مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مسجد کو مقفل کرنے کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 02

سوال

مسجد کو مقفل کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟

الجواب

مسجد کو مقفل کرنا درست نہیں، مسجد کو ہر وقت کھلا رہنا چاہیے، تاکہ جس کا جس وقت جی چاہے، اس میں جا کر اللہ کا ذکر کرے، اور مسجد کو مقفل رکھنا گویا اس میں ذکر اللہ کرکرنے سے لوگوں کو روکنا ہے۔
وقال اللّٰه تعالىٰ ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللَّـهِ أَن يُذْكَرَ‌ فِيهَا اسْمُهُ﴾
’’جو آدمی مسجد میں اللہ کا نام لینے سے روکے، اس سے بڑھ کر اور کون ظالم ہو سکتا ہے۔‘‘
ہاں اگر مسجد کی چیزوں کو چوری ہونے کاخوف ہو، اور مقفل کرنے سے اس میں ذکر اللہ سے رکاوٹ و ممانعت لازم نہ آتی ہو، تو ایسی صورت میں مسجد کو مقفل کرنے میں کوئی مضائقہ معلوم نہیں ہوتا۔ والله أعلم وعلمه أتم (حررہ السید عبد الحفیظ، سید محمد نذیر حسین، فتاویٰ نذیریہ جلد اول ص ۳۵۶)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔