سوال
ایک مسجد میں جماعت اپنے وقت پر قائم ہو جاتی ہے، جب وہ جماعت نماز مکمل کر لیتی ہے تو اس کے بعد چند افراد مسجد میں تشریف لاتے ہیں۔ چونکہ انہوں نے نماز باجماعت ادا نہیں کی ہوتی، وہ دوبارہ جماعت کرانا چاہتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس موقع پر اقامت ضروری ہے یا نہیں؟ اگر ضروری ہے تو وضاحت فرمائیں۔
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
◈ دوبارہ جماعت کے لئے اقامت لازم تو نہیں ہے۔
◈ تاہم اس کے مستحب ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
دلیل
صحیح بخاری میں "باب فضل صلواة الجماعة” کے تحت حضرت انس رضی اللہ عنہ کا عمل ذکر ہوا ہے:
وَجَاءَ انس بن مالک اِلی مَسْجِدِ قَدْ صُلِّیَ فِيه فَاَذَّنَ واقام وَصَلیٰ جَمَاعَة
(صحیح البخاری ج۱ ص۷۹)
ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک مسجد میں تشریف لائے جہاں جماعت ہو چکی تھی۔
تو آپؓ نے اذان دی، اقامت کہی اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کی۔
حاصلِ مسئلہ
◈ اس اثر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دوبارہ جماعت کرانے کے لئے اقامت کہنا جائز ہے۔
◈ اس بارے میں کوئی دلیل ممانعت کی نہیں ملتی۔
◈ لہٰذا حضرت انس رضی اللہ عنہ کے عمل کے مطابق اقامت کہنا بہتر ہے، لیکن یہ کوئی لازمی شرط نہیں ہے۔
ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب