مسجد میں نماز عیدین پڑھنے کا حکم

یہ اقتباس الشیخ محمد منیر قمر کی کتاب احکام مساجد سے ماخوذ ہے۔

مسجد میں نماز عیدین

آداب و احکامِ مسجد کے ضمن میں کتنے ہی ایسے امور کا تذکرہ کیا جا چکا ہے جو مسجد میں ناجائز و ممنوع ہیں۔ لیکن ہمارے لوگ اس معاملے میں لاعلمی کی وجہ سے پرہیز نہیں کرتے۔ اور بعض امور ایسے ہیں کہ وہ بظاہر ممنوع سمجھے جاتے ہیں، لیکن وہ دراصل جائز و روا ہیں۔ اور بعض امور کی بعض صورتیں جائز اور بعض ناجائز ہیں۔
نیل الاوطار 335/2/1
اور وہ امور جو صرف بوقتِ ضرورت مسجد میں جائز ہیں. انہی میں سے ایک نماز عیدین بھی ہیں۔ اگرچہ اس کے لیے افضل یہی ہے کہ نماز عیدین شہر یا گاؤں سے باہر بنائی گئی عیدگاہ یا کھلی جگہ پر پڑھی جائے۔ کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ کی ”کتاب الام“ کے حوالے سے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ:
ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ مدینہ طیبہ کی عیدگاہ میں جا کر نماز عید پڑھا کرتے تھے، جو کہ عمر بن شبہ کی کتاب ”اخبار المدینہ“ کے مطابق مسجد نبوی سے ایک ہزار ہاتھ یا گز دوری پر واقع تھی۔
فتح الباری 449/2
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء رضی اللہ عنہم اور اہل مکہ کے سوا عام شہروں کے لوگوں کا بھی یہی طرزِ عمل رہا، سوائے کسی عذر کے۔ اور مسجد میں عید کے جواز سے قطع نظر اس بات میں اہل علم کا اختلاف ہے کہ افضل کیا ہے؟ مسجد میں یا باہر عیدگاہ میں۔ اور امام مالک رحمہ اللہ باہر عیدگاہ کی افضلیت کے ہی قائل ہیں۔ اور ان کا استدلال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مسجد نبوی کی فضیلت کے باوجود بھی ہمیشہ باہر عیدگاہ میں جا کر نماز پڑھنے سے ہی ہے۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ مسجد میں نماز عید کے افضل ہونے کے قائل ہیں. اور امام شوکانی اور زرکشی رحمہ اللہ کا رجہان عیدگاہ میں عیدین کی افضیلت کی طرف ہے۔
نیل الاوطار 163/4/2، طبع الریاض – اعلام المساجد ص 385
اور عذر کی حالت میں ظاہر ہے کہ عام حالت کی نسبت گنجائش ہوتی ہے۔ یہی معاملہ یہاں بھی ہے کہ اگر مثلاً بارش ہو رہی ہو یا بارش آنے کا غالب خدشہ موجود ہو۔ اور عیدگاہ میں جانا مشکل ہو تو ایسے میں کسی بڑی مسجد میں بھی عید کی نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ بلکہ اس سلسلے میں ایک حدیث بھی پیش کی جاتی ہے جو ابوداؤد اور ابن ماجہ اور مستدرک حاکم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں وہ بیان فرماتے ہیں:
انه اصابهم مطر فى يوم العيد فصلىٰ بهم النبى صلى الله عليه وسلم صلوٰة العيد فى المسجد
ایک مرتبہ عید کے دن بارش تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز عید مسجد میں پڑھائی۔
ضعیف ابی داؤد ص 112، 111 – ضعیف ابن ماجہ ص 96، 95 – التلخیص 83/2/1 – المنتقی مع نیل 62/4/2 – مشکوٰۃ 454/1
اس حدیث کے بارے میں امام ابوداؤد اور منذری رحمہما اللہ نے تو سکوت اختیار فرمایا ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے نزدیک یہ ضعیف نہیں ہے۔ البتہ” تلخیص الحبیر“ میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے۔
تلخیص الحبیر 83/2/1
اور امام شوکانی رحمہ اللہ نے نیل الاوطار میں لکھا ہے کہ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن عبدالاعلیٰ بن ابی فروہ الفروی المدنی مجہول ہے۔ اور علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں” میزان الاعتدال “میں کہا ہے:
يكاد بعرف
کہ یہ تقریباً غیر معروف ہیں (جن کا کوئی اتا پتہ نہیں)۔
اور اس روایت کے بارے میں کہا ہے کہ یہ منکر ہے۔ اور ابن القطان نے بھی اس راوی کے بارے میں کہا ہے کہ اس روایت کی سند کے سوا کسی دوسری روایت یا کتب رجال میں کہیں بھی اس کا ذکر نہیں ملتا۔
نیل الاوطار الشوکانی 163،162/4/2، طبع الریاض
یہی وجہ ہے کہ شیخ ناصرالدین الالبانی نے بھی اسے تحقیق مشکوٰۃ میں ضعیف قرار دیا ہے۔ اور اسے ضعیف سنن ابی داؤد اور ضعیف ابن ماجہ میں وارد کیا ہے۔ لہٰذا یہ حدیث تو قابل استدلال نہیں۔ البتہ عذر سے احکام میں جو تغیر واقع ہوتا ہے۔ اس کی بناء پر بارش وغیرہ میں مسجد میں نماز عید کی گنجائش ملتی ہے۔
اور اہل مکہ کے عمل کو بنیاد بناتے ہوئے شافعیہ کا مسجد میں نماز عید کا افضل ہونے کا قول محققین کے نزدیک مرجوح ہے۔ کیونکہ انہیں تو ممکن ہے کہ یہ عذر ہو کہ مکہ شہر کے باہر کھلی جگہ قریب نہیں بلکہ وہ پہاڑوں سے گھرا ہوا شہر ہے۔ اور مسجد حرام بڑی وسیع ہے۔ اور تمام اہل مکہ کے لیے کافی ہو جاتی ہے۔
لہٰذا اس کی وسعت اور باہر جگہ کی قلت والی مجبوری و عذر کی بناء پر وہ مسجد میں پڑھتے چلے آ رہے ہیں۔ اس سے فضلیت ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ افضلیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمیشہ والے عمل سے ہی ثابت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ مسجد نبوی بھی فضیلت والی مسجد ہے۔ اس کے باوجود ”کتاب الام“ میں خود امام شافعی رحمہ اللہ کے بقول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ مسجد سے باہر عیدگاہ میں جا کر نماز عید پڑھی تو یہی افضل ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسے فعل پر پیشگی نہیں کیا کرتے تھے جو کہ غیر افضل ہوتا۔
بلکہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ افضل عمل کی توفیق ارزاں فرماتا تھا۔ سوائے بیانِ جواز کے بعض استثنائی حالتوں کے جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کبھار غیر افضل پر بھی عمل کر لیا کرتے تھے، تا کہ اس کا جواز واضح ہو جائے۔
انظر نیل الاوطار 163/4/2 – وقد عقب الشوکانی علیٰ حافظ ابن حجر

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے