم: 285]
ترجمہ:
“یہ مسجدیں پیشاب اور گندگی کے لیے نہیں بنائی گئیں، بلکہ اللہ کے ذکر، نماز اور قرآن کی تلاوت کے لیے ہیں۔”

پھر آپ ﷺ نے وہاں پانی بہانے کا حکم دیا۔

❖ بدبودار چیزیں کھا کر مسجد آنا منع ہے

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
(مَنْ أَكَلَ ثَوْمًا أَوْ بَصَلًا فَلْیَعْتَزِلْنَا، أَوْ لِیَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا)
[بخاری: 855، مسلم: 564]
ترجمہ:
“جس نے لہسن یا پیاز کھایا ہو وہ ہم سے دور رہے یا ہماری مسجد میں نہ آئے۔”

ایک اور روایت میں ہے:
“فرشتوں کو بھی وہی چیز اذیت دیتی ہے جو انسانوں کو دیتی ہے۔”
[مسلم: 564]

یعنی مسجد میں ایسی کوئی چیز کھا کر نہ آنا چاہیے جس سے دوسروں کو بدبو یا تکلیف پہنچے۔

❖ مسجد میں آراستہ و صاف لباس پہننا

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ یٰبَنِیْ آدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ ﴾
[الأعراف: 31]
ترجمہ:
“اے آدم کی اولاد! ہر مسجد میں آتے وقت اپنی زینت اختیار کرو (یعنی اچھا لباس پہنو)۔”

نماز کے وقت گندا، پسینے والا یا ادھورا لباس پہن کر مسجد آنا بے ادبی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
(إِذَا صَلَّی أَحَدُكُمْ فَلْیَلْبَسْ ثَوْبَیْہِ، فَإِنَّ اللّٰہَ أَحَقُّ أَنْ یُتَزَیَّنَ لَہُ)
[البیہقی، صحیح الثمر المستطاب 1/286]
“جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے کپڑے مکمل پہنے، کیونکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کے لیے زینت اختیار کی جائے۔”

❖ مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے کے آداب

حضرت انسؓ فرماتے ہیں:
“نبی ﷺ کی سنتوں میں سے ہے کہ جب مسجد میں داخل ہو تو دایاں پاؤں اندر رکھے اور جب نکلے تو بایاں پاؤں پہلے باہر نکالے۔”
[الحاکم، صحیح علی شرط مسلم]

مسنون دعا:

مسجد میں داخل ہوتے وقت:
“اَللّٰهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ”
“اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔”

مسجد سے نکلتے وقت:
“اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ”
“اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں۔”
[ابو داؤد: 465]

❖ تحیۃ المسجد ادا کرنا

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
(إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلَا یَجْلِسْ حَتَّى یُصَلِّيَ رَكْعَتَیْنِ)
[بخاری: 1163]
“جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت (تحیۃ المسجد) پڑھ لے۔”

یہ نماز مسجد کے احترام اور بندگی کے جذبے کا اظہار ہے۔ اگر کوئی شخص فرض نماز کی جماعت میں شامل ہو جائے تو وہی نماز اس کے لیے تحیۃ المسجد کے قائم مقام ہوگی۔

❖ مسجد میں ممنوع امور اور مزید آداب

مساجد اللہ کے گھر ہیں، جہاں بندہ اپنے رب کے قریب ہوتا ہے۔ اس لیے وہاں ایسے تمام کاموں سے اجتناب لازم ہے جو مسجد کی روحانیت، تقدس یا سکون کو متاثر کرتے ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے متعدد احادیث میں مسجد کے آداب کی وضاحت فرمائی اور ان امور سے منع کیا جو اس کی حرمت کے خلاف ہیں۔

❖ نمازی کے سامنے سے گزرنا ممنوع ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(لَوْ یَعْلَمُ الْمَارُّ بَیْنَ یَدَیِ الْمُصَلِّی مَاذَا عَلَیْہِ، لَکَانَ أَنْ یَقِفَ أَرْبَعِیْنَ خَیْرًا لَہُ مِنْ أَنْ یَمُرَّ بَیْنَ یَدَیْہِ)
[بخاری: 510، مسلم: 507]
ترجمہ:
“اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والا جان لے کہ اس پر کتنا بڑا گناہ ہے تو وہ چالیس (دن یا سال) تک کھڑا رہنا بہتر سمجھے گا بجائے اس کے کہ نمازی کے آگے سے گزرے۔”

نماز پڑھنے والے کے سامنے سترہ (رکاوٹ یا پردہ) ہونا چاہیے، تاکہ کوئی اس کے آگے سے نہ گزرے۔

❖ سترہ کے سامنے نماز پڑھنا

نبی ﷺ نے فرمایا:
(إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْیُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ وَلْیَدْنُ مِنْهَا)
[ابو داؤد: 698]
ترجمہ:
“جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنا چاہے تو کسی سترہ (رکاوٹ) کی طرف رخ کرے اور اس کے قریب کھڑا ہو۔”

سترہ دیوار، ستون، کرسی یا آگے کھڑا شخص بھی ہو سکتا ہے۔

❖ مسجد میں خرید و فروخت منع ہے

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
(إِذَا رَأَیْتُمْ مَنْ یَبِیْعُ أَوْ یَبْتَاعُ فِی الْمَسْجِدِ، فَقُولُوا: لَا أَرْبَحَ اللّٰہُ تِجَارَتَکَ)
[ترمذی: 1321]
ترجمہ:
“جب تم مسجد میں کسی کو خرید و فروخت کرتے دیکھو تو کہو: اللہ تمہاری تجارت میں برکت نہ دے۔”

مسجد عبادت و ذکر کے لیے ہے، تجارت اور کاروبار کے لیے نہیں۔

❖ مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرنا حرام ہے

نبی ﷺ نے فرمایا:
(مَنْ سَمِعَ رَجُلًا یَنْشُدُ ضَالَّةً فِی الْمَسْجِدِ فَلْیَقُلْ: لَا رَدَّهَا اللّٰہُ عَلَیْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهٰذَا)
[مسلم: 568]
ترجمہ:
“جو کسی شخص کو مسجد میں اپنی گمشدہ چیز کا اعلان کرتے سنے تو کہے: اللہ اسے تمہیں واپس نہ کرے، کیونکہ مسجدیں اس مقصد کے لیے نہیں بنائی گئیں۔”

❖ مسجد میں آواز بلند کرنا

نبی ﷺ مسجد میں اعتکاف میں تھے۔ کچھ لوگوں نے بلند آواز میں تلاوت شروع کی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
(أَلَا إِنَّ كُلَّكُمْ مُنَاجٍ رَبَّهُ، فَلَا یُؤْذِیَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَلَا یَرْفَعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِی الْقِرَاءَةِ)
[ابو داؤد: 1332]
ترجمہ:
“یاد رکھو! تم میں سے ہر شخص اپنے رب سے مناجات کر رہا ہے، لہٰذا ایک دوسرے کو اذیت نہ دو، اور تلاوت میں اپنی آواز ایک دوسرے سے اونچی نہ کرو۔”

یعنی مسجد میں شور، چیخ و پکار، یا بلند آواز سے بات کرنا مکروہ ہے۔

❖ اذان کے بعد مسجد سے باہر جانا منع ہے

ابو الشعثاءؒ بیان کرتے ہیں کہ ہم مسجد میں حضرت ابو ہریرہؓ کے ساتھ بیٹھے تھے، اذان ہوئی تو ایک شخص مسجد سے باہر چلا گیا۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا:
(أَمَّا هٰذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ ﷺ)
[مسلم: 655]
ترجمہ:
“اس شخص نے ابوالقاسم (نبی ﷺ) کی نافرمانی کی ہے۔”

یعنی اذان کے بعد مسجد چھوڑنا بے ادبی اور سنت کے خلاف عمل ہے۔

❖ عورتوں کے لیے مسجد کے آداب

عورتوں کو مسجد آنے کی اجازت ہے، مگر شرط یہ ہے کہ وہ مکمل پردے کے ساتھ، خوشبو سے پرہیز کرتے ہوئے آئیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللّٰہِ مَسَاجِدَ اللّٰہِ، وَلَكِنْ بُیُوتُهُنَّ خَیْرٌ لَهُنَّ)
[ابو داؤد: 567]
ترجمہ:
“اللہ کی بندیوں کو مسجد آنے سے نہ روکو، لیکن ان کے لیے ان کے گھر بہتر ہیں۔”

اور فرمایا:
(أَیُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدْ مَعَنَا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ)
[مسلم: 444]
ترجمہ:
“جو عورت خوشبو لگا کر آئے، وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز نہ پڑھے۔”

❖ مسجد میں نفل نماز گھروں میں ادا کرنا افضل ہے

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
(فَصَلُّوا أَیُّهَا النَّاسُ فِی بُیُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الْمَرْءِ فِی بَیْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ)
[بخاری: 731، مسلم: 781]
ترجمہ:
“لوگو! اپنی کچھ نمازیں گھروں میں بھی پڑھا کرو، کیونکہ فرض نماز کے سوا سب سے افضل نماز وہ ہے جو بندہ اپنے گھر میں پڑھے۔”

❖ مسجد کو قبرستان نہ بناؤ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(اجْعَلُوا فِی بُیُوتِكُمْ مِنْ صَلَاتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا)
[بخاری: 432، مسلم: 777]
“اپنے گھروں میں بھی نماز کا حصہ رکھو اور انہیں قبرستان مت بناؤ۔”

یعنی نوافل گھروں میں پڑھنے سے گھروں میں برکت اور ایمان کی تازگی رہتی ہے۔

🌷 نتیجہ

مساجد دراصل زمین پر اللہ کے گھروں کا درجہ رکھتی ہیں۔
یہ ایمان والوں کے دلوں کا سکون، روحوں کا مرکز، اور امت کے اتحاد کی علامت ہیں۔ جو شخص مسجدوں سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرماتا ہے، اور جو مسجدوں کو آباد کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے ایمان کو زندہ رکھتا ہے۔

مسلمانوں کی عزت، روحانیت، اور وحدت مسجد سے وابستہ ہے۔
جس دل کو مسجدوں سے لگاؤ ہو، وہ دل ایمان سے منور ہوتا ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
(مَنْ بَنَى لِلّٰہِ مَسْجِدًا بَنَى اللّٰہُ لَهُ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ)
[بخاری: 450، مسلم: 533]
ترجمہ:
“جو شخص اللہ کے لیے مسجد بنائے، اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتا ہے۔”

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ:
❀ مسجدوں کی تعمیر و آبادکاری میں حصہ لیں۔
❀ باجماعت نماز کی پابندی کریں۔
❀ مسجد کے آداب و حرمت کو لازم سمجھیں۔
❀ مسجد کو علم و ذکر کے مرکز کے طور پر زندہ رکھیں۔

اگر امتِ مسلمہ اپنی مساجد کو آباد کر دے تو یقیناً ایمان کی تازگی، اخلاق کی بلندی اور وحدتِ امت کا منظر دوبارہ زندہ ہو جائے گا۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️